نئی تعلیمی پالیسی مساوات،فرقہ وارا نہ ہم آہنگی اور خود احتسابی کے نظریات کو فروغ دے گی۔جنید اقبال عثمانی

تازہ خبر قومی

دیوبند،10؍نومبر
(رضوان سلمانی)
ہندوستان کو تعلیمی وتکنیکی بلندیوں پر لے جانے اور خواندگی کو صد فیصد لے جانے کی غرض سے نئی تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی ہے۔اس نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اب بتدریج قدیم تعلیمی پالیسی کو ختم کرکے نئی تعلیمی پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کرنے کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے۔جو ہندوستان کے تابناک مستقبل کے لئے بنیادی چیز ہے ان خیالات کا اظہار ماہر تعلیم اور اسلامیہ انٹر کالج کے ٹیچر جنید اقبال عثمان نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر کے طلبہ وطالبات نہایت خوش قسمت ہیں کہ ان کے زمانۂ تعلیم میں قدیم تعلیمی نظام کو ختم کرکے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو متعارف کرایا جارہا ہے ۔اس نئی تعلیمی پالیسی کو ہم سب ’’نیشنل ایجوکیشن پالیسی‘‘کے نام سے جانیں گے۔انہوں نے طلبہ وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت جہاں طلبہ وطالبات کو جدید تعلیم وتکنیک سے آراستہ کیا جائے گا وہیں اس نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ہندوستان میں مساوات،فرقہ وارا نہ ہم آہنگی اور خود احتسابی کے نظریات کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
جنید عثمانی نے کہا کہ ان تمام تعلیمی سر گرمیوں کا مقصد ہندوستانی معاشرے کو تعلیمی وتکنیکی اعتبار سے بلند مقام تک لے جانا اور عالمی سطح پر سپر پاور بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت آئندہ دس سالوں میں تعلیمی اداروں میں طلبہ وطالبات کے تناسب کو بڑھا کر دوگنا یا اس سے زیادہ کرنا ہے۔

انہوں نے طلبہ وطالبات سے اپیل کی کہ وہ اعلیٰ ومعیاری عالمی سطح کی تعلیم کے حصول کے ساتھ اپنے آپ کو عالمی سطح کے تعلیمی مقابلوں کے لئے بھی تیار کریں۔جنید اقبال عثمانی نے تعلیم نسواں کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کواس وقت دنیاوی واخروی اعتبار سے خانگی اور معاشرتی زندگی سے متعلق بے شمار مسائل در پیش ہیں لیکن شرعی طور پر ان سب کے لئے احکام موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب علم کی فضیلت واہمیت اوراس کی عظمت سے واقفیت حاصل کرکے کوئی بشر زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوجاتا ہے تو واقعی وہ انسان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہم سب کو سمجھنی ہوگی کہ تعلیم کے بغیر عروج وترقی کی خواہش اور امید بے بنیاد ہے۔

جنید اقبال عثمانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے معاملات و معاشرت ،عبادات وعقائد اور اخلاقیات کا جس طریقہ سے مردوں کو مکلف بنایا ہے اسی طرح خواتین کے لئے بھی احکام دئیے ہیں چنانچہ علم کا حصول دونوں صنف کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا نصف حصہ ہیں اسلئے خواتین کی تعلیم وتربیت قوم اور معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے ناگزیر ہے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کی اخلاقی وتعلیمی آبیاری احسن طریقہ سے کرسکیں۔