پاپ کا گھڑا بھر چکا جیسا کروگے ویسا بھرو گے: کے ٹی آر

تازہ خبر تلنگانہ
بلقیس بانوعصمت دری معاملہ میں سپریم کورٹ کی مداخلت ناگزیر 
ناانصافی ختم کی جائے مجرموں کی رہائی کو کالعدم قرار دیا جائے
ایم ایل سی کویتا کا چیف جسٹس آف انڈیا کو درد بھرا مکتوب
حیدرآباد۔20اگست 
( زین نیوز) 
ریاستی وزیر بلدی نظم نسق وشہری ترقی مسٹر کے ٹی راما راؤ نے گجرات میں 2002 میں بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس میں 11 قصورواروں کورہا کرنے پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور طنز کیا کہ پاپ کا گھڑا بھر گیا ہے جیسا کروگے ویسا بھروگے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ غلطی ،کمیشن اور معافی جیسے اقدامات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ کے ٹی آر نے ٹویٹر پر اس مسئلہ کا جواب دیا۔ تا ہم اب انہوں نے شکایت کی کہ زانیوں حاملہ خواتین اور بچوں کوقتل کرنے والوں کورہا کیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایسے قیدیوں کی رہائی اور سزا میں کمی کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔اس دوران ٹی آرایس ایم ایل سی مسز کے کو بیتا نے آج جسٹس این وی رمنا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوۓ درخواست کی کہ سپریم کورٹ بلقیس بانو عصمت ریزی معاملہ میں مداخلت کرے اور 11 مجرموں کی رہائی کو کالعدم قرار دے ۔ 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی عمر 21 سال تھی اور وہ 5 ماہ کی حاملہ تھیں جب انہیں وحشیانہ طریقہ سے درندوں نے نشانہ بنایا تھا۔

مسز کویتا نے چیف جسٹس سے دردمندانہ درخواست کرتے ہوۓ مکتوب تحریر کیا کہ میں آپ کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی عصمت دری کے بارے میں صمیم قلب کے ساتھ لکھ رہی ہوں، جہاں گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر 1992 کی پالیسی پر انحصار کرتے ہوۓ 11 مجرموں کو رہا کیا تھا جبکہ ریاستی حکومت کی 2014 کی نظر ثانی شدہ پالیسی کے مطابق انہیں معافی کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے ۔
عصمت دری جیسے جرائم ہمارے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور سزا یافتہ زانیوں کو ایک ایسے دن آزادانہ طور پر باہر نکلتے دیکھ کر جو کہ ہمارا یوم آزادی ہے، ہر ۔ عورت اور ہر اس شہری کا دل کانپ اٹھا جو ملک کے قوانین پر اپنا یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا نظام انصاف پر مبنی ہے۔
انہوں نے متعلقہ تکنیکی اور قانونی نکات پر روشنی ڈالی اور نشاندہی کی کہ اس کیس کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے کی تھی۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ان مجرموں کو سزا سنائی تھی۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 435 (a) (1) میں کہا گیا ہے کہ ماسوا مرکزی حکومت سے مشاورت کے ریاستی حکومت کے کسی بھی معاملہ میں سزا کو معاف کرنے یا اس میں کمی کرنے کا اختیار ریاستی حکومت استعمال نہیں کرے گی جس کی جانچ سی بی آئی نے کی ہو۔
 انہوں نے استفسار کیا اور یمارک کیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا 11 مجرموں کی رہائی مرکزی حکومت کے ساتھ مشاورت سے کی گئی تھی۔انہوں نے مناسب طور پر نشاندہی کی کہ اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ 1992 کی پالیسی کو 2014 کی پالیسی سے بدل دیا گیا تا کہ ریاستی حکومت کی معافی کی پالیسی کو مجرمانہ معاملہ میں سپریم کورٹ کے 20 نومبر 2012 کے فیصلہ سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اپیل نمبر 491-490 بابت1 201 جہاں سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مناسب حکومت کے معافی کے اختیارات کو من مانی طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئیے اور مذکورہ طاقت پر کچھ موروثی طریقہ کار اورٹھوس جانچ پڑتال کے ساتھ استعمال کیا جنا چاہئے ۔

 ایم ایل سی کو بتا نے مزید کہا کہ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا 11 مجرموں کورہا کرتے وقت مذکورہ بالا طریقہ کار اور ٹھوس جانچ پڑتال کو مدنظر رکھا گیا تھا؟ ۔ رکن کونسل نے سی جے آئی کو لکھے گئے مکتوب کا اختتام نہایت ہی مخلصانہ انداز میں کیا کہ بلقیس با تواس وقت 21 سال اور 5 ماہ کی حامل تھیں
جب ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور یہ کیسے برداشت کیا جائیگا کہ وہ جشن یوم آزادی کے موقع پر زانیوں کو معافی کے ساتھ آزاد ہوتے ہوۓ اور پھر ان کا بہترین انداز میں استقبال کیا جا تا ہواد لکھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کر کے مذکورہ مجرموں کی رہائی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جاۓ اور ہمارے قوانین اورانسانیت پرقوم کے اعتماد کو برقراررکھے۔