نئی دہلی: 3؍مئی
(زین نیوزڈاٹ نیٹ)
ملک میں کورونا وائرس کے معاملات میں غیر معمولی اضافے کے درمیان ، سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں سے "عوامی مفاد میں کورونا کے وبا ٔءکے پھیلاو کو روکھنے کے لئے لاک ڈاؤن کے نفاذ پر غور کرنے” پر زور دیا ہے۔
عدالت عظمی نے مرکزی حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے اقدامات اور پروٹوکول پر دوبارہ نظر ثانی کرے ، بشمول آکسیجن اور ویکسین کی دستیابی اور قیمتوں کا تعین ، اور سستی قیمتوں پر ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی او رکہاکہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہے
سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ ، جس میں جسٹس ڈی وائی چندرچھود ، جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس رویندر بھٹ پر مشتمل تھا نے کہا ، "ہم لاک ڈاوان کے معاشرتی اور معاشی اثرات کو خاص طور پر پسماندہ طبقات پرپڑنے والے اثرات سے واقف ہیں۔ لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے پہلے پسماندہ طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پہلے ہی سے تیاری کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس ، آسام۔پڈوچیری میں این ڈی اے ، کیرالہ میں بائیں محاذ اور تمل
ناڈو میں ڈی ایم کا اقتدار
مزید یہ کہ عدالت عظمی نے مرکز کو COVID-19 کی دوسری لہر کے بعد اسپتالوں میں داخلوں سے متعلق دو ہفتوں کے اندر قومی پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ کسی بھی مریض کو مقامی رہائشی یا شناختی ثبوت کی عدم دستیابی کے سبب کسی بھی ریاست یا وسطی علاقوںکے کسی بھی اسپتال میںشریک کرنےسے یا ضروری ادویات فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پرعوامی اجتماعات اور دیگر پروگراموں پر پابندی لگانے پر پر غور کرے۔ عوامی مفادکے تحت کوروناکی دوسری لہر میں وائرس سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن لگانے پر بھی غور کریں