نائٹ ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ جنسی زیادتی 

تازہ خبر تلنگانہ جرائم حادثات
حیدرآباد۔13؍اگست
 (زین نیوز)
ڈاکٹر کی نظر ہاسپٹل میں کام کرنے والی نرس پر پڑ گئی جس نے اسے اپنی حوس کا شکار بنانے کیلئے وغلایا اور کہا کہ تمہاری تنخواہ، جائیداد اور رنگت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ یہ کہہ کر نرس کے ساتھ  یہ کہتے ہوئے جنسی تعلقات قائم کرلیاکہ وہ اس کے ساتھ شادی رچائے گا۔بعد میں وہ اپنے وعدہ سے انحراف کیا جس پر نرس نے نارائن گوڑا پولیس اسٹیشن جاکر انصاف کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے بموجب مغربی گوداوری ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون حمایت نگر اسٹریٹ  نمبر 1 میں واقع ایک ہاسپٹل میں بطور نرس کام کر رہی ہے۔ رام نگر کا ایک نوجوان کے  سندیپ بھردواج اسی ہاسپٹل میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا ہے۔ وہ ڈیوٹی کے دوران نرس کو اس طرح ہراساں کرتا تھا جیسے وہ اس سے پیار کرتا ہو۔ فروری 2020 کے مہینے میں دونوں نے چار دن رات کی ڈیوٹی کی۔
 اس وقت کوٹم سندیپ بھردواج نامی ڈاکٹر نے ایک دن اسے اپنے چیمبر میں بلایا اور اس کے ساتھ زبردستی کی۔ اس کے بعد وہ شدید بیمار ہوئی بعد میں یہ نرس اپنے آبائی گاؤں چلی گئی ۔ڈاکٹر گھر میں نرس کو بار بار فون کرکے تنگ کرتا تھا۔ وہ اسے اس یقین کے ساتھ شہر لے آیا کہ اس کے سات اس کی شادی ہو جائے گی۔
اس نے نرس کو گاندھی نگر میں اپنے فلیٹ میں بغیر کسی کے علم و اطلاع کے رکھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے نوجوان خاتون کی تین بار عصمت دری کی۔خاتون نرس نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ڈاکٹر نے  اسے یہ کہتے ہوئے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ کم تر ذات سے تعلق رکھتی ہے۔علاوہ ازیں اس کو اس کے لحاظ سے جہیز بھی نہیں دے سکتی ۔
 اس نے ایک اور عذر پیش کیا کہ وہ اس کے والدین کو بھی یہ پسند نہیں ہے۔ متاثرہ کی شکایت کے مطابق انسپکٹر آر سرینواس ریڈی نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات  کاآغاز کردیا۔