مہاراشٹر میں بچہ چوری کے شبہ میں چار سادھوؤں کی پٹائی۔6 گرفتار

تازہ خبر قومی
 بچوں کو اغواہوں  کی افواہیں کے بعد لنچنگ کا واقعہ
ممبئی: 14؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
مہاراشٹر کے سانگلی ضلع میں چار سادھوؤں پر حملے کے معاملے میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بچہ اغوا کرنے کے شبہ میں گاؤں والوں نے سادھوؤں پر وحشیانہ حملہ کیا۔ ان سادھوؤں کا تعلق اتر پردیش سے ہے چاروں سادھو اتر پردیش کے متھرا کے رہنے والے ہیں۔ ان سب کو ان کے آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے کہا کہ گاؤں والے سادھو کی بات چیت کو نہیں سمجھ سکے اور اس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔یہ تمام لوگ درشن کے لیے بیجاپور سے پنڈھار پور جا رہے تھے۔ مار پیٹ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، باقی کی تلاش جاری ہے۔
یہ سادھوؤں سانگلی کے لاونگا گاؤں میں مندروں کی زیارت کے لیے تھے۔ انہیں مبینہ طور پر وہاں کے گاؤں والوں نے بچہ اغوا کرنے کے شبہ میں مارا پیٹا۔ گاؤں والوں کا خیال تھا کہ یہ چور ہیں، جو بچوں کو اغوا کرنے آئے ہیں۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اجاگر ہوا۔

معاملہ وائرل ہونے پر مہاراشٹر میں شندے حکومت پر اس واقعہ پر کارروائی کرنے کا دباؤ تھا۔ ریاستی ڈی جی پی نے اس سلسلے میں سانگلی میں مقامی پولیس سے بھی بات کی۔سادھو متھرا ضلع سے مہاراشٹر آئے ہیں اور انہیں سانگلی ضلع سمیت مختلف مقامات کا دورہ کرنا تھا۔سادھوؤں گاؤں کے ایک مندر میں ٹھہرے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
مہاراشٹر میں جن سادھوؤں کو بے دردی سے مارا گیا وہ سب پنچادسنم اکھاڑے کے سادھو تھے۔ مہمندلیشور گرواگیری مہاراج اور ان کے شاگرد یاترا پر تھے۔ پولیس کی وجہ سے ان سادھوؤں کی جان بچ گئی لیکن انہیں متھرا واپس کردیا گیا۔ سادھوؤں نے کسی بھی ملزم کے خلاف شکایت درج نہیں کرائی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے انہیں پنڈھار پور جاتے ہوئے روکا۔ سوال پوچھنے پر یہ لوگ زبان کی وجہ سے ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکے۔ اس کے بعد ہی لوگوں کو شک ہوا کہ یہ سب چائلڈ لفٹر(اغوا) کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے انہیں مارنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے سادھوؤں کو لاٹھیوں سے مارا۔ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ اس دوران لوگوں نے سادھو کو جیپ سے باہر نکالنے کی کوشش بھی کی۔
پولیس نے تمام سادھوؤں کو ہسپتال میں داخل کرایا ہے۔ ابھی تک کسی نے موقف پر تبصرہ نہیں کیا۔ ان کی حالت بہتر ہوتے ہی ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ ابھی تک اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔