ملک کی ترقی تو نہیں البتہ فرقہ پرستی میں اضافہ

تازہ خبر تلنگانہ

فرقہ وارانہ پکجہتی مذہبی آہنگی کو ختم کرتے ہوۓ فرقہ واریت اور آپسی منافرت کو ہوا دی جارہی ہے

کے سی آر کا بی جے پی پر بالراست طنز

حیدرآباد :16 مارچ
(زین نیوز)

اسمبلی و کونسل میں طویل مباحث کے بعد تصرف بل کو منظور کرلیا گیا ۔ قبل ازیں چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ یوکرین میں طبی تعلیم کے حصول کی خاطر جا کر حالات کے خراب ہونے سے واپس ہونے والے طلبہ کی پڑھائی کیلئے چاہے کتنی ہی رقم کیوں نہ خرچ ہو حکومت اس کو برداشت کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔

آج اسمبلی میں تصرف بل پر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا جواب دیتے ہوۓ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مختلف نکات پر بات کی اور مرکزی حکومت کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کروڑ ہا افراد غربت سے گھرے ہوئے ہیں۔ بے روزگاری میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ جی ڈی پی میں گراوٹ آئی کمپنیاں بند ہوۓ ۔ ملک میں آتما نربھر زوال پذیر ہے اس کے با وجود وہ بلند بانگ دعوی کئے اگر ملک میں کسی چیز کا اضافہ ہوا ہے تو وہ فرقہ واریت اور مذہبی

منافرت کا اضافہ ہوا ہے۔کے سی آر کا بالراست مرکز کی بی جے پی کی طرف اشارہ تھا۔ کے سی آر نے مزید کہا کہ مذہبی جنون وفرقہ واریت کے ذریعہ ملک کو تباہی کی سمت جھونکا جا رہا ہے۔

کے سی آر نے ملک کے نوجوانوں، دانشوروں اور زندہ ضمیر سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ملک کے لئے بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آج جو حالات ہیں اس سے سالوں سے حالات یوں ہی رہیں گے تو کی گئی کوششیں نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہوں گے اور ملک کے حالات تباہ ہی کے دہانے پر آ کھڑے ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ 20 ہزار سے زائد طلبہ یوکرین میں پھنس گئے تھے میسب ہندوستانی بچے میڈیسن کی تعلیم کو حاصل کرنے کے لئے یوکرین گئے ہوۓ تھے۔ان میں ہماری ریاست کے 740 بچے بھی تھے ۔ انہیں جنگ زدہ یوکرین سے واپس لانے کے لئے دہلی میں ریسڈنٹ کمشنر سے بات چیت کی گئی اس میں سے 700 سے زائد بچے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے سے گئے ہوئے تھے۔

وہاں حصول تعلیم کے لئے 25 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں تو ہمارے پاس اس کا خرچ ایک کروڑ روپے کے آس پاس ہے۔

غریب بچے جو اس کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوتے ان کے سر پرست انہیں بحالت مجبوری بھجوایا اور یہ طلبہ کوئی اور غرض سے نہیں بلکہ حصول تعلیم کی غرض سے گئے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے جانے کا مقصد کیا تھا اس کا جواب ہے کہ وہ حصول تعلیم کے لئے گئے تھے یہاں ان کو کوئی پوچھنے والا ہی تھا۔ یوکرین کے حالات کیا کیسے ہوں گے اس تعلق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کہیں ایک کوششوں کے ذریعہ ان سب کو وطن کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی اور اس کے لئے ان کے ٹکٹ کا خرچ بھی برداشت کیا۔

اب ان کے مستقبل کا مسئلہ ستارہا ہے۔ کیا ان کی تعلیم ادھوری رہے گی یا وہ دوبارہ یوکرین جائیں گے اور اس کے لئے وہاں کے حالات ساتھ دیں گے اور وہاں کیا کچھ ہونے والا ہے اس پر کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوۓ حکومت تلنگانہ یوکرین سے واپس تمام طلبہ کی مفت میں تعلیم کی فراہمی کا موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اس سلسلہ میں حکومت ہند کو مکتوب روانہ کیا جاۓ گا اور مرکز پر زور دیا جائے گا کہ مذکورہ بچوں کی تعلیم ریاستی حکومت برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں ان کی حکومت چاہتی ہے کہ یہ بچے تعلیم حاصل کر میں اور ان کی تعلیم بھی ادھوری نہ ہوں۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس سلسلہ میں چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر مرکز کو ایک مکتوب روانہ کر میں ۔ مگر حیرت کی بات ہے بعض افراد میں کہہ رہے ہیں طلبہ کس کی مرضی سے یوکرین گئے ہیں تھے؟

انہوں نے کہا کہ بنگلور سے تعلق رکھنے والے نوین نامی نوجوان کے فوت ہونے سے اس کے ماں باپ دل شکستہ ہیں ۔ تنقید کرنے والوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اگر اس پر بات کی جاتی ہے تو انہیں ملک کا غدار ٹھہرایا جا تا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔؟ انہوں نے کہا کہ حالات اور رویہ میں تبدیلی نہیں لائی گئی تو یہ ملک کے لئے مستقبل میں خطرہ ثابت ہوگا۔ اور روزگار کے جو کچھ بھی مواقع ہیں اس سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

ایسے بھی امکانات نہیں ہیں کہ مستقبل میں پھر سے نوکریاں ملیں گی۔ بھیا تک صورتحال ایک کے بعد ایک پیدا ہوتے ہی جارہے ہیں۔ ملک میں انسانیت کو دانستہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔فرقہ وارانہ پکجہتی مذہبی آہنگی کو ختم کرتے ہوۓ فرقہ واریت اور آپسی منافرت کو ہوا دی جارہی ہے۔

انہوں نے مثال دی کہ دو کے مقابلے چار کی اکثریت کے زعم میں حملہ کرنے کے جس طریقہ کار کو اپنایا جارہا ہے کیا وہ کیا ملک چلانے والوں کیلئے زیب بھی دیتا ہے ملک چلانے کا یہی طریقہ کار ہے جس پر کے سی آر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔