چیف منسٹرکا الزام‘ وزیر اعظم ایک بھی وعدہ وفا نے کرسکے ’ ملک میں شدت پسندی کے فروغ کی شکایت
حیدرآباد۔6؍ا گسٹ
(زین نیوز)
چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل دہلی میں ہونے والی نیتی آیوگ میٹنگ کا بائیکاٹ کریں گے۔ آج پرگتی بھون میںمیڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئیکہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ بہت تکلیف دہ ہے لیکن یہ ایک جمہوری ملک میں مرکزی حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج کا بہترین طریقہ ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہاکہ’ملک کی آزادی کی جدوجہد کے دنوں میںایک موقع پر جبکہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کانگریس کے سربراہ تھے مباحثے ہوتے تھے۔ ہندوستان کے عظیم اولڈ مین دادا بائی نوروجی نے بھی اس میں حصہ لیا تھا۔ کیونکہ آزادی سے پہلے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے کہ ہمیں اب آزادی کی ضرورت نہیں ہے۔تشکیل تلنگانہ کے وقت بھی کچھ سنیاس ذہنیت کے افراد نے اسی طرح کی باتیں کی تھیں۔ ایسے لوگوں کی ذہن سازی کیلئے بات چیت کی گئی تاکہ آزادی کے بعد ہندوستان کو کس سمت لیجایا جائے ۔
انہوں نے بتایاکہپلاننگ کمیشن نے مرکزاورریاست کے مابین تعلقات کے طور طریقے بناے۔ہندوستان کے ماضی کے پلاننگ کمیشن کے فیصلے، اسی کی شکل ہے۔ پنچ سالہ منصوبوں کے بعد سالانہ منصوبوں پر عمل کیا جانا چاہیے20، 30 سال کی دور اندیشی کے ساتھ منصوبے بنائے جاتے۔پنڈتنہرو کے وزیر اعظم بننے کے بعد اس کا باضابطہ وجود عمل میںآئیا۔ ملک کی ترقی کیلئے بہت سے منصوبے بنائے گئے جو، صنعتوں، بندرگاہوں‘ لائف انشورنس کارپوریشن ‘ ہندوستانی ریلویز‘ ہوائی اڈوں کی شکل میںنظر آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی نامی گرامی ہستیوں نے بطور ممبر کام کیا۔ اس کا ممبر ہونا باوقار تھا۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے ماہرین معاشیات، مختلف شعبوں کے سائنس دانوںکی تجاویز، دنیا کے کئی ممالک میں جاری منصوبے، ان پر عمل درآمد اور ان کے نتائج، غیر جانبدارانہ انداز میں ہوا کرتے تھے۔ اپنی برہمیکا اظہار کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ جب نیتی آیوگ کا قیام عمل میں آیا تو وہ بہت خوش تھے کہ ہندوستان کیلئے اچھے دن آ گئے ہیں، لیکن اب صورتحال پوری طرح بدل چکی ہے۔
بدقسمتی سے یہ ایک بیکار انٹرپرائز نکلا ۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کی طرف سے منعقدہ اجلاس میں وہ بھی موجود تھے اور انہیں وزیر اعظم کے الفاظ پسند بھی آئے تھے۔ پلاننگ کمیشن کے مخصوص ضابطے تھے جو ریاستی بجٹ کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔مودی کے وعدے، بی جے پی کے وعدے اور نیتی آیوگ کا قیام ایک مذاق بن گیا ہے۔
Watch Live: CM Sri KCR addressing the media from Pragathi Bhavan https://t.co/wjTr7gTe6J
— Telangana CMO (@TelanganaCMO) August 6, 2022
ملک کے حالات اتنے خراب ہوتے جارہے ہیں جس کی سابق میں نظیر نہیں ملتی۔ نفرت اور عداوت ‘ عدم مساوات اور شدت پسندی پروان چڑھا رہی ہے۔انہوں کہا کہ ملک کے تمام کسانوں نے دارالحکومت میں 13 ماہ تک دھرنا دیا جس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ۔
ان میں سے 700-800 تو فوت ہوئے جس کے بعد وزیراعظم کو حوش آیا اور کسانوں سیمعافی مانگ کر اس سے دستبرداری اختیارکی۔وزیر اعظم نے ایک بھی وعدہ وفا نہیں ہوا۔
قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔چیف منسٹر نے سوال کیا کہ نیتی آیوگ نے کیا حاصل کیا ہے؟ نہ پینے کا پانی ہے نہ کھیتی کا پانی۔ نہ بجلی، نہ روزگار۔ بے روزگاری کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کروڑوں کی سرمایہ کاری بیرون ملک جا رہی ہے۔ بد بختی کی بات ہے کہ ضمانت روزگار کے ملازمین کوتک جنتر منتر پر دھرنا دیناپڑا۔ کی بدقسمتی بھی اٹھانی پڑی۔