کیا آپ اعتکاف کے مسائل سے واقف ہیں

تازہ خبر مذہبی

(معتکف کے لئے کرنے اورنہ کرنے کے کام )
از قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد

عبادت کے کچھ آداب شرائط اور طریقہ کار ہوتے ہیں جن سے عابد کو واقف ہونا بہت ضروری ہے تاکہ اس کی یہ عبادت اللہ ورسول کے منشاء اور مرضی کے مطابق ہوجائیں اور اس پر اجر وثواب مرتب ہوجاے اسی غرض سے اعتکاف کے چند مسائل کو عام فہم انداز میں قارئین کے سامنے پیش کیا جارہا ہے تاکہ اعتکاف والی عبادت درست اور صحیح ہوجاے

اللہ پاک معتکفین کی اس عظیم قربانی کو اپنے فضل سے شرف قبولیت عطاء فرماے (فضیلت )ابن ماجہ کی ایک روایت ہے جس کے راوی حضرت ابن عباس رضہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعتکاف کرنے والے گناہوں سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے لےء اسی طرح نیکیاں لکھی جاتی ہیں جس طرح نیکیاں کرنے والوں کے لےء درج کی جاتی ہیں

ابن ماجہ 127اسی طرح روایت میں ہیکہ اللہ کے نبی نے اپنی وفات تک ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف پابندی سے فرماتے رہے وفات والے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا ابن ماجہاسی طرح اگر کوی بندہ مومن ایک دن بھی اللہ کی رضا کے لئےاعتکاف کرلیتا ہے تو اللہ پاک اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقیں آڑ کردیتے ہیں

(شرائط)پنج وقتہ باجماعت نمازاداکی جانے والی مسجد میں عبادت واعتکاف کی نیت سے رکے رہنااور عورت گھر کے کسی ایک کمرہ یا ایک گوشہ میں اسی نیت سے رکے رہیں گی ..مسلمان ہونا عاقل ہونا جنابت اور حیض ونفاس سے پاک ہونا نیت اعتکاف کرنا روزہ رکھنا مسئلہ واجب اور مسنون اعتکاف کے لےء روزہ ضروری ہے نفل اعتکاف کے لےء روزہ لازم نہیں ہے (حکم)رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی اگر کسی محلہ کی مسجد میں ایک بھی آدمی اعتکاف نہ کریں تو سب محلہ والے عنداللہ ماخوذ اور گنہ گار ہوں گے اور اگر ایک آدمی بیٹھ جاے تو وہی ثواب کا مستحق ہوگا

مگر ترک اعتکاف کا گناہ سب سے ساقط ہوجاے گا اس لےء ہر مسلمان اس عمل کو کرنے کا اہتمام کرنا چاہیےمسئلہبیسویں رمضان کے سورج غروب ہونے سے قبل قبل اعتکاف کی نیت سے مسجد میں بیٹھ جاے اگر غروب آفتاب کے بعد آے تو وہ اعتکاف مسنون نہیں کہلاے گا
اس لئے اس بات کا بہت ہی زیادہ خیال رکھیں (معتکف کی حدود)اعتکاف کرنے والا آدمی طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر حدود مسجد سے باہر نہیں جاسکتا ہے یعنی مساجد میں جو جگہ نماز اداکرنے کے لےء مختص ہوتی ہے وہ مسجد کے حکم میں ہے اس کا تقدس واحترام بہرحال لازم ہے

معتکف بس اسی جگہ میں رہے اگر بلاضرورت اس حد سے باہر ہوجاے تو گنہگار بلکہ صحیح قول کے مطابق اس کا اعتکاف فاسد اور ٹوٹ جاتا ہے وضوخانہ غسل خانہ استجاء خانہ نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ امام کاکمرہ مسجد کا سامان رکھنے کی جگہ گودام جوتے چپل چھوڑنے کی جگہ اسی طرح گیٹ کے پاس یا سیڑھیوں پر کی جگہ جو عموما مسجد سے باہرہی ہوتے ہیں ایسی جگہوں پربناکسی شرعی اور طبعی عذر کے آنے جانے سے یا وقت گذارنے سے گنہ گار اور راجح کے قول کے مطابق اعتکاف ٹوٹ جاے گا

مسجد کا اوپری حصہ جس کے لےء سیڑھیاں داخل مسجد سے نہ ہوں تو وہاں پر جانے سے بھی احتراز کریں
(مسائل )(1)اعتکاف کی حالت میں معتکف بالغ ہوجاے (2)معتکف کو احتلام ہوجاے(3)نماز جمعہ کے لےء کسی خامع مسجد کو جانا جبکہ خود اس مسجد میں نماز جمعہ نہ ہوتی ہوں (4)دن میں بھول کر کوی چیزکھالینا(5)اعتکاف کی حالت میں کسی دوسرے کامال لے لینا یا کسی کی چیز کھالینا(گرچہ گناہ ہے)(6)لڑای جھگڑا گالی گلوچ کرناان سب اعمال سے اعتکاف ٹوٹتا تو نہیں ہے لیکن بہرحال یہ سب برے اعمال ہیں ان سے احتراز لازمی ہے بصورت دیگر معتکف گنہ گار کہلاے گا

( مباح اور درست کام )
1))غروب آفتاب کے بعد سے طلوع صبح صادق تک کھانا پینا (2)بوقت ضرورت آرام کرنا اور سوجانا (3)مسجد میں ہی کپڑے بدلنا (4)تیل لگانا چاہے خوشبودار ہی کیوں نہ ہوں (5)مسجد میں سامان لاے بغیراہل وعیال کی ضرقریات زندگی والی خرید وفروخت کرنا (6)بال بنوانا بشرطیکہ بال مسجد میں نہ گریں (7)مباح جائز اور دینی گفتگو کرنا (8)آرام کےلےء بستر اور ضروری سامان بچھانا علاوہ ازیں بہت سارے وہ کام ہیں جن کی جانب اعتکاف کرنے والے کی نظر نہیں جاتی مگر اس سے اعتکاف مکروہ ہوجاتاہے ایسی تمام چیزوں سے اپنی اس عبادت کومحفوظ رکھنا چاہیے(نہ کرنے کے کام)(1)مسجد میں باضابطہ تجارت کرنا (2)غیرمباح گفتگو کرنا بہیودہ کلام کرنا دنیا داری کی باتیں کرنا (3)عبادت کے خیال سے خاموش رہنا اوریہ سمجھنا کہ خاموشی بھی ایک عبادت ہے (4)موبائیل فون کا بے جا استعمال کرنا بناکسی اشد ضرورت کے بذریعہ فون بات چیت کرتے رہنا یا موبائل پر گیمس کھیلنا وغیرہ اس سلسلہ میں آج کل بہت زیادہ بے احتیاطی برتی جاتی ہے اس لےء اس کا خیال رکھا جاے (کرنے کے کام )(1)معتکف کا اعتکاف کرنا خود ایک عبادت ہے اس لےء لغویات اور لہو ولعب سے بچیں (2)تلاوت قرآن کا خوب اہتمام کریں کم از کم ایک قرآن مجید مکمل کریں (3)نوافل کا زیادہ سے زیادہ اہتمام (4)تہجد کی نماز کو پڑھنے کا اہتمام چونکہ یہ نیک لوگوں کا توشہ ہے (5)دعاؤں کا اہتمام بطور خاص رات کی تنہای میں آہ وزاری کرکے اپنے رب کو مناے (6)اگر فرض نمازیں چھوٹی ہوی ہوں تو اس کی قضاء کا اہتمام یہ عمل نوافل میں لگنے سے زیادہ افضل ہے (7)دینی کتابوں کا مطالعہ(8)جتنا زیادہ ہوسکے درود شریف کااہتمام(9)مختلف اذکار کا اہتمام (10)مسجد کے امام یا پھر کوی عالم دین بھی اعتکاف کے لئےساتھ ہوں تو دینی مسائل کا علم حاصل کریں چونکہ دین کا ضرقری علم جیسے حلال وحرام جائز وناجائز نیکی اور بدی کی تمیز یہ ہرمسلمان کےلئےء فرض ہے اللہ تبارک وتعالی ہر مسلمان کو توفیق عمل نصیب فرماے