گجرات کی پہچان گاندھی جی سے ‘ مودی اور امیت شاہ سے نہیں‘ بیرسٹر اویسی

تازہ خبر قومی

گجرات:8 ؍فروری
زین نیوزڈیسک
گجرات کی پہچان گاندھی جی  سے ہوگی ناکہ مودی اور امیت شاہ ‘میں یہ سمجھتا اور مانتا ہوں کہ گجرات گاندھی کا ہے اور گاندھی کا رہے گا۔امیت شاہ اور مودی گاندھی سے بڑے نہیں ہیں اور نہ ہوںگے۔میں بھارت کا ایک باشندہ ہوں‘ باعزت باشندہ

تصاویر :انٹر نیٹ

ہوں ‘ اول درجہ کا شہری ہوں‘ بھارت کے کسی بھی کونے میں جاسکتا ہوں۔ ا ن خیالات کا اظہارصدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے گجرات کے بھڑوچ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے ایک عظیم الشان جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ جب جلسہ سے خطاب کےلئے آرہے تھے تو ایک معزز جرنلسٹ نے یہ سوال کیا کہ اویسی صاحب آپ مودی اور امیت شاہ کے گجرات میں کیوں آئے تو میں(اویسی) نے کہاکہ یہ آپ کا سوال غلط ہے ۔ گجرات بھارت کا حصہ ہے ‘ میں بھارت کا ایک باشندہ ہوں‘ باعزت باشندہ ہوں ‘ اول درجہ کا شہری ہوں‘ بھارت کے کسی بھی کونے میں جاسکتا ہوں اور میڈیا کے لوگوں کے دماغ میں یہ بیٹھ چکا ہے کہ گجرات مودی اور امیت شاہ کا ہے یہ ان کی غلط سونچ ہے۔‘ انھوں نے کہاکہ ہماری لڑائی ہماری بقاءکے لئے ہے۔ سمودھان کو بچانے کے لئے ہے‘ اس ملک کے امن کو مضبوط کرنے کے لئے ہے‘ انھوں نے کہاکہ جمہوریت میں ڈرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا‘آنسو بہانے ‘گھٹن کی زندگی گذارنے سے کچھ نہیں ملتا۔ جمہوریت میں صرف ووٹ ڈالنے والے مت بنو ‘ ووٹ حاصل کرنے والے بھی بنو مساوات ‘ انصاف حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنا پڑے گا۔سیاسی طاقت بن کر ہی اپنے مقدر کے فیصلے کرسکتے ہیں‘ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ بھارت کے کسانوں کے احتجاج سے بی جے پی پریشان ہوگئی ہے۔ کسان ہزاروں کی تعداد میں نکل آئے ۔نعرے لگائے۔ دلی کو ٹریکٹرس لائے‘ جس کے نتیجہ میں بی جے پی پریشان ہے ۔اسی طرح جمہوریت اور اتحاد کا مظاہرہ آپ کو بھی کرنا پڑے گا۔ ہماری لڑائی ہماری بقاءکے لئے ہے۔ سمودھان کو بچانے کے لئے ہے‘ اس ملک کے امن کو مضبوط کرنے کے لئے ہے۔ گجرات میں مجلس ‘ بھارتیہ ٹرائبل پارٹی( بی ٹی پی) کے ساتھ مل

کر اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کرے گی۔ بلدیات‘ نگر پنچایت کے تمام الیکشن میں ہم پی ٹی پی کے ساتھ رہیں گے پی ٹی پی ایک متبادل سیاسی فورم کی طرح عوام کے درمیان آرہے ہیں اور عوام خصوصاً مسلمانوں‘ دلتوں اور اوبی سیز سے اپیل کی کہ وہ اس متبادل سیاسی فورم کی سرپرستی کرےں۔ ہمارا مقصد صرف الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ غریب عوام اور آدی واسیوں کو انصاف دلانا ہے‘ واضح رہے کہ گجرات کے چھ شہروں احمد آباد‘ سورت‘ راجکوٹ‘ ودودرہ ‘ جام نگر اور بھاونگر میں بلدیاتی انتخابات 21 فروری کو مقرر ہےں۔ جس میں مجلس ‘ بی ٹی پی سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کرے گی انھوں نے کہاکہ وہ مجلس راجستھان میں بھی اپنا قدم جمائے گی راجستھان کی سیاست کے حوالے اسد الدین اویسی نے کانگریس اور بی جے پی کو ماموں بھتیجہ لقب دیتے ہوئے کہاکہ راجستھان میں مسلمان کو میئر بننے سے روکنے لئےآپس میں ساز باز کیااور بی جے پی کے لئے راہ ہموار کی یہ اور کہا کہ بی جے پی اور کانگریس طرح طرح کے "اندرونی طور پر جڑے ہوئے” ہیں ، جسے الگ نہیں کیا جاسکتا  ۔واضح رہے کہ چھ شہروں احمد آباد‘ سورت‘ راجکوٹ‘ ودودرہ ‘ جام نگر اور بھاونگر میں بلدیاتی انتخابات 21 فروری اویسی نے بی جے پی حکومت پر قبائلیوں ، مسلمانوں اور او بی سی کے معاملات پر دہرا معیار برقرار رکھنے کا الزام عائد کیا۔ایک طرف ، بی جے پی حکومت نے قبائلیوں کے لئے آئین کے پانچویں نظام الاوقات (انتظامیہ اور شیڈول علاقوں اور ایس ٹی کے کنٹرول سے نمٹنے) کو نافذ کرنے سے انکار کردیا ، لیکن دوسری طرف حکومت نے قبائلی علاقوں کا قانون نافذ کیا ہے جس سے مسلمانوں کو بھی روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فروخت یا خریداری ضلعی کلکٹر کی اجازت کے بغیر زمین اور مکانات خریدے نہیں جاسکتے انھوں نے کہاکہ   "کانگریس نے مسلمانوں کے ووٹ لئے ، لیکن ان کے ممبران اسمبلی نے بی جے پی میں شمولیت  اختیارکی وی کانگریس 2002 کے فرقہ وارانہ فسادات گجرات کے دوران خاموش تماشائی بنے رہی "انھوں نے کہا کہ AIMIM اور BTP کا اتحاد گجرات میں "بی جے پی اور کانگریس” سے تنگ آچکے لوگوں کو ایک مضبوط "متبادل سیاسی پلیٹ فارم” پیش کرسکتا ہے۔اویسی نے یہ بھی اشارہ کیا کہ بی ٹی پی اور اے آئی ایم ایم بھی راجستھان میں مل کر کام کریں گےکو مقرر ہےں۔ جس میں مجلس ‘ بی ٹی پی سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کرے گی۔