مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے اپنے خط۔ میں کہا کہ یکساں سول کوڈ ایک سنگین معاملہ

تلنگانہ قومی

یکساں سول کوڈ کو لے کر ملک بھر میں جاری بحث آئینی نہیں
نفاذ سے قبل مذہبی برادری اور رہنماؤں سے بات چیت ضروری

نئی دہلی : 30؍اپریل
(زیڈ این ایم ایس)
مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا نے یکساں سول کوڈ کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ اس خط کی ایک کاپی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیجی گئی ہے۔ پی ایم مودی کو لکھے خط میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ یکساں سول کوڈ کو لے کر ملک بھر میں جاری بحث آئینی نہیں ہے۔ حکومت کا کام عوام کے مسائل حل کرنا ہے مذہبی مسائل پیدا کرنا نہیں۔ اس لیے بورڈ نے اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ ایک سنگین معاملہ ہے۔ اس پر بحث ضروری ہے۔ بورڈ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے شادی اور طلاق کا مسئلہ بھی متاثر ہوگا۔

قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر معین احمد خان نے مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کی جانب سے پی ایم مودی کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنی مذہبی رسومات کے مطابق شادی کرنے کی اجازت ہے۔ مسلم کمیونٹی سمیت کئی برادریوں کو ملک کی آزادی سے قبل اپنی مذہبی رسوم کے مطابق شادی اور طلاق کے حقوق مل چکے ہیں۔ مسلم کمیونٹی کو 1937 سے مسلم ایپلیکیشن ایکٹ کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

مذہبی رہنماؤں سے بات چیت کے بعد حکومت کو یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
خط میں کہا گیا کہ ملک کو آزادی ملنے کے بعد بھی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں یکساں سیول کوڈ سے متعلق بحث میں کہا تھا کہ مرکزی یا ریاستی حکومت کو نافذ کرنے سے پہلے مذہبی برادری یا ان کے مذہبی رہنماؤں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ یہ اس کے بعد ہی اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت والی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ ایکٹ لایا جائے گا۔ جب اتر پردیش کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ سے اس بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کے بڑے وعدوں میں سے ایک رہا ہے۔ اس کا سب کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔

اتر پردیش حکومت بھی اس سمت میں سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے حق میں ہیں اور یہ یوپی اور ملک کے لوگوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ بھی بی جے پی کے بڑے وعدوں میں سے ایک ہے۔

یکساں سول کوڈ ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی ہندوستان میں رہنے والے ہر شہری کے لیے ایک مشترکہ قانون ہوگا۔ خواہ وہ کسی بھی ذات، مذہب کا ہو۔ یہی نہیں شادی، طلاق اور زمین کی تقسیم میں تمام مذاہب کے لیے صرف ایک قانون لاگو ہوگا۔

اب تک ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پارسیوں کا پرسنل لاء لاگو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوؤں، جینوں اور سکھوں کے لیے ہندو شہری قانون ہے۔ یکساں سول کوڈ ایکٹ کے نفاذ کو آرٹیکل 44 کے تحت ریاست کی ذمہ داری بتائی گئی ہے۔ تاہم آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔