ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
احکام اسلام اور تعلیمات دین کا مقصد اصلی بندوں میں طاعت وفرمانبرداری کا حقیقی جذبہ پیدا کرنا اور مخلوق کو مخلوق ہونے کا احساس دلاناہے جملہ عبادات الہی کا اگر بغورمطالعہ کیا جاے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا محور ومدار صرف اور جذبہ سرافگندگی ہے نماز اپنے تمام ہی ارکان خفض ورفع کے ساتھ یہ احساس دلاتی ہیکہ ہم اللہ کے حکم کے آگے اپنی جبین نیاز جھکارہے ہیںطلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھاکر بھی بندہ کو یہ باور کرایا جاتا ہیکہ ہم اپنے رب کے حکم سے حلال وجائز امور کو بھی ترک کرکے اطاعت کی اعلی مثال قائم کرتے ہیں
حج جیسی عظیم عبادت تو سراپا اطاعت ہی اطاعت ہے جس میں بندوں کو اپنی لاچاری ومحتاجگی کی جگہ جگہ پر یاد دلای جاتی ہے محض دوکپڑوں میں لپٹ کر بندہ پوری مشقت ومجاہدہ کے ساتھ ارکان حج اداکرتا ہے اور اپنے اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش ہوتا ہے قربانی والا عمل بھی ایثار واطاعت کی بہترین مثال پیش کرتا ہے باالکل اسی طرح اپنے مال کی زکوۃ اداکرنا بھی یہ علامت ونشان ہے بندوں کے مطیع وفرمانبردار ہونے کی کہ جوبندہ اس زکوۃ کو اپنے پروردگار کا حکم اور مال دینے والے مالک کی جانب سے اس کا امر سمجھ کر اداکرتا ہے وہ فرمانبردارکہلاتا ہے ورنہ اس کاشمار نافرمانوں میں سے ہوجاتا ہے
مسلمانوں کو چاہیے کہ اگر صاحب نصاب ہوجائیں تو اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی وغفلت اور بلاوجہ تاخیر کرکے رب کی ناراضگی کو نہ مول لیں زکوۃ دین اسلام کا ایک اہم ترین فریضہ اور رکن دین ہے جس کی فرضیت کا منکر کافر اور فرض ہونے کے باوجود فرض مانتے ہوے ادانہ کرنے والا فاسق وفاجر کہلاتا ہے جس کا عنداللہ زبردست مؤاخذہ اورگرفت ہونے والی ہے زکوۃ کی روح اور حقیقیت خداکاخوف واطاعت ورضاجوی ہے زکوۃ کی ادائیگی کے انسان پر ظاہری اور باطنی اثرات مرتب ہوتے ہیں بندہ کے دل میں اللہ کی ذات پر یقین اور توکل بڑھنے لگتاہے
طنفس کا تزکیہ اور صفای ہوتی ہے انسان سخاوت ودادودہش اور جذبہ فیاضی کو قوت میسر آتی ہے اپنوں اور پرایوں کی غربت وناداری کا احساس پیدا ہوتا ہے مال میں منجانب اللہ برکت ہوتی ہے انسانیت کی محبت والفت ہمدردی وغمخواری کا سلیقہ پروان چڑھتا ہے سب سے بڑھ کر انسانی معاشرہ کہ خوشحالی اس میں مضمر ہے اگر ہر صاحب نصاب مرد وعورت اس حکم خداوندی کو پورے اہتمام واخلا ص سے اداکریں تویقینا معاشرہ سے بھکمری فقر وفاقہ اور احتیاج وضرورت مندی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہےزکوۃ اداکرنے والوں کو یہ بات مستحضر رکھنے کہ ضرورت ہیکہ امت کے غرباء ومساکین کو زکوۃ دے کر ہم ان پر کوی احسان نہیں کررہے ہیں
بلکہ اللہ تعالی نے ان کو ہمارے اس فریضہ کی ادائیگی کا محل اور مصرف بنایا ہے جس طرح نماز کی ادائیگی کا محل مساجد ہیں جس کی وجہ سے ان کا ادب واحترام لازمی ہے اسی طرح محل زکوۃ یعنی غرباء ومستحقین زکوۃ کا بھی احترام اکرام لازمی ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ زکوۃ کی ادائیگی میں لاپرواہی وبے اعتنای سے کام نہ لیں اس کی اہمیت وافادیت کو خوب سمجھیں
قرآن مجید میں باری تعالی نے 32/ مقامات پر زکوۃ کی فرضیت کو واضح اور صاف لفظوں میں بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا اقیموالصلوۃ واتوالزکوۃ ( القرآن )حدیث پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اللہ قد فرض علیھم صدقۃ توخذ من اغنیائھم فترد علی فقرائھم (الحدیث )
اللہ نے ان پر زکوۃ کو فرض فرمایا جو ان کے مالداروں سے لیکر انہی کے غرباء پر تقسیم کی جاے گی اور بھی بہت ساری احادیث میں صراحۃ حکم زکوۃ وارد ہوا ہے جس کے بے شمار فوائد وفضائل بتاکر آپ نے امت کو تلقین فرمای کہ اس امر خداوندی کو اداکریں اور زکوۃ کی ادائیگی سے روگردانی والوں کے لےء انتاہی سخت وعیدین بھی بتلائیں ہیں چنانچہ ایک روایت میں
فرمایا کہ اللہ تعالی جس بندہ کو مال دیا ہوں اور وہ اپنے مال کی زکوۃ ادانہ کرتاہوں تو اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجے سانپ کی شکل بن کر آے حا جس کی آنکھ پر دوسیاہ نقطے ہوں گے پھر وہ سانپ کو قیامت کے دن زکوۃ نہ دینے والے کے گلے میں طوق بناکر ڈالاجاے گا اور وہ انسان کی دونوں بانچھوں جبڑوں کو پکڑ کر ڈستا رہے گا اور کہتا جاے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں میں ہی تیرا خزانہ ہوں اس لےءجو مسلمان رمضان المبارک میں اپنے مالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کی ترتیب بناکر اس اہتمام کرتے ہیں وہ جلد ازجلد اپنی ترتیب کے مطابق اس پر عمل کریں اور جو لوگ اس حکم خداوندی کو اپنے لےء نعوذ باللہ بوجھ سمجھ کر بخل کرتے ہیں وہ اپنی اس خسیس حرکت سے باز ائیں اور اپنی روش کو تبدیل کرکے فوری مسائل سے واقف ہوکر اداکرنے کا اہتمام کریں اللہ پاک ہم سب کو احکام دین پر کل ومکمل طریقہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرماے. آمین
