پی وی نرسہماراؤ کی دختر ایم ایل سی انتخابات کے لئے ٹی آریس کی اُمیدوارہ

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد:21؍فروری
نمائندہ خصوصی
چیف منسٹر و صدر تلنگانہ راسٹریہ سمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نےحیرت انگیز طور پر سابق وزیر اعظم انجہانی پی وی نرسہماراؤ کی دخترسورابھی وانی دیوی کو گرائجویٹ ایم ایل سی کا اُمیدوار نامزد کیا ہے حیدرآباد ۔ رنگار یڈی ۔ محبوب نگرحلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی کے لئے مسز سورابھی وانی دیوی کو سرکاری طور پر ٹی آریس کا اُمیدوار نامزد کیا گیا جو کل اپنے پرچہ نامزدگی داخل کریں گی۔ٹی آریس کی جانب سے سیاسی حلقوں میں یہ افواہ گشت کی جارہی تھی کہ اس حلقہ سے پارٹی اُمیدوار بن کے لئے ٹی آریس کے بیشتر قائدین عدم دلچسپی کا اظہار کررہے تھے کیونکہ انکے سامنے پہلے ہی سے دو طاقتور اُمیدوار پروفیسر ناگیشور راؤ( کمیونسٹ) اور این رامچندر راؤ بی جے پی اپنے اپنےکاغذات نامزدگی داخل کرتے ہوئے میدان مقابلے میں کھڑے ہیں جن دیکھتے ہوئے ٹی آریس کے بیشتر قائدین نے خود کو مقابلے سے دور رکھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔ایسے ٹی آریس قیادت کو بھی یہ ضروری ہوگیا تھا کہ دوسرے حلقوں اور دیگر انتخابات میں پارٹی پر پڑھنے والے منفی اثر کو ضائع کرنے کے لئے اُمیدوار کو میدان مقابلے میں اتارنا لازمی او رناگزیر ہوگیا تھا۔چند دن سے ٹی آریس حلقوں میں یہ خبر شدت کے ساتھ گشت کررہی تھی کہ سابق میں میئر بلدیہ عظیم تر حیدرآباد بی رام موہن کو اس حلقہ سے موقع فراہم کیا جائیگا تاہم پارٹی قیادت نے توقع کے بر خلاف آج اچانک سابق وزیر اعظم انجہانی پی وی نرسمہا راؤ کی دختر کے نام کا اعلان کیایہاں یہ بتانا ضروری ہوگیا کہ ایک اور گرائجویٹ حلقہ کھمم ۔ نلگنڈہ۔ ورنگل سے پروفیسر کودنڈا رام ( ٹی جے ایس) ‘ رامولو نائیک (کانگریس) ‘ ٹی راجیشور ریڈی( ٹی آریس ‘ )ٹی وجئے سارادھی ریڈی ( سی پی آئی ) تین مار ملنا ( آزاد) پریمندر ریڈی ( بی جے پی) میدان مقابلے میں ہیں جبکہ ابتک حیدرآباد۔ رنگاریڈی۔محبوب نگر حلقہ سے سابق وزیر ڈاکٹر جی چنا ریڈی ( کانگریس) این رام چندر راؤ ( بی جے پی) اور پروفیسر ناگیشور راؤ پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے اہم امیدوار ہیں ۔اس حلقہ سےٹی آریس اُمیدوار کے نا م کے اعلان کے ساتھ مقابلہ چار رخی ہونے کا امکان ہے ۔ٹی آریس کی جانب سے پی وی نرسمہار اؤ کی دختر کو ٹکٹ دیئے جانے پر مسلم حلقوں میں ناراضگی کا اظہار کیا گیا جن کے والد پر بابری مسجد کی شہادت کا دھبہ لگا ہوا ہے اس سے خود ہندو شدت پسندی کے حامل ووٹ بی جے پی اور ٹی آریس میں تقسیم ہونگے جس کا راست فائدہ پروفیسر ناگیشور راؤ سابق ایم ایل سی یا پھر ڈاکٹر جی چنا ریڈی کو ہوگا یہ دو چہرے بھی تمام طبقات کو قابل قبول ہیںیہاں یہ بتانا بھی ضروری ہوگیا کہ 23؍فروری کو پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ مقرر ہے ج14مارچ کو رائے دہی اور17؍مارچ کو رائے شماری ہوگی یہ دو حلقوں کے انتخابات دراصل بی جے پی کے این رامچندر راؤ اور ٹی آریس کے پی راجیشور ریڈی کی معیاد ختم ہونے کی وجہ سے ہورہے ہیں