رشحات قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
9505057866
اس دنیاجہاں میں مختلف قومیں آئیں ہر ایک کی اپنی تہذیب وتمدن رہا طورطریقے سب کے جداجدا رہے مختلف شعبہ حیات میں ہرکسی کاانداز جداگانہ رہا اورہرقوم کو اپنے مذہب کے طریقوں کو اپنانااس کو فالو کرنا اپنی تہذیب کا حصہ رہا ہے شادی بیاہ خوشی اور غم کے علاوہ معاملات لین دین تجارت اور معاشرت واخلاقیات میں کافی تفاوت رہا
لیکن
قربان جاییے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہاے زندگی پر کہ وہ عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ آسان اوراسھل وقارکے لحاظ سے سب سے زیادہ خوبصورت اوراجمل عنداللہ قبولیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مکمل اوراکمل ہے
یہ صرف ہم مسلمان بحیثیت مسلمان نہیں بلکہ اس دنیا کی ہرقوم کے صاحب سمجھ ذی علم طبقہ کے بڑے بڑے لوگوں نے اس بات کا اعتراف واقرارکیا ہے کہ جو طریق زندگی حضور علیہ السلام کا ہے اس سےبہتر اور اچھا طریقہ کسی اور مذہب کے ماننے والوں کے پاس نہیں ہے
الحمدللہ علی ذالک
یہی وجہ ہیکہ آپ کے طریقوں کو سیرت طیبہ کا نام دیا گیا یعنی آپ کا نیچر اور آپ کے اخلاق وعادات اورزندگی گذارنے کے طریقے سب سے اچھے ہیں
سیرت
ایک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب نیچر عادت اور فطرت ہیں اور طیبہ کامطلب ہے سب سے اچھا
تو اس اعتبار سے نبی اکرم کے طریقے اور عادات سب سے اچھے ہیں اسی وجہ سے آپ کے دشمن بھی آپ کو امین صادق اور سچا اور بات کاپکا مانتے تھے اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھواتے تھے آپ پر کامل اعتماد اور بھروسہ کرتے تھے آپ کو سچاتسلیم کرتے تھے
آپ کی سیرت دنیاے انسانیت کے لےء زندگی گذارنے کے لےء کافی اور زمانہ کے اعتبار سے ہمیشہ کے لےء اسوہ اور نمونہ ہے ایک آئیڈیل ہے جس کو اپنانے کی ضرورت ہے اسی وجہ سے اللہ تعالی نے انسانوں کو آڈر اور حکم دیا اور آئڈیل ونمونہ بھی دے دیا کہ تم اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو میرے حکموں کی اطاعت کرو اور اطاعت کو دیکھنا ہوں تو نبی کی زندگی کو دیکھ لو وہ تمہارے لےء نمونہ ہے
ایک ایک ادا ان کی اپنانے کے قابل ہے ان کا بولنا سننا ان کا چلنا پھرنا کھانا پینا بات چیت کرنا اور اوڑھنا بچھونا لوگوں سے رہنا اپنوں اور پرایوں کے ساتھ سلوک کرنا چھوٹوں اور بڑوں کے ساتھ پیش آنا آپ کے اخلاق وکردار آپ کے شب وروز آپ کی خلوت وجلوت آپ کی عبادات ومعاشرت سب کچھ دیکھ لو اس میں تمہیں نمونہ ملے گا راہ نمای ملے گی ایک اسوہ نظر آے گا
ہر مومن کو بطور خاص اور ہر انسان کو بطور عام حضور کی مبارک زندگی کو پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ یہی کامیابی کی راہ ہے
سیرت کاپیغام۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہرمومن اپنے لےء زندگی کے ہر موڑ پر اپنے نبی کے طریقہ کو پسند کرے یہی ایک پیغام ہے سیرت کا
اپنی زندگی کو اسوہ نبوی میں ڈھال دیں اوربس
یہ بات بھی قابل اعتناء رہیکہ آپ کی سیرت طیبہ کے دوپہلوہیں ا
(1)ایک ظاہری پہلو جس کو ہم اعمال واخلاق سے تعبیرکرسکتے ہیں
(2)دوسرے باطنی پہلو جس کو ہم معرفت اور تعلق مع اللہ کمال عبدیت وبندگی کانام دیے سکتے ہیں
اللہ تعالی ہمیں جو حکم دیا ہے وہ نبی کی سیرت کے ظاہری پہلو کواہنانے کا حکم دیا اور اسی کامکلف بنایا اور اسی میں آپ کی کامل اطاعت واتباع کرسکتے ہیں
رہا باطنی پہلو تو اس مقام تک کوی ادنی اور عام امتی تو درکنارحق تو یہ ہیکہ صدیق اکبر بھی اس مقام تک نہیں پہونچ پاتے اور ہم بندوں کو اس کا مکلف بھی نہیں بنایا گیا
ہمار ایمان کہاں اور نبی کا ایمان کہاں ہمارایقین کہاں اور نبی کا یقین کہاں ہمارا تعلق مع اللہ کہاں اور نبی کا تعلق مع اللہ کہاں ہماری عبدیت وبندگی اور معرفت الہی کہاں اور نبی کی کہاں
ہم اس حوالہ سے نبی کی برابری کرہی نہیں سکتے ہاں البتہ اللہ پاک نے اپنے بندوں کو اورنبی نے اپنی امت کو اس بات کاپابند بنایا کہ وہ آقاے مدنی کی سیرت طیبہ کے ظاہری پہلو کو اپنائیں اور اختیار کریں اور ہم یہ کرسکتے ہیں
لیکن افسوس کہ
ہم مسلمان بھی نبی کی سیرت کے اس پہلو سے یکسر غافل ہیں بس عقیدت ومحبت اور عشق رسول کا دعوی تو کرلیتے ہیں مگر عملی اعتبارسے ہم بالکل کورے ہیں
یہی وجہ ہیکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے حکم دیا کہ
صلواکمارأیتمونی أصلی
تم نماز ایسی پڑھو جیسی مجھے پڑھتا ہوادیکھ رہے ہو یعنی ظاہری اعمال افعال وحرکات میں قیام رکوع سجدہ قعدہ اور تسبیحات وغیرہ جس سے صاف معلوم ہوتا ہیکہ آپ نے اپنی سیرت طیبہ کے ظاہری پہلو کو فالو کرنے کا حکم دیا ہے اور باطنی پہلو وہ نماز کا خشوع وخضوع اور کمال تعلق مع اللہ ہے جو ہم کو نہ نظر آسکتا ہے نہ ہم اس کی اتباع کرسکتے ہیں
لیکن بعض جاہل لوگ یہ کہ کر اپناپلاجھاڑلیتے ہیں کہ بھای نبی کہاں ہم کہاں ان کامقام ومرتبہ کہاں ہماراشمار کہاں
تو یہ بات باطنی پہلو کے حوالہ سے تو درست ہے لیکن ظاہری پہلو کے سلسلہ میں یہ بات کہنا بالکل جہالت نادانی اور شیطان کا دہوکہ ہے چونکہ اللہ اور اس کے نبی نے ہم کو مکلف بنایا ہی ہے ظاہری اعمال کا اس میں کوی فرق وامتیاز نہیں کوی تفاوت اور مشکل نہیں ۔۔۔۔۔
بہرکیف
اگر اجمالا ہم نبی کی اتباع کو دیکھیں تو ہمیں زندگی کے جو پانچ شعبے ہیں اس میں نبی کی نقل اور اتباع کرنے کاحکم دیا گیا ہے اور وہی ہماری کامیابی کی راہ ہے جس سے انحراف کرنا مسلمانوں کے لےء ذلت ورسوای اور ناکامی کی علامت ودلیل ہے
ہمیں چاہیے کہ ان پانچ شعبوں کو نبی کی سیرت کے مطابق مسنون بنالیں تو ہر مشکل آسان ہوجاے گی
(1)ایمانیات
اس کو دیکھ لیں کہ جس طرح نبی نے حکم دیا ہماراایمان اسی طرح ہے یا نہیں اللہ پر انبیاء پر ملائکہ فرشتے اور کتابوں پر یوم آخرت اور تقدیر الہی پر جیساایمان لانے کاحکم نبی نے دیا ایسا ہماراایمان بنا یا نہیں یہ دیکھ لیں
(2)عبادات
پرہم نظر ڈال لیں نماز روزہ زکوۃ حج اور قربانی صدقہ وخیرات فرائض ونوافل سب اعمال ہمارے اگر نبی کی سیرت اور طریقہ کے مطابق ہیں یا نہیں
اگر ہیں تو ہم کامیاب ورنہ ناکام
(3)معاملات
اس کاجائزہ لیں کہ ہمارے کاروبار تجارت لین دین ملازمت حکم نبی اور تعلیمات رسول کے مطابق ہیں یا نہیں
(4)معاشرت
کو دیکھ لیں کہ کیا ہم اپنے والدین بیوی بچے رشتہ داراعزاء واقرباء پڑوسیوں اور ملنے جلنے والوں کے حقوق کی ادائیگی ہورہی ہے یا نہیں ہورہی ہے تو اس میں نبی اکرم کاطریقہ ملحوظ ہے یا نہیں
(5)اخلاقیات
اس حوالہ سے بھی ہمیں اتباع کا حکم دیا گیا حسن اخلاق کی تعلیم دی گیء خوش اسلوبی ملنساری اور توسضع ومتانت سنجیدگی اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کامزاج کا ہمیں پابند کیا گیا کہ یہ سب ہمارے امدر اتباع واطاعت رسول کے مطابق ہوں مسنون طریقہ کے مطابق اپنی زندگی کو گذاریں
اگر ان تمام شعبوں میں ہم مسنون طریقہ کا خیال کرلیں گے تو یہی نبی کی سیرت کا پیغام ہوگا
ہر طریقہ کوہم سنت رسول کی کسوٹی پر دیکھیں کہ وہ مطابق سنت ہے یا نہیں
اللہ پاک ساری انسانیت کو اپنے آقاومولاسیدنا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت واتباع نصیب فرماے
آمین بناہ سید المرسلین