ثبوت مٹانے کی ناکام کوشش
حیدآباد۔23 اپریل
(زین نیوز)
ایک پجاری جوعیش وعشرت کا عادی ہے اور مقروض ہے ۔مندر میں آنے والے ایک عقیدت مند کو اس کے زیورات کیلئے قتل کرنے کے واقعہ نے حیدرآباد کے مکانگیری میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
خاتون کو بے دردی سے قتل کرنے والے پجاری کے تعلق سے پتہ چلا کر غش مندر کے اندرون مورتی کے عقبی میں چھپائی گئی تھی ۔ کیس میں دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
ڈی سی پی ملکاجگیری رکشیتا کرشنا مورتی نے بتایا کہ پولیس نے ملکاجگیر میں پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع وشنو پوری ایکسٹینشن کالونی کی 57 سالہ امادیوی کے قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ خود مندر کے پجاری نے زیورات کو ہڑ پینے کی حوس میں پی انتہائی اقدام کیا ہے۔
اصل ملزم انومولہ مرلی کرشنا عرف کٹو (40) اور جیولر جوشی نند کشور (45) کو جمعہ کی رات گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ملزمان سے قتل میں استعمال ہونے والے اسلحہ اور زیورات کو برآمد کر لیا۔ دشنو پوری کالونی کے ٹی وی این مورتی نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ اس کی بیوی جو پیر کی شام مندر گئی تھی ، گھر واپس نہیں ہوئی ۔
جمعرات کی صبح کالونی کے قریب ایک مندر کے پیچھے ایک نعش ملی جب کہ پولیس لا پتہ اما دیوی کی تلاش کر رہی تھی۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے کیونکہ اس کو شبہ تھا کہ نعش پر زیورات نہیں تھے تو کسی نے زیورات کے لئے قتل کیا ہوگا۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ کالونی میں واقع سدھی و نانک سوامی مندر کے پجاری مرلی کرشنا اس قتل کے ذمہ دار ہے ۔محبوب مر ضلع سے تعلق رکھنے والا مرلی کرشنا نای شخص ملکامگیری آیا تھا اور چار سال سے سدی و نا کا مندر میں پجاری کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔
اس علاقہ میں رہنے والی امادیوی روزانہ مندر آیا کرتی تھی ۔اسے مندر آتے وقت زیورات پہینے کی عادت ہے ۔
عیش وعشرت کا عادی ، پریشان حال بہاری مرلی کرشنا اس کے زیورات چرانا چاہتا تھا۔ تا کہ وہ اپنا قرض ادا کر سکے اور ماباقی پیسوں سے عیش کرے چنانچہ اس کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا۔
مندر کے آس پاس کے کسی کی ٹی وی کیمروں کے غیر کارکرد ہونے سے بھی وہ واقف تھا۔ پیر کی شام امادیوی کی پوجا کرنے آئی اور پوجا کر کے بعد واپس ہو رہی تھی کہ پہاری نے پہلے سے تیار شدہ منصوبہ کے مطابق اس کے سر کے پچھلے حصہ پر زور سے وار کیا جس سے وہ وہیں ڈھیر ہوگئی۔
اس پر وہ گمان کر بیٹھا کہ اس کی موت واقع ہوئی ہوگی ۔ اس کے جسم پر موجود تمام زیوارات کو نکال لیا اور نعش کو پلاسٹک کے ڈرم میں ڈالکر مندر میں مورتی کے پاس رکھ کر ڈھانپ دیا گیا۔
خون کے دھبوں کو ظاہر نہ ہونے کیلئے پانی سے دھویا جاۓ ۔اس رات اس نے سونے کی ایک دکان پر زیورات بیچ دے ۔ بعد ازاں مندر میں نعش سے آنے والی بد بو سے ملزم الرٹ ہو گیا اور اپنی گھناؤنی حرکت کی پردہ پوشی کیلئے مرلی کرشنا نامی پجاری نے نعش کو مندر کے پیچھے درختوں میں پھینک دیا۔
اس کے بعد اس نے ڈرم اور مندر کو ایک بار پھر دھود یا تا کہ ثبوت باقی نہ ر ہے ۔مندر کے پاس کے ہی سی ٹی وی کیمروں کے کام نہ کر نے اس کیس کی تفتیش پولیس کے لیے ایک چیلنج بن گئی تھی۔
ڈی سی پی مکانگیری رکھتا کرشنا مورتی نے اس کی پی شیام پرساد کی قیادت میں، انسپکٹس جلد میشور راؤ اور اے سدھا کر کی ایک ٹیم نے اس علاقہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جہاں اما دیوی کے جانے کا شبہ ہے ۔اما دیوی مندر تو آئی لیکن وہ گھر واپس نہیں لوٹی تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک ثوت ہاتھ لگا کہ اسکے جوتے مندر کے اندر ہی دستیاب تھے۔
پولیس نے تصدیق کی کہ امادیوی مندر کے اندر ہی سے لا پتہ ہے اور اس نے پجاری کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی تھی ۔ شبہات کی تصدیق ہونے پر پجاری کو حراست میں لے کر اس کے ساتھ اپنے انداز میں پوچھ گچھ کی تو مرلی کرشنا پجاری نے اپنے جرم کا اعتراف کیا کہ اس نے ہی امادیوی کا قتل کیا ہے۔
پولیس نے پچاری مرلی کرشنا اور ایک جیولری شاپ کے مالک کو بھی گرفتار کیا جس نے چوری کا سونا خریدا تھا اور ان کو ریمانڈ پر تحویل میں لے لیا۔
کمشنر پولیس رچا کنڈ مہیش بھاگوت نے ڈی سی پی ایس ارٹی مرلی دھر، انسپکٹرس جلد پیشور را ؤ اور سیدھا کر کی ماکاجگیری مندر میں قتل کے معاملے کی تہہ تک پہنچے پر ستائش کی ۔
امادیوی کی آخری رسومات جمعہ کو سکندرآباد کے بنسی لال پیٹ کے شمشان گھاٹ میں انجام دی گئی۔ ایم ایل اے ملکا جگیری مینم پلی جمعت راؤ نے امادیوی نے خاندان سے ملاقات کی
