منصب امامت کے لئے مفتیوں کو نہیں متقیوں کو تلاش کریں

تازہ خبر مذہبی

رشحات قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءضلع نظام آباد تلنگانہ
یہ ایک سچی حقیقت ہیکہ جس کا علم جتنا زیادہ ہوگا وہ اسی قدربڑاعالم وفاضل کہلاے گا خواہ وہ دنیاوی اعتبارسے بڑی ڈگریوں کا حامل ہوں یا دینی حوالہ سے بڑی سندیافتہ ہوں بہرحال جس کا علم بڑااس کا رتبہ بھی بڑاہوتاہے اور یہی اصول قرآن مجید نے بھی بتلادیا کہ علمی تفوق وبرتری میں لوگ کم وزیادہ ہوتے ہیں وفوق کل ذی علم علیم القرآناوریہ کوی معیوب بات بھی نہیں ہے چونکہ ہر انسان اپنی اپنی بساط اور توفیق الہی کے مطابق اکتساب فیض کرتا ہے

لیکن بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات لکھی جاے گی کہ موجودہ زمانہ میں بعض کم علم یا غیر دانشمند لوگ دانستہ یا نادانستہ طورپر اہل علم کے مرتبہ کو خواہ مخواہ گرانے یا گھٹانے کی مذموم کوشش کرکے کسی کو بڑا اورمعتبر کسی کو چھوٹا اور غیر معتبر منوانا چاہتے اوریہ سعی لاحاصل اکثر وبیشتر مساجد کے ائمہ کرام کے ساتھ دیکھنے اورسننے کو ملتی ہے جو انتہای مذموم اورقابل ترک عمل ہے

جس سے عوام وخواص سب ہی کو گریز کرنےکی ضرورت ہےمن چاہی ونفس پرستی کےاس پرفتن دورمیں جہاں ہر آدمی اپنی حیثیت کو مختلف طریقوں اورالگ الگ زاویوں سے منوانا چایتا ہے وہیں ایک عام رواج مساجد کمیٹی کے ذمہ داران کی جانب سے یہ دیکھنے اورسننے کو مل رہا ہیکہ وہ اپنی مرضی اورمن کی خواہش کی تکمیل کی خاطر اپنی مسجد کے قابل ولائق حافظ قرآن یا عالم دین اوراچھے قاری قرآن کو خدمات سے معزول کرکے مفتیوں کی تلاش شروع کررہے ہیں تاکہ انہیں یہ تمغہ اورامتیاز حاصل ہوکہ ان کے زمانہ صدارت میں امامت کے لئے مفتی کا انتخاب عمل میں آیا اور اس کو ایک بڑا اعزاز سمجھ کر موجودہ قابل امام کے مرتبہ کو گرانا چاہتے ہیں

امامت کا مقصد شریعت کی نگاہ میں کیا ہے؟ اور منصب امامت کے حاملین میں کیا اوصاف پاے جانا چاہیے؟ اس سے صرف نظر کرکے محض مفتی کی تلاش وجستجو سے کوی فائدہ اورحاصل نہیں ہے اس سلسلہ میں عوام الناس مصلیان مسجد اور بطورخاص انتظامی کمیٹی کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ امامت کے حقداروں اور نگاہ شریعت میں امامت کے لئے استحقاق رکھنے والوں کی تفصیلات سے آگاہ ہوں پھر کوی قدم اس جانب اٹھایا جاے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہوگاقرآن وحدیث کے مطالعہ اورشریعت اسلامیہ کے بتاے ہوے اصولوں کی روشنی میں امامت کی ذمہ داری اومنصب کس قدراہمیت کی حا مل ہے اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث پاک کی تشریح پیش خدمت ہے

من ام قوما فلیتق اللہ جوشخص کسی قوم کی امامت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرےحدیث پاک سے معلوم ہو اکہ امام کے لےء سب سے پہلے مفتی نہیں بلکہ متقی ہونا ضروری ہے اوریہ سمجھ لے کہ وہ ایک ذمہ دار ہے اپنی ذمہ داری کے بارہ میں اس سے سوال ہوگا اگروہ اچھی امامت کرے گا تو اس کو اپنے پیچھے نماز پڑھنے والے تمام مصلیوں کی نماز کا ثواب ملے گا جبکہ نمازیوں کے ثواب میں کوی کمی نہیں آے گی اورجو بھی امامت میں کمی کوتاہی آے گی تو اس کا وبال بھی امام پر ہی ہوگا اس لئے ئمہ کرام کو چاہیے کہ وہ ہر وقت اس ہدایت نبوی کو پیش نظر رکھے مسائل امامت سے واقفیت ورع اور تقوی کا اہتمام امانت ودیانت اور حسن اخلاق کا التزام کریں چونکہ ائمہ کرام شعائر اسلام کی حیثیت رکھتے ہیں

ان کی عزت قوم کی عزت ہے ان کی رسوائی میں پوری قوم کی رسوای ہے جو امت مسلمہ کے ایک ایک فردکو بھی سمجھنے کی ضرورت ہےنیز جماعت کی نماز کا سارا مدار امام پر ہی ہوتاہے اسی لےء شریعت مطہرہ نے ائمہ کو متنبہ کیا ان کو اپنے مقام ومنصب کا خیال رکھنے کی ترغیب دی اور اس عظیم ذمہ داری کو پوری امانت ودیانت کے ساتھ انجام دینے کی تاکید فرمای امامت کی شرائط میں بنیادی طورپر جن باتوں کالحاظ ضروری ہے

ان میں سب سے پہلے مسلمان مردہونا عاقل بالغ ہونا قرآت قرآن پر قادرہونا اوہر قسم کے عذر سے پاک وصاف ہونا ہے نیز وہی انسان امامت کا حقدار بن سکتا ہے جو نماز کے متعلقہ مسائل سے جانکاری رکھتا ہوں اچھی آواز اور خوش الحانی کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں اور تقوی وطہارت والی زندگی گذارتا ہوں تدین اتنا ہوں کہ وہ کبائر یعنی بڑے بڑے گناہوں سے بچتا ہوں اس اعتبار سے اگر دیکھا جاے تو امام کے لئے مفتی کا ہونا کوی لازمی شرط نہیں ہے بلکہ متعلقہ مسائل سے واقفیت اصل الاصول ہے کہ نماز کب پڑھنا افضل ہے کن باتوں سے نماز میں کراہیت آتی ہے سجدہ سہو کب واجب ہوتا ہے مفسدات نماز کیا کیا ہیں

ان ضروری باتوں سے واقفیت کافی ہوجاے گی بشرطیکہ وہ قرآن مجید کو اچھے انداز سے یاد وحفظ کے ساتھ پڑھنے پر قادر ہوں اقرؤھم بالقرآن کو امامت کے لےء مقدم رکھا جاے گا ایسے بیت سارے واقعات کتب احادیث میں موجود ہیں جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کے لےء کبار صحابہ کرام کی موجودگی میں ان لوگوں کو امامت نماز کے لئے آگے بڑھایا جو گرچہ عمر وعلم میں چھوٹے تھے مگر قرآن کریم کو زیادہ اور اچھاپڑھنے کا ہنر رکھتے تھے

انہی روایات اور شرائط امامت کو سامنے رکھتےہوے عوام الناس اور خواص کو چاہیے کو ایسے امام کو تلاش کریں جو تقوی کے اعلی معیار کو پہونچے ہوے ہوں متقی امام کومفتی امام پر ترجیح دی جاے خود قرآن کریم نے بھی اس بات کو واضح طورپر ذکر فرمادیا کہ ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ جو متقی ہوگا وہی معزز ومکرم شمار کیا جاے گا

یہاں علم اور ڈگریوں اوبڑی بڑی اسنادات کو معیار نہیں بنایا گیا بلکہ تقوی اللہ کو بنادی حیثیت دی گیء جس سے صاف مترشح ہوتا ہیکہ امامت نماز کے لےء بھی تقوی کو بنیاد بنایا جاے نہ کہ ڈگریوں کو کسی تنظیم سوسائٹی یا انتظامی کمیٹیوں اور افراد کو ٹارگیٹ کرنا راقم کا مقصد نہیں مگرشہرکے بعض گوشوں اور منڈلوں کی مساجد سے ایسے مطالبے ہم تک پہونچے ہیں کہ ہمیں مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے ایک مفتی کی تلاش ہے

تو دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس سلسلہ میں کوی عام فہم راہ نمائی کی جاے تاکہ اس قسم کی سوچ اور ذہنیت رکھنے والے مسلمانوں کی کچھ اصلاح ہوجاے قوم مسلم کے لئے یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ وہ اپنی مسجد کے سابقہ امام کو اچھاقرآن بھی پڑھتاہوں مسائل نماز سے واقف کار عالم دیں بھی ہوں ان سب کے باوجود محض اپنی انا کی خاطر ان خدمت گذاروں کو معزول کرکے مفتی کو لاناکہاں کی عقلمندی ہے ؟ احقاق حق اور اس اہم مسئلہ سے واقفیت کی خاطر مذکورہ تحریر لکھی گیء ہے