یوپی:15؍فروری
زین نیوز ڈیسک
اتر پردیش پولیس نے 65سالہ بانو بیگم پاکستانی خاتون کوآج گرفتار کرلیا گیا ہے جو جلیسر تھانہ علاقہ میں دیہاتی پنچایت کی سرپنچ بننے میں کامیاب ہوگئی تھیں ایٹا کے ایس ایس پی سنیل کمار سنگھ نے بتایا کہ بانو بیگم گڈو گاؤں کی پنچایت کی سرپنچ کی حیثیت سے منتخب ہو چکی تھیں ۔ دیہاتیوں کی شکایات پربانوبیگم کے خلاف جنوری میں ایف آئی آردرج کی گئی تھی جس کے بعد سے وہ مفرور بتائی گئیں ہیں۔بانو بیگم پاکستانی شہری ہونے کے باوجود انھوں نے گاؤں کی پنچایت انتخابات حصہ لیا تھااور وہ بلاک کے لئے سرپنچ کی حیثیت منتخب ہوگئیں‘سرپنچ منتخب ہونے کے لئےمطلوبہ دستاویزات‘ آدھار کارڈ بھی حاصل کرلیے تھے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ، پولیس کو پتہ چلا کہ بانو بیگم
ایک پاکستانی نژاد ہیں جس نے 8 جون 1980 کو ایٹا کےشخص اختر علی سے شادی کی تھی شادی کے بعد سے ہی وہ بار بار اپنے طویل مدتی ویزے میں توسیع کرکے ہندوستان میں قیام پذیر تھیں۔بتایا جاتا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون بانو بیگم تقریباً 40سال قبل اتر پردیش کے ایٹا ضلع کے جلسر بلاک آئی تھی اور یہاں کے ایک مقامی شخص اختر علی سے شادی رچائی تھی اور اس وقت وہ بلاک کے لئے سرپنچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں ۔ مقامی افراد کی شکایت پرجیسے ہی اس بات کا علم عہدیداروں کو ہوا تو انھوں نے فوری طور پر بانو بیگم کو بلاک کے عبوری سرپنچ کے عہدےسے ہٹادیاتھا ایٹا ضلع کےپنچایت راج آفسیرآلوک پریادشی نے پولیس سےبانو بیگم کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھاجس کے بعد وہ مفرور تھیں