تیسٹا سیتلواڈ اور سری کمار کی گرفتاری غیر اخلاقی اور غیر قانونی۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

تازہ خبر قومی

نئی دہلی: 29؍جون
(پریس ریلیز)
ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) نے انسانی حقوق کی کارکن ٹیسٹا سیتلواد اور گجرات کے سابق اے ڈی جی پی آر بی سری کمار کی گرفتاری کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرارد یا ہے۔ انہیں 2002 کے گجرات مسلم نسل کشی میں مودی کو کلین چٹ دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدگرفتار کیا گیا ہے۔

سنگھ پریوار کے حکمرانوں کی طرف سے ٹیسٹا کو گجرات کے قتل عام کے متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے ان کی انتھک کوششوں اور سری کمار کو ناناو تی۔ میتھاکمیشن کے سامنے قتل عام کی حقیقت بتانے کیلئے نشانہ بنایا جارہا ہے۔یہ ایک بار پھر مودی سرکار کی اپنے خلاف اٹھنے والی آوازکو کچلنے کی ایک اور کوشش ہے، اور سچ کو مٹانے اور اس کی جگہ جھوٹ لانے کی کوشش ہے۔

گجرات میں 2002میں مودی کی قیادت میں حکومت کی رضامندی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ دنیا جانتی ہے، ساتھ ہی اس قتل عام میں مودی کا کردار بھی تھا، حکومتی مشینری کو قاتلوں اور آتش زنی کرنے والوں کی حمایت کیلئے استعمال کیا گیا۔

مودی اور ان کے حواریوں نے مجرموں کو ہر طرح کی مدد اور تحفظ فراہم کیا۔ اس کے باوجود، متاثرین انصاف سے محروم ہیں۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ ٹیسٹا اور سری کمار کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے اور فوری طور پر ان کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔

مودی حکومت ملک میں جمہوریت کے خاتمہ پر تلی ہوئی ہےآئے سماجی جہد کاروں‘ غیر جانبدار صحافیوں کو نشان بنارہی ہے جس کی یمن انڈیا موؤمنٹ سختی سے مذمت کرتے ہوئے گرفتار لوگوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہےسماجی جہد کار تیسٹا سیتلواڈ کی گرفتاری ملک کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی طر ح یاد رکھی جائیگی .فرقہ پرست زعفرانی جماعت کے ان کارناموں کو ہندوستان کی عوام ہمیشہ یاد رکھے گی