*نظام آباد میں کورونا معاملات میں اضافہ ۔ رکن کونسل کویتا کی کلکٹرس سے بات چیت*

بین الریاستی تازہ خبر

*پرائیویٹ ہسپتالوں میں کووڈ علاج کیلئے مزید بیڈس کی فراہمی اور  بنیادی سہولتیں مہیا کرنے پر زور*

حیدرآباد۔ 16 ؍اپریل
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ کی دختر و رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے متحدہ ضلع نظام آباد میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات پر تشویش کا اظہار کیا اور اس ضمن میں نظام آباد، کاماریڈی اور جگتیال کے کلکٹرس کو فون کال کرتے ہوئےتازہ صورتحال سے واقفیت حاصل کی۔

رکن کونسل کویتا نے کہا کہ ریاستی حکومت کوویڈ متاثرین کوعلاج کی بہتر سہولت فراہم کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔ نظام آباد کے ضلع کلکٹر نارائن ریڈی ، کاماریڈی ڈسٹرکٹ کلکٹر اے شرتھ اور جگتیال ضلع کلکٹر جی روی سے رکن کونسل نے فون کال کرتے ہوئے وباء کی تازہ صورتحال کے علاوہ کورونا مریضوں کے علاج اور اس سے تحفظ کیلئے کئے جارہے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی۔

رکن کونسل کویتا نے بتایا کہ ضلع نظام آباد کو کل ویکسین کی ہزار خوراکیں مہیا کی جائیں گی۔

کویتا نے کہا کہ مہاراشٹرا میں کورونا وباء کی شدت کو دیکھتے ہوئے سرحدی  علاقوں میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

رکن کونسل کویتا نے کہا کہ سرکاری ہسپتالو ں میں کورونا مریضوں کے علاج کیلئے نظام آباد کے خانگی ہسپتالوں میں 1200 بیڈس، کاماریڈی کے خانگی ہسپتالوں میں 400 بیڈس اور ضلع جگتیال کے خانگی ہسپتالوں میں 400بیڈس کورونا مریضوں کے علاج کیلئے تیار ہیں۔

ایم ایل سی کویتا نے ہدایت دی  کہ متحدہ ضلع کے تمام ہسپتالوں میں آکسیجن کے مناسب تعداد میں سلینڈر اور وینٹی لیٹر دستیاب ہونے چاہئے۔  کویتا نے کہا کہ اس کے علاوہ ہر ہسپتال میں بنیادی سہولتوں پر خصوصی توجہ دی جائے جس میں پینے کا صاف پانی، کھانے کا انتظام، بستر اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔

انہوں نے ایمبولنس کی بھی 24 گھنٹے سہولت کی فراہمی پر بھی زور دیا تاکہ جب بھی ضرورت پڑے عوام ایمبولنس کی سہولت سے استفادہ کرسکیں۔