حیدرآباد۔10 فروری
زین نیوز
کانگریس رکن قانون ساز کونسل جیون ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ کی جانب سے ٹی آرایس لیجسلیچر پارٹی اجلاس میں چیف منسٹر کے عہدہ کے بارے میں کئے گئے تبصرے پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں گورنر ڈاکٹر تمیلی سائی سوندرا راجن کوایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی درخواست کی۔ جیون ریڈی کے بموجب چیف منسٹر نے یہ کہا کہ عہدہ ان کے لئے ان کے بائیں پاؤں کی جوتی کے برابر ہے۔ کانگریس رکن کونسل نے مزید کہا کہ چیف منسٹر کے یہ بیانات غیر جمہوری‘ ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔ چیف منسٹر ( کے سی آر) کا یہ بیان دستور کے مغائر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اےسا کہہ کر اپنے سیاسی امیج کو بگاڑ لیا ہے۔جیون ریڈی نے اس طرح کے مکتوبات چیف سکریٹری سومیش کمار اور ڈائرکٹر جنرل پولیس ایم مہیندر ریڈی کو بھی روانہ کئے ہےں۔اسی دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دھرماپوری اروند نے بھی چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف گورنر سے شکایت کرتے ہوئے انہےں چیف منسٹری کے عہدہ سے فوری برخواست کرنے کی مانگ کی ۔ انہوںنے گورنر کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ کے سی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ کا ٹھوکر کے برابر ہونے سے تقابل کرنے پر فوری برخواست کردیا جانا چاہئے۔ دھرماپوری اروند نے ان امور کے بارے میں ردعمل ظاہر کیا جس پر کے سی آر نے اتوار کو حیدرآباد میں ٹی آرایس پارٹی کے اجلاس میں خطاب کے دوران کیا تھا۔ دھرما پوری اروند نے اس اجلاس میں کے سی آر کی جانب سے کئے گئے ریمارکس کو تنقیدکا نشانہ بنایااورکہا کہ حالیہ انتخابات میں ٹی آرایس کی ناکامیوں سے پارٹی قائدین مایوس ہوگئے ہےں۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی تبدیلی پر اس لئے غور کیا جارہا ہے کیونکہ ارکان اسمبلی کے سی آر خاندان پر اعتماد کھوچکا ہے۔ کے سی آران کے رویہ عدم محفوظ ہےںا سی لئے وہ ارکان اسمبلی کو دھمکیاں دے رہے ہےں۔ ٹی آرایس کے اتوار کو منعقدہ اجلاس میں کے سی آر نے یہ کہا تھا کہ ریاست تلنگانہ کے حصول کے لئے انہوں نے جو نام کمایا اس سے تقابل کیا جائے تو چیف منسٹر کاعہدہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے عہدہ کاسینڈل سے تقابل کیا ۔اس وجہ سے بی جے پی قائدین سخت ردعمل ظاہر کررہے ہیں
