ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
محبت ایک مقدس لفظ ایک پاکیزہ جذبہ ایک صاف ستھرا احساس ہے جو خالق کائنات نے ہرانسان کے دل میں ودیعت کیا ہے جس کے الگ الگ اعتبارات جداجدانسبتیں ہوتی ہےاگر یہ عابد کواپنےمعبود سے ہوجاے تو عبادت بن جاتی ہےاپنے نبی سے ہوجاے تو تکمیل ایمان کاذریعہ اور نجات اخروی کا سامان بن جاتی ہے باپ سے ہوجاے تو حصول جنت کا راستہ بن جاتی ہے ماں سے ہوجاے تو اس کے قدموں میں سجنے والی جنت کاحقدار بنادیتی ہے بیوی بچوں سے ہوجاے تو احساس ذمہ داری بن جاتی ہے اپنے اعزاء واقرباء اوررشتہ داروں سے ہوجاے تو ادائیگی حقوق پر انسان کو آمادہ کردیتی ہے باری تعالی نے قرآن مجید میں مختلف زاویوں اور الگ الگ انداز سے محبت کا ذکر فرمایاجس سے صاف واضح ہوجاتا ہیکہ یہ ایک پاکیزہ جذبہ ہے جس کو صحیح اوردرست استعمال کرنے کی وجہ سے انسان بامراد ونیک نام ہوتاہے اور اگر بے جا استعمال کرتاہے تو ناکام ونامراد اور بدبخت لوگوں میں شمار ہوجاتا ہے غرضیکہ لفظ محبت بہت ہی پاک وصاف اور دنیا کا خوبصورت ترین جذبہ ہے لیکن………………..مطلب پرستوں اور ہوس کے ماروں نے اپنی خودغرضی اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کےلےء اس کو گندہ اور بدنام کردیاہے عقل ماتم کناں ہیکہ غیر فطری وناجائزکام کوبھی آج محبت کانام دیا جارہا ہے بلکہ حقیقت محبت سے نابلد وناآشنا نوجوان نسل تو نفس پرستی اور عیاشی کے فروغ کیلےء محبت کانام استعمال کرتی ہے انہیں بے جا ونارواکاموں میں سے ایک کام ویلنٹائن ڈے ہے جس کو یوم عاشقاں کہاجاتا ہے جوہرسال ماہ فبروری کی 14 تاریخ کودنیا کےمختلف ممالک میں پورے تزک واحتشام اورانتہای اہتمام سے منایا جاتا ہے ویلنٹائن ڈے کیا ہے ؟ اس کی ابتداء وآغاز کاپس منظر کیا ہے ؟ ان سوالات کے جوابات سے گرچیکہ واقفیت ضروری ہےلیکن ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کا شرعی حکم معلوم کرکے قرآن وسنت کی بتای ہوی تعلیمات کو اپنا کر ہی اپنے آپ کو اللہ کے فرمانبرداربندوں میں شامل ہوسکتے ہیں ورنہ تو قہر خداوندی سے ہم کو کوی نہیں بچاسکتا ہے اگراختصار کا سہارالے کر یہ بات کہی جاے تو مناسب لگتاہیکہ اس تہوار کا اسلام اورتعلیمات اسلام میں کوی تصور ہی نہیں ہے بلکہ آگے بڑھ کر یوں کہا جاے کہ ہمارے ملک بھارت کی کسی بھی تہذیب سے ویلنٹائن ڈے کا کوی تعلق ہی نہیں ہے مسلم نوجوانوں کو ذرایہ غور کرنے اور اس سلسلہ میں شعور بیداری کا ثبوت دینا چاہیے کہ ہمارے پاکیزہ مذہب میں بحیثیت تہوار اور عید صرف دودن عیدالفطر اور عیدالاضحی کومنانے کا حکم دیا گیا ان کے علاوہ مقدس راتوں کے طورپر شب برأت اور شب قدر جیسی مبارک راتیں دی گئیں ہیں ان کے علاوہ برتھ ڈے منانا یا نیاسال منانا یا ویلنٹائن ڈے منانا یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہے یہ ایک فیشن ہے جو مغربی ممالک سے ہمارے ملک میں آیا اورمسلمانکچھ دنون تک شوقیہ طورپر ان چیزوں کو مناتے رہے اور اب بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہیکہ پڑھے لکھے اپنے آپ کو ماڈرن اور ایجوکیٹیڈ سمجھنے والے بعض مسلم نوجوان بھی اس منحوس ونامسعودعمل کو بطور تہوار مناناشروع کردییےہیں الامان الحفیظسچ ہیکہ 14/فبروری سے ایک تاریخی واقعہ جو سچی محبت کرنے والے ایک پادری اور عاشق نے اپنی محبت کی خاطر وقت کے حاکم وحکمران سے مخالفت کی جس کی پاداش میں اس کو سولی پرچڑھادیا گیا اور وہ بزبان عشاق شہید کہلایا گیا جس کی یاد اور برسی کے طورپر ہر سال یہ تہوار مناکر اس کو خراج عقیدت اقر اس کے جذبہ محبت کو سلام پیش کیا جاتا ہے لیکن ہم اسلام کے نام لیوا ہیں اسلامی تعلیمات ہماری ہدایت وراہنمای کے لےء کافی وشافی ہے ان سب کے باوجود ہم کسی دوسری نافرمان قوموں کا دیکھا دیکھی کیسے اس عمل کو اختیار کرسکتے ہیں جو غیر اخلاقی اور انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے ناعاقبت اندیش لوگ لفظ محبت کے تقدس کو پارپارہ کرکے اس موقع پر ہر وہ کام کرجاتے ہیں جس کی نہ مذہب اجازت دیتاہے نہ سماج اس کو اچھا سمجھ سکتا ہے نہ ہی ہمارے ملک کی تہذیب کا وہ حصہ ہے تو پھر کیوں ہم غیروں کی نقالی کرکے اترانے لگتے ہیں کیا خدا کاخوف ہمارے دلوں سے نکل گیا ہے یا ہم اتنے جری اور بے باک ہوگےء کہ گذشتہ گیارہ ماہ سے اس کے عذاب اور قہر کو قریب سے دیکھنے کےباوجود ویلنٹائن ڈے منانے کو ترجیح دیں خدارا قہر خداوندی سے ڈرو اے مسلمانونمازوں کی پابندی کرکے اپنے مالک کو راضی کرو اسلامی طریقوں کو اپناکر اللہ کے نبی سے سچی محبت کا ثبوت دو ورنہ پھر اللہ کی جانب سے آنے والے عذاب کا انتظارکرواللہ پاک سارے عالم کے مسلمانوں کوتوفیق فہم نصیب فرمائے آمین
