ملازمتوں پر بھرتی کے نوٹیفیکیشن کی عدم اجرائی سے مایوس اقدام خودکشی کرنے والا نوجوان فوت

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد:2؍اپریل
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
ریاست تلنگانہ کے قیام کے سات سال بیت جانے کے بعد بھی ملازمتوں پر بھرتی کے نوٹیفیکیشن کی اجرائی نہ ہونے پر 25؍سالہ سنیل نائیک نامی نوجوان نے دلبرداشتہ ہوکر 26؍مارچ کو اقدام خودکشی کیا تھا جو علاج کے دوران آج فوت ہوگیا

محبوب آباد ضلع کے گوڈور منڈل کے گنڈم موضع کے تیجاوت سنگھ تانڈ سے تعلق رکھنے والا بوڈا سنیل نائیک نے ڈگری تک تعلیم حاصل کی تھی او رمحکمہ پولیس میں ملازمت کے حصول کے کوشاں تھا 2016میں پولیس ملازمین کے تقررات میں اہلیت پائی تھی تاہم فیزیکل ٹسٹوں میں ناکام ہوگیا تھا ۔

وہ ہنمکنڈ ہ کے نعیم نگر میں ایک کمرہ کرایہ پر لیکر کاکتیہ یونیورسٹی لائبریری روزانہ آکر مسابقتی امتحان کی تیاری کررہا تھا حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے ملازمین سبکدوشی کی حد عمر میں اضافہ سے دلبرداشتہ ہوگیا تھا۔ اور حکومت کی جانب ملازمتوں پر بھرتی کے نوٹیفکیشن نہ جاری کیے جانے پر مایوس ہوگیا تھااور اس نے کاکتیہ یونیورسٹی کے کھیل کے میدان میں کیڑے مار دوا پی کر اقدا م خودکشی کی تھی اور ایک سیلفی ویڈیو بنایا تھا

جس میں اس نے کہاتھاکہ ’’ میں بزدل اور ناکامی سے نہیں مررہا ہوں ‘ ‘میں مر کربیروزگاروں کو ملازمتیں دلواؤں گا۔کاکتیہ پولیس نے اسے فوراً ایم جی ایم دواخانے منتقل کیا گیا تھا بہتر علاج کے لئے اسے ایم جی ایم سے حیدرآباد نمس منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ علاج کے دوران آج فوت ہوگیا

سنیل کی موت کے لئے کے سی آر ذمہ دار:ٹی جیون ریڈی رکن قانون ساز کونسل
ایم ایل سی جیون ریڈی نے کہا کہ طالب علم سنیل کی موت کے لئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے
سرکاری ملازمت کے نوٹیفیکشن جاری نہ کیے جانے سے دلبرداشتہ سنیل نے کیڑے مار دوا پی کر خودکشی کرلی۔ انھوں نے سنیل کی موت پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میں لاکھوں کی تعداد میں جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور حکومت کی جانب سے صرف05؍ہزارجائیدادوں پر بھرتی کرنے کا اعلان قابل مذمت ہے‘ ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کرکے بیروزگاروں کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔ جیون ریڈی نے واضح کیا کہ طالب علم سنیل کی موت NHRC کے نوٹس میں لایا جائیگا