حیدرآباد:۔23؍ستمبر
(زین نیوز)
ایک گینگ متوسط طبقہ کی لڑکیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کھمم ضلع کے مدھیرا میں ایک فوٹوگرافر اور دوسریگرکے اڈے ایک بار پھر منظر عام پر آئے ہیں۔ضلع کے مدھیرا میںایک لڑکی کو اغوا کر لیا گیا اور یہ معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ مدھیرا ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے سامنے ایک فوٹو اسٹوڈیو ہے۔ اے پی کے کڑپہ ضلع سے تعلق رکھنے والا بالا گوروی ریڈی جو وہاں کام کرتا تھا اسٹیشن روڈ پر ایک مکان کرایہ پر لیا تھا۔
مالک مکان کی بیٹی کوجو کہ نویں جماعت میں زیر تعلیم ہے کارات ا غوا کرلیا۔ صبح تک بھی بچی نہ ملی جبکہ والدین نے اسکو کافی تلاش کیا۔ آخر کار جب کالونی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا گیا تو فوٹوگرافر کے اپنے گھر کی دیوار پھلانگنے کا منظر نظر آیا۔ لڑکی کے والدین نے پولیس سے شکایت کی کہ ان کی بیٹی کو بالا گوروی ریڈی نے اغوا کیا ہے۔
دریں اثنا، ایسا لگتا ہے کہ مدھیرا کے ساتھ وجئے واڑہ اور دیگر مقامات پر فوٹو اور ویڈیو شوٹنگ کے لیے گئے فوٹوگرافر وہاں ایونٹ مینجمنٹ میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ کچھ بیوٹیشنز کو پھانس رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیںغیر سماجی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔
چونکہ مدھیرا کے اسٹوڈیو کے ساتھ یانم میں ایک ہوٹل ہے، وہ جب چاہیں ایک کمرے کا بندوبست کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کئی بار لڑکیوں کو میک اپ کیلئے اور تقریب کے نام پر وہاں لے جایا گیا۔ دوسروں کو شوٹنگ کے نام پر لداخ لے جایا گیا۔ ایک بیوٹیشن کو پانچ دن کیلئے فوٹو شوٹ کرنے گوا لیجایا گیا تھا۔
وہ وجئے واڑہ اور حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے ذریعہ منعقد ہونے والے پروگراموں کی شوٹنگ میں بھی انہیں لایا جاتا ہے اور وہاں وہ ایونٹ مینجمنٹ لڑکیوں اور بیوٹیشنس کو بھرتی کرکے ایک سیکس ریکیٹ چلا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ چار سال سے جاری ہے۔ حال ہی میں مدھیرا میں لڑکی کا اغوا اور ان کی حرکتوں پر ہر خاص وعام بحث کررہے ہیں۔
