اقتباسات
از : عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
کلاسک فنکشن ہال نظام آباد میں مولاناسید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی نے مرد وخواتین سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ موجودہ حالات میں جس قدر فتنے روے زمین پر ایک ساتھ جمع ہوے ہیں تاریخ کے کسی دور میں اتنے فتنے نہیں آے ہیں
یہ فتنے تعدادووسعت کے اعتبار سے اپنی قوت وطاقت کے اعتبارسے اپنی خطرناکی وہلاکت خیزی کے اعتبارسے انتہای پرخطر ہیں یہ دور تاریخ انسانی کا ایک بدترین دور ہے
ان فتنوں سے اپنے آپ کو اپنے دین وایمان کو بچانا ازحد ضروری ہے اور سب سے بڑا دجالی فتنہ اس دور کا وہ انٹرنیٹ ہے جس میں آج پوری کی پوری انسانیت پھنسی ہوی ہے
لیکن ان سب کے باوجود اگر کوی بندہ مومن مرد وعورت ان فتنوں سے بچنا چاہے تو اللہ کے نبی نے ایک آسان نسخہ بتایا جس کو اپنا کر ہم محفوظ ہوسکتے ہیں
جو لوگ اس جال میں پھنسے ہوے ہیں ان کو شاید اس انٹرنیٹ کی ہلاکت خیزی کا اتنا اندازہ نہ ہو بہ نسبت ان لوگوں کے جو اس فتنہ سے اپنے آپ کو دوررکھے ہوےہیں جس طرح کیچڑ میں چلنے والے کو بارش اور کیچڑ کا احساس کم ہوتا ہے اور ان لوگوں کو اس کا احساس زیادہ ہوتا ہے جو صاف ستھرے کپڑےپہن کر کسی فنکشن میں جانا چاہتے ہیں کسی تقریب میں شرکت کے لےء نکلتے ہیں
یقینا آج کوی جگہ خواہ وہ مسجد ہی کیوں نہ ہوں اس دجالی فتنہ سے محفوظ نہیں ہے
لیکن اللہ تعالی نے ان فتنوں سے بچنے کا اپنے بندوں اور بندیوں کو حکم دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنے خواہ کسی بھی اعتبار سے کیوں نہ پھیل جائیں ان سے بچنا ممکن ہے ناممکن نہیں ہے تب ہی تو اللہ پاک نے بچنے کا حکم دیا ہے بس تھوٰی سی فکر اور نیت اور مجاہدہ کی ضرورت ہے اور حضور علیہ السلام نے یہ بشارت بھی دی ہیکہ ان حالات میں جوبندہ ان فتنوں سے بچ کر زندگی گذارلے اس کو نبی کے ساتھ رہ کر اعمال کرنے والے صحابہ کرام جیسا ثواب اور مقام ملے گا مشکوۃ المصابیح کی روایت کاحوالہ دیتے ہوے فرمایاکہ
ایک زمانہ ایسا آے گا جس میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاے گا کہ اول زمانہ کے لوگ بہتر تھے یا آخر زمانہ کے لوگ افضل ہیں وہ اس دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنے والے لوگوں کے بارہ میں فرمایاگیا
دنیا میں ایسے کئ واقعات وجود میں آے ہیں جہاں انتہای خطرناک فتنہ کے وقت میں بھی اہل ایمان نے اپنے آپ کو بچاے رکھا
حضرت یوسف علیہ السلام کو کھلے عام گناہ کی دعوت دی گئ آپ نے اللہ کی مددونصرت کا سہارا لے کر اپنے آپ کو بچالیا اسی طرح ایک نوجوان جو فتنوں کے مرکز والے ملک میں رہ کر اپنے آپ کو گناہ سے بچایا جہاں اس کو گناہ کرنے سے کوی طاقت روکنے والی نہیں تھی سب اسباب گناہ موجود اور ہر قسم کے موانع رفع ہوچکے تھے لیکن ا س نوجوان نے اپنے آپ کو بچاے رکھا
جس سے معلوم ہوتا ہیکہ انسان اگر بچنا چاہے تو ممکن ہے کہ وہ محفوظ رہ جاے
گناہوں اور فتنوں سے اپنے آپ کو بچانے اور محفوظ رکھنے کا
نبوی نسخہ ہے کہ ہم
حقیقی معنی میں مسلمان کامل بن جائیں
مسلمان یہ اسلام سے بنا ہے جس کے معنی ہے خودسپردگی اپنے آپ کو مکمل طورپر اللہ کے حوالہ کردینا بندہ جب کلمہ پڑھ لیتاہے تو گویا وہ اللہ سے عہد کررہا ہیکہ میں اپنی پوری زندگی آپ کی اطاعت میں گذاروں گا اوریہی ایمان کہ جان اور روح ہے جس کو اللہ تعالی قرآن مجید میں بھی فرمایا
ان الدین عنداللہ الاسلام
کہ اللہ کے نزدیک دین کی اصل حقیقت اور روح اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردینا ہے
دوستو اللہ کے نبی نے دجال کے فتنہ سے صحابہ کرام کو اتنا ڈرایا تھا کہ صحابہ فرماتے ہیں اگر ہم کسی مجلس میں ہوتے اور اس میں دجال کے فتنہ کا تذکرہ ہوتا اور مجلس سے اٹھ کر یم جاتےوقت راستہ میں اگر کھجور درخت سے پتوں کے سرسراہٹ کی بھی آواز آجاتی تو ہم لوگ ڈر جاتے کہ کہیں دجال فتنہ تو نہیں ہے
لیکن ہماری بے حسی کا عالم یہ ہیکہ ہم دجالی فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں اور ہمیں کوی خوف اور دکر واحساس تک نہیں ہے
ا سلےء اپنے آپ کو کامل مسلمان بنانا ضروری تاکہ ہم ان فتنوں سے بچ سکیں
آج ہمیں زہر کی خطرناکی معلوم ہے اس لےء ہر انسان اس سے بچنا چاہتا ہے لیکن چونکہ دجال کے فتنہ کی خطرناکی سے ہم لوگ واقف نہیں ہے اسی وجہ سے اس سے بچنے اور حفاظت فکر نہیں کررہےہیں