19؍جنوری
نیوز ویب ڈیسک
کانپور کے بٹھور علاقہ میں واقع برسوں سے بند ایک قدیم مسجد اور اس سے منسلک ایک مزار میں کچھ شرپسندوں نے گھس کر توڑ پھوڑ شروع کردی اور مزار کے کچھ حصہ کو بھگوا رنگ سے رنگ دیا۔ اس واقعہ کی وجہ سے شہر کے حالات کشیدہ ہوگئے، لیکن ضلع انتظامیہ نے حالات کو قابو میں کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اترپردیش کے کانپور شہر سے تقریبا پچیس کلومیٹر دورواقع بٹھور قصبہ کے رام دھام نام کے محلے میں ایک قدیم مسجد کو شرپسندوں نے 17 جنوری کو نقصان پہنچایا ۔ یہ مسجد برسوں سے بند پڑی تھی اور بوسیدہ حالت میں تھی۔ گزشتہ 17 جنوری کو کچھ شرپسندوں نے اس مسجد میں توڑ پھوڑ کی، مسجد کی مینار کو نقصان پہنچایا اور اس سے منسلک مزار کی عمارت کو بھگوا رنگ سے پوت دیا اور اس پر ہندو مذہب کی کچھ تصاویر بھی نصب کر دیں۔مقامی لوگوں کے مطابق تقریبا 17 جنوری کو 200 لوگوں نے اچانک اس مذہبی مقام پر حملہ کردیا گیا، مسجد کے بورڈ کو اکھاڑ دیا اور مذہبی علامتوں کو جلایا۔ شرپسندوں نے ٹریکٹر کی مدد سے مسجد کی میناروں کو منہدم کر دیا۔ ڈر و خوف کی وجہ سے مقامی لوگوں کی جانب سے اس واقعہ کے خلاف کوئی معاملہ نہیں درج کیا گیا ہے۔شرپسندوں کی اس حرکت کی خبر پھیلنے کے بعد شہر کے حالات کشیدہ ہو گئے۔ شہر کے ذمہ داران اور علمائے کرام نے ضلع انتظامیہ سے اس کی شکایت کی۔ جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے پولیس فورس کی مدد سے حالات کو قابو میں کیا اور معاملہ درج کر کے قصورواروں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شکایت ملنے کے بعد ڈی آئی جی نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس علاقے میں پولیس فورس تعینات کیا اور حالات کو قابو میں کر لیا۔ حالانکہ پولیس نے اس معاملے میں ملوث کسی بھی شرپسند کو گرفتار نہیں کیا ہے۔فی الحال شہر کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے مسجد اور مزار کے احاطے پر پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی کارروائی اور گرفتاری نہیں کی گئی ہے۔
