طب یونانی کو عالمی سطح پر فروغ دینا انٹر نیشنل یونانی فورم کا بنیادی مقصد ، ڈاکٹر انور سعید
انٹرنیشنل یونانی فورم کے زیر اہتمام عنبر ہوٹل لکھنؤ میں پروقارتقریب کا انعقاد
لکھنؤ 27 اکتوبر
( رضوان سلمانی)
وزیر آیوش ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے کہا کہ یونانی طب ہندوستان کی صدیوں پرانی ایک مقبول و معروف طب ہے۔ جو ہندوستانی عوام کے مزاج، ماحولیات اور معاشرت کے عین مطابق ہے۔ جسے کئی پیڑھیوں سے ہندوستان کے مختلف طبقوں کے لوگ بہت اعتماد و اعتقاد کے ساتھ استعمال کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسا اس کے نام سے ظاہر ہے اسے یونانی طب اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء یونان سے ہوئی لیکن اس کی پرورش اور ترویج و ترقی میں برصغیر ہند اور خصوصی طور پر ہندوستان میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر آیوش اترپردیش ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی آج یہاں انٹرنیشنل یونانی فورم کے زیر اہتمام امبرہوٹل ناکہ ہنڈولہ لکھنؤ میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ۔
وزیر موصوف نے واضح طور پر کہاکہ کورونا کال میں طب یونانی کی اہمیت و فادیت اجاگر ہوئی اور جوشاندہ کے تحت لاکھوں کی جان بچائی گئی ۔ڈاکٹر دھرم سنگھ نے زور دیکر کہاکہ یونانی کو مذہبی رنگ میں نہ رنگ کر اس کی ترویج واشاعت کیلئے جنگی پیمانے پر وابستگان طب یونانی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور ریاستی اور مرکزی سرکار اس میں ہر ممکن تعاون کرے گی ۔ وزیر موصوف نے دعوی کیا کہ موجودہ بھاجپا سرکاریں خواہ وہ مرکزی ہوں یا صوبائی ہماری سرکاروں نے ہر طرح سے اس طب کی سرپرستی کی ہے۔

بہت سارے ایسے اقدامات جن سے اس طب کا فروغ اور اس کے معالجین اور طلباء کا مستقبل وابسطہ ہے ، سرکاری ہدایات کے مطابق کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس طب کے چاہنے والے صرف اور صرف سرکاری اقدامات کو ہی کافی نہ سمجھیں ان کی اپنی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جنہیں انہیں ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وقت کے اہم ضرورت یہ ہے کہ طب یونانی کے اسکالر جدید پیمانوں پر اس صدیوں پرانی طب کو ایک سائنٹفک حیثیت میں ثابت کریں۔ ظاہر ہے کہ اس کام کے لئے آج کے مروجہ پیرامیٹرس پر تحقیقاتی کام کی سخت ضرورت ہے جس کو اس طب کے اساتذہ، اسکالرز اور طلباء ہی انجام دے سکتے ہیں۔
اس موقع پر ٹرسٹی ممبرانٹرنیشنل یونانی فورم ڈاکٹر انور سعید نے نو تشکیل شدہ تنظیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم طب یونانی کے ان مشاہیر پر مشتمل ہے جو ہندوستان اور بیرن ہندوستان دنیا کے مختلف حصوں پر طب یونانی کے لئے کام کر رہے ہیں۔یونانی فارم کے بنیادی مقصد اس کے فروغ کے ساتھ ساتھ طب یونانی کے قدیم سرمایہ کو جدید پیرائے میں دنیا سے متعارف کرانا بھی ہے۔ جدید تحقیقات جو اس طب سے وابستہ ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی تشہیر مزید یہ کہ اس طب کے جو گوشے ابھی تحقیق طلب ہیں انکو عالمی سطح پر متعلقہ لوگوں کو راغب کرنا ، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور حتی المقدور انہیں وسائل مہیا کرانا بھی ہے۔ معالجین طب یونانی مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔
ان کے مسائل کو حل کرنا طلباء طب کو اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم کی راہیں فراہم کرنا، طبی لٹریچر کی طباعت و اشاعت، ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی اور جن مسائل سے طب یونانی دو چار ہے حکومت کو ان کی طرف متوجہ کرنا اور ان مسائل کو حل کرانے کے لئے کوشش کرنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے شک مرکزی و صوبائی حکومتیں گاہے بگاہے ہر ممکنہ تعاون اس طب کو فراہم کر رہی ہیں۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ یونانی معالجین کا یہ اولیں فرض ہے کہ اپنے مطب یا کلینک میں زیادہ سے زیادہ یونانی طریقہ علاج کا استعمال کریں۔ڈاکٹر انور سعید نے وزیر آیوش ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی کو مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ جب یونانی کے طلبہ کونسل کے لئے جاتے ہیں تو اسے اردو کا سرٹیفکیٹ طلب کیا جاتا ہے جبکہ دیگر طریقہ علاج جیسے آیورودیک ہومیو پیتھک وغیرہ کے داخلوں کیلئے کسی دیگر زبان مثلا ہندی یا سنسکرت سرٹفیکٹ طلب نہیں کیا جاتا لہذا کونسلنگ میں یونانی طب میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ و طالبات سے اردو کا سرٹفکیٹ میں طلب کیا جانا بند کیا جائے بلکہ داخلے کے بعد طلبہ کو سال اول میں اردو کا ایک مضمون لازمی قراردیا جائے ۔تاکہ طلبہ کو اتنی تعلیم فراہم کرادی جائے جو یونانی مضامین پڑھنے میں معاون ثابت ہوں اس طریقہ سے طب یونانی کو کوئی حرج ہوگا اور نہ ہی اردو زبان ک کوئی نقصان ہوگا۔
انہوں نے وزیر آیوش سے مزید مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر مرکزی وزارت آیوش کو طب یونانی کے بنیادی اور پیش آمدہ مسائل سے آگاہ کراکر انہیں حل کرانے کی کوشش کریں ۔طب یونانی کی جو تنظیمیں تحقیق سے وابستہ ہیں وہ اپنی تحقیقات کو مختلف زبانوں میں مرتب کرتے ہوئے ان کو ضروری اداروں کے ساتھ شیئر کریں۔ مزید یہ کہ اب بھی بہت سارے موضوعات طب یونانی میں تحقیق طلب ہیں۔ یونانی کے اساتذہ و اسکالز و طلباء ان کی طرف توجہ دیں اور ان تحقیقات کو آگے بڑھائیں۔ یہ ڈجیٹل اور سوشل نیٹورکنگ کا زمانہ ہے اور اس کے بموجب دنیا بہت مختصر ہو گئی ہے۔
لہٰذا طب یونانی میں جو بھی کام ہو رہا ہے اسے ملکی سطح کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی بہت آسانی کے ساتھ اور بہت کم وقت میں مشتہر کیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر مبشر نے بتایاکہ فورم کا بنیادی مقصد طب یونانی کو موجودہ عہد کی طبی ضڑوریات کے مطابق فروغ دینا ہے ، انہوں نے کہاکہ آج عالمی سطح پر ماڈرن میڈیسن کو جو مقبولیت حاصل ہے اس کی ایجاد بھی یونانی طریقہ علاج کے اصولوں پر ہی مبنی ہے ۔
اپنے صدارتی کلمات میں ڈاکٹر قمر الزماں قریشی دیوبند یونانی میڈیکل کالج نے کہاکہ طب یونانی سے وابستہ طلبہ و طالبات کو چاہئے کہ محنت اور لگن کے ساتھ اس کو فروغ دیں ۔ڈاکٹر قمر الزماں قریشی نے طلبہ اور منتظمین کی مخلصانہ کوششوں کی سراہنا کی اور تہنیت پیش کی ۔تقریب کو خطاب کرتے ہوئے حجامہ کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر عبید اللہ بیگ نے کہاکہ آپ لوگ احساس کمتری سے نکل کر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں ، انہوں نے پریکٹکل کے تحت طلبہ کو یہ ثابت کیا کہ کس طرح یونانی ادویات سے فوری طور پر فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
تقریب کو جامعہ ہمدرد کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر اختر صدیقی ، ڈاکٹر شاہد ملک علی گڑھ ،نے بھی خھاب کیا اور طب یونانی کی اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔دریں اثنا فورم کی جانب سے مہمانوں کو اسناد اور خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر محمد مبشر ، ڈاکٹر سلمان خالد ، ڈاکٹر ایاز احمد ، اور ڈاکٹر خورشید احمد راعینی ، کا اہم کردار رہا ،تقریب کی صدارت ڈاکٹر قمر الزماں قریشی نے کی اور نظامت ڈاکٹر سلمان خالد نے کی ۔تقریب میں مقامی اور قرب جوار سے کثیر تعداد میں طب یونانی سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی ۔آخر میں پروگرام کنوینر ڈاکٹر مبشر خان نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔