واٹس ایپ کا پرائیویسی سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا متنازعہ فیصلہ واپس لینے کا اعلان

تازہ خبر عالمی

نئی دہلی:8؍مئی
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
انسٹنٹ میسجنگ‘ سوشل میڈیا کے بین الاقوامی رابطہ کاری پلیٹ فارم واٹس ایپ نے 7؍مئی کو صارفین کی پرائیویسی سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا متنازعہ فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کمپنی صارفین کی پرائیسویسی کے حوالے سے نیا ضابطہ اخلاق نافذ نہیں کر رہی ہے۔

واٹس ایپ کے اس اپ ڈیٹ کی وجہ سے 15 مئی کو کسی بھی صارف کااکاؤنٹ حذف نہیں ہوگاواٹس ایپ کمپنی کا کہنا ہے کہ اپنی پرائیویسی پالیسی کو اپ ڈیٹ نہ کرنے پر15 مئی کو کوئی بھی اکاؤنٹ بند نہیں ہوگا۔اور ہندوستا ن میں کوئی بھی واٹس ایپ کی فعالیت کو نہیں کھوئے گا۔واٹس ایپ نے صارف کے احتجاج کے بعد ایپلی کیشن سروس کی شرائط میں ترمیم ملتوی کر دی ہے۔

مارچ کے آخر میں مرکزی وزارت نے بھی اپنے ایک حلف نامے میں دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ جنوری میں واٹس ایپ کے ذریعہ اعلان کردہ نئی پرائیویسی پالیسی نے 2011 کے آئی ٹی رولز کی پانچویں شق کی خلاف ورزی کی ہے ، اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ اس میسجنگ ایپ کو پالیسی پر عمل درآمد سے روکیں

فیس بک کی ملکیت والی کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر واٹس ایپ صارفین نے تازہ کاری کی رازداری کی پالیسی کی شرائط قبول کرلی ہیں ، لیکن کچھ کو ایسا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ نئی رازداری اور سیکورئٹی کی پالیسی کے بارے میں غلط معلومات کی وضاحت کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ حالیہ تازہ کاری سے اعداد و شمار کو جمع کرنے اور استعمال کرنے کو زیادہ شفاف بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ارلھدیٰ کیمپس وادی ھدیٰ پر جماعت اسلامی ہند حیدرآباد کے زیر نگرانی کوویڈ آکسیجن تھراپی سنٹر کا افتتاح

 

حالیہ اپ ڈیٹ فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کے ڈیٹا بیس کو وسعت نہیں دیتی۔”واٹس ایپ” نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اپنے دو ارب صارفین کو کچھ روز قبل متنبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر صارفین اس کی سروس کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کی راز داری کی نئی پالیسی 2021 کو قبول کرنا ہوگا۔

2021کے اوائل میں پیش کی جانے والی نئی شرائط سے تکنیکی ماہرین، پرائیویسی امور کے ماہرین، کاروباری افراد اور سرکاری تنظیموں میں غم و غصہ پایا گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ دوسری ایپس کے استعمال کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔

اینکرپٹڈ میسجنگ ایپلی کیشنز سگنل اور ٹیلیگرام ایپل اور گوگل ایپلی کیشن اسٹورز سے ڈاؤن لوڈ کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جبکہ فیس بک کے زیر ملکیت واٹس ایپ ایپلی کیشن کو ناکامی کے بعد اس کی نمو میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے کمپنی نے حال ہی میں صارفین کو بھیجی گئی پرائیویسی اپ ڈیٹ کو واضح کرنے پر مجبور کر دیا۔