ایم اے نجیب سفیربرائے عالمی امن کی سائبرآباد پولیس کمشنر سے بات چیت
حیدرآباد:20مئی
(زین نیوز )
پولیس ‘معاشرے کو بگاڑنے، اقدار کو پامال کرنے، انسان کے وجود، اس کی آزادی، نجی زندگی، مال و منال کو چیلنج کرنے اور اجتماعی زندگی کو حفظ و امان سے محروم کرنے والے عناصر سے نبرد آزما رہتی ہے۔ساتھ ہی امن وآمان کی برقراری میں محکمہ پولیس کا بہت ہی اہم رول ہوتا ہے۔
ملک کے سیکولرکردار کی حفاظت ‘ انسانیت نوازاورعادلانہ وانصاف پسندانہ مزاج کے حامل شخصیات ہی کوہی ملازمت دی جاتی ہے۔ لیکن چندایک فرقہ پرست عناصر بھی اس میں ملازمت کرتے ہوئے پولیس کے کردار کومشکوک کررہے ہیں۔
ایسے ہی چندپولیس آفیسر نے ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مشتبہ رول اداکیا ہے ۔ حیدرآباد ایرپورٹ کے قریب ڈی سی ایم ڈرائیورسبحان کی بری طرح پٹائی اورپاکستان جائو کی بات کرنے والے ملازمین کی حرکت پرایم اے نجیب عالمی سفیربرائے امن نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ”تشویش کی بات تویہ ہے کہ حیدرآبا د جیسے گنگاجمنی تہذیب کے شہر میں پولیس کی فرقہ وارانہ ذہنیت کا رحجان پایا جاناسماج میں غلط تصورجائے گا۔
وقت ہوتے بڑے افیسرجوسیکولرذہنیت کے حامی ہے ۔ ان کوچاہئے کہ ان فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے آفیسر کی یا توکونسلنگ کی جائے یاپھرانہیں فوراً برطرف کیا جائے۔ ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ فسادات کے دوران پولیس دنگائیوں کی مدد کررہی ہے یہ مددپولیس کہیں فسادیوں کواپنے سامنے اقلیتی طبقے پرحملے کے دوران خامو ش تماش بین بن کررہی تھی توکہیں دنگائیوں کے ساتھ پولیس بھی اقلیتی طبقے پرپتھرائو یالاٹھی چلارہی تھی۔
ایم اے نجیب سفیربرائے عالمی امن نے کہاکہ دستور ہندنے تو نہ صرف ہرشہری کوبلکہ ہرانسان کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت وعدالت کے ذمہ کی تھی۔ لیکن افسوس فرقہ پرست طاقتیں قومی یکجہتی وگنگاجمنی تہذیب کے ساتھ ساتھ دستوری جمہوری نظام کوبھی کھوکھلا کرتی جارہی ہے۔
جناب ایم اے نجیب نے سائبرآبادپولیس کمشنرسجنارسے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس ذہنیت کے پولیس افیسرکومعطل کرے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امن کے لیے امن کے سپاہیوں پرہی نظررکھنے کی ضرورت ہے ۔ کون کب کیا کرجائے پتہ نہیں چل رہا ہے۔ سماج میں پائی جانے والی بے چینی کودورکرنے کے لیے اس آفیسر کوعوام کے سامنے سزادینے کی ضرورت ہے۔
