ملک میں این پی اے ایک بڑا اسکام 

تازہ خبر تلنگانہ
ہر چیز پر ٹیکس ناقابل قبول جی ایس ٹی کو فوری برخواست کرنے کی مانگ
حیدرآباد۔7؍ا  گسٹ
(زین نیوز)
چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے عوام پر ٹیکس کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر بھی برہمی کا اظہار کیااور سوال  کیا لوگ اسے برداشت کر سکتے ہیں؟ انہوں نے ہر چیز پر ٹیکس ناقابل قبول قراردیا جی ایس ٹی کو فوری برخواست کرنے کی مانگ کی اور پوچھا کہ  کیا نیتی آیوگ میں اس معاملے پر بات ہوئی ہے؟ کیا یہی تعاون کا جذبہ ہے؟
انہوں نے ناراضگی بتائی کہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ کس چیز پر جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔ جب وہ باہر آئے تو پتہ چلاکہ دودھ پراور قبرستانوں پر بھی ٹیکس عائد ہوا ہے۔کیا ٹیم انڈیا کا یہی مطلب ہے؟ ان وجوہات کی وجہ سے نیتی آیوگ اجلاس کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
کے سی آر نے کہا کہ یہ فیصلہ اس امید پر لیا گیا کہ وزیر اعظم عوام کی اکثریت کے جذبات کو سمجھیں گے ۔کیا کسی ملک میں عدم تشدد کے ذریعے آزادی دلانے والے ‘فادر آف نیشن’ کے نام سے موسوم شخص کی توہین کی جا سکتی ہے ۔ جیساکہ یہاں ہورہا ہے۔وزیراعظم نیتی آیوگ کے لوگو پر تو بہ ظاہرگاندھی کا چشمہ لگاتے ہیں مگر دسوری جانب ان کی پارٹی کے افراد اور سنگھی ٹولاگاندھی جی کی توہین کرتے ہیں کہ انکی کوئی خاصیت نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کیا ایسا کہا جاسکتا ہے؟
اپنی مرضی کے مطابق قیمتیں بڑھانے اور عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اب یہ کہہ رہے ہیں کہ مفت کی اشیا پر پابندی لگائی جائے۔ کیا یہ مفت ہے اگر کسان کا رشتہ دار اس نیت سے دے کہ کسان مصیبت میں ہے اور اگر کوئی کسان جس کے پاس ایک ایکڑ یا اس سے زیادہ زمین ہے مر جائے تو خاندان سڑک پر آجائے؟ کے سی آر نے برہمی کا اظہار کیا کہ اگر وہ مفت ہیں تو وہ این پی ایل کیوں دے رہے ہیں؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک  کے سامنے اس کی وضاحت کرے۔اگر ہزاروں لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے والی کمپنیاں اچانک نقصان کا سامنا کرتی ہیں اور انہیں بند ہونا پڑتا ہے تو بہت سے لوگ سڑک پرآجائیں گے جیساکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کئی جگہوں پر ہوا۔ اس صورت حال کے اعادہ سے بچنے کے لیے، حکومتیں کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہیں جب تک کہ وہ دیوالیہ نہ ہو جائیں۔
انہیں NPLs کہا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ  یہ این پی اے بھی این ڈی اے حکومت میں ایک بڑا اسکام بن گیا ہے۔2004-05 میں نان پرفارمنگ اثاثے (این پی اے) 58 ہزار کروڑ روپے تھے، 2014 تک یہ 2 لاکھ 63 ہزار کروڑ روپے تھے جو  20 لاکھ 7 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے مرکز سے سوال کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اب کتنا ہے؟۔ یہ این ڈی اے حکومت کا جال بن گیا ہے۔ حکومتی رہنما اور این پی اے مل کر ایک بڑا اسکام کر رہے ہیں۔ جیسے ہی وہ این پی اے کا اعلان کرتے ہیں، وہ حکومت سے بھاری فنڈز منظور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر میک اِن انڈیا، نیتی آیوگ انٹلیکچوئل پراپرٹی اور عظیم حکومت کی پالیسیاں ہیں تو این پی ایل کو نیچے آنا چاہیے۔ ان کے دور حکومت میں اس میں دس گنا اضافہ کیسے ہوا؟ کیا یہ حکومت کی نااہل کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت نہیں؟ ۔ بینکوں میں قرض کی چوری بھی لاکھوں کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ کیا یہ ترقی کی علامت ہے؟ ۔ وزیر اعظم کہتے ہیں انڈیا بنائیں۔ لیکن پتنگ بازی کے منجے سے لے کر شیونگ بلیڈ اور دیوالی کے پٹاخے تک سب چین سے آتے ہیں۔
میک ان انڈیا کا کیا یہی مطلب ہے؟کے سی آر نے کہا کہ اگر ہندوستان میں 83 کروڑ ایکڑ زمین ہے تو 40 کروڑ سے زیادہ زمین زراعت کیلئے موزوں ہے اور دریاں کے ذریعہ بھی وافر پانی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کے کسی دوسرے ملک کی منفرد خصوصیت نہیں ہے۔لیکن ہمارا ملک کنڈی کی دال اور پام آئل جیسی بنیادی ضروریات بھی درآمد کر رہا ہے،۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ کیا یہی نیتی آیوگ کی قابلیت ہے؟ کیا یہ مرکزی حکومت کی استعداد ہے؟ ۔