تلخیص عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد9505057866
فرمایا کہ رمضان المبارک کے مہینہ کی قدردانی کریں ناقدری سے بچیں توبہ کا خاص اہتمام کریں اللہ پاک ستارالعیوب ہے گناہوں کو معاف بھی کرتا ہے اور مخلوق سے چھپابھی دیتا ہےاور معاف کرکے جنت بھی عنایت فرمادیتا ہے روایات میں ہیکہ جنت میں ہربندہ اپنے اپنے اعمال کے جساب سے الگ الگ مراتب پر رہے گا کوئیصوفوں پر ہوگا کوی گدوں پر ہوگا کوی فرش پر ہوگا اس لئےاعمال زیادہ سے زیادہ کرو اور اللہ پاک جنت میں ہر جنتی سے راست طور پر بات کریں گے اور آپ جانتے ہیں کہ کسی حاکم کادرباری سے براہ راست بات کرنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے
جنت میں رب العالمین ہر درجہ والوں سے بات کریں گے ایک جنتی سے بات کریں گے اور آہستہ سے اس کے کان میں کہیں گے کہ تو نے فلاں وقت فلاں گناہ کیا تھا اس جنتی کی حالت خراب ہوجاے گی اور وہ کہے گا اے اللہ آپ نے تو معاف فرمادیا تھا اللہ کہیں گے تب ہی تو تم جنت میں ہویہ بات رازداری کے ساتھ ہوگی یہ ہے ستار العیوب والی ذات دنیا میں تو کبھی نہ کبھی انسان دوسروں کے معاف کی ہوی غلطیوں کو ظاہر کردیتا ہے مگر اللہ تعالی اپنے بندوں کے گناہوں کو چھپادیتے ہیں اس لےء اللہ کی ذات سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو توبہ کا دروازہ کھلا ہے جب تک جان میں جان ہے اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرکے معافی مانگ لو اب رمضان آرہا ہے اس ماہ میں اللہ پاک تمام شیاطین کو قید کرکے سمندر میں پھینک دیتے ہیں تمام رکاوٹوں کو دور کرکے عبادتوں کی توفیق بندوں کو دے دی جاتی ہے اور ہرروز اعلان ہوتا ہیکہ اے خیر کے طلبگار انسان آگے بڑھ اوراے برائ کے طلبگار پیچھے ہٹ اس ماہ مبارک میں عبادتوں میں ایک قسم کا ذوق وشوق بندوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو دیگرمہینوں میں نہیں ہوتا
عبداللہ ابن مسعود فقیہ الامۃ ہیں جو فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ماہ مبارک میں اس دعاء کو بکثرت فرمایا کرتے تھے جس میں چار چیزیں ہیں جو آج ملت اسلامیہ کے ہر بندہ کو مانگنے کی ضرورت ہے اللھم انی اسئلک الھدی والتقی والعفاف والغنی (1)ہدایت (2) تقوی پرہیز گاری (3)عفت مابی (4)بے نیازیہدایت کامطلب تو سب جانتے ہیں کہ ایمان مل جاے اور راہ راست پر زندگی گذرجاے تقوی کہتے ہیں اللہ کے حکموں کو ماناجاے برائیوں سے رکا جاے جیسے دنیا میں ہرڈاکٹر اپنے مریض کو تین باتوں کی تاکید کرتا ہے ایک تو دواء دوسرےغذا تیسرے پرہیزدنیامیں ہر انسان روحانی بیمار ہے اس کے لےء بھی اللہ پاک تین حکم دییے ہیںایکفرائض پر عمل کروچونکہ یہفرائض دواء ہے روزہ زکوۃ حج سب دواء ہے دوسرےسنن ونوافل سب غذاء ہیں اس سےروحانیت میں طاقت ملے گی
تیسرےجتنے حرام اور برائیاں ہیں وہ سب پرہیز ہیں ان سے بچو اوریہی تقوی ہیں عفت مآبی یعنی پاک دامنی کی اللہ کے نبی نے دعاء مانگی ہےلیکن جب سے انٹرنیٹ اور موبائل نکلا ہے عفت مابی ختم ہوچکی ہے گھر گھر برائیوں کے اڈے بن چکے ہیں اس لےء عفت مابی بھی ضروری ہے اے اللہ ہمارے دلوں کو مخلوق سے مستغنی کردیجیے مال ودولت کی بہتات کانام غنی نہیں ہے دل کا بے نیاز ہونا اصل غنی ہے کسی انسان کے پاس کروڑوں کی دولت ہے لیکن اس کا دل بے نیاز نہیں ہے مزید اور کی طلب اور فکر اس کو دامن گیر رہتی ہے تو وہ حقیقی مالدار نہیں فقیر ہے اور اگر کسی بندہ نے پوری زندگی جھونپڑی میں گذاری لیکن دل مال ودولت اور مخلوق سے بے نیاز رہا تو وہ حقیقی مالدار ہے دعاء مختصر ضرورہے مگرجامع ہے جس کے حق میں قبول ہوجاے وہ کامیاب انسان بن جائیگا
