گیانواپی مسجد معاملہ میں نیا موڑ۔ہندو فریق کا مدعی مقدمہ واپس لے گا

تازہ خبر قومی

وشو ویدک سناتن سنگھ کی قانونی مشاورتی کمیٹی کو بھی تحلیل

وارانسی:8؍مئی
(زیڈ این ایم ایس)
گیانواپی مسجد اور شرینگر گوری مندر کیس میں ایک نیا موڑ آگیا ہے کیونکہ وشو ویدک سناتن سنگھ نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ وارانسی کے مشہور مسجد گیانواپی مسجدکمپلیکس میں واقع مندر کے باقاعدہ درشن کے لیے عدالت میں دائر درخواست کو واپس لے لے گی۔۔ خود وشو ویدک سناتن سنگھ کے سربراہ جتیندر سنگھ بیسن نے میڈیا کے ذریعے یہ جانکاری دی ہے۔

تن سنگھ کے سربراہ جتیندر سنگھ بسن نے نے میڈیاکو بتایا کہ راکھی سنگھ، اس کی بھانجی اور ان خواتین میں سے ایک جنہوں نے وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، مقدمہ واپس لے لیں گے۔ تاہم انہوں نے اس اقدام کی وجہ نہیں بتائی۔

انہوں نے کیس واپس لینے کی وجوہات پر کھل کر بات نہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض فیصلے بعض اوقات اچانک لینے پڑتے ہیں جو کسی کی سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ کل (9 مئی) میں عدالت میں اپنا مقدمہ واپس لے لوں گا۔

وشو ویدک سناتن سنگھ کی جانب سے اچانک کیس واپس لینا کسی کی سمجھ سے باہر ہے۔ اس سے پہلے ہفتہ کو سروے کا کام بند ہونے کے بعد جیتندر سنگھ بسن نے وشو ویدک سناتن سنگھ کی قانونی مشاورتی کمیٹی کو بھی تحلیل کر دیا تھا۔ ایک کے بعد ایک اٹھائے جا رہے یہ اقدامات سب کو حیران کر رہے ہیں۔

وشوا ویدک سناتن سنگھ کے سربراہ جتیندر سنگھ بسن کی قیادت میں راکھی سنگھ سمیت پانچ خواتین نے اگست 2021 میں وارانسی کی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس معاملے میں جواب دہندہ کو چیف سکریٹری سول، ڈی ایم وارانسی، پولس کمشنر وارانسی، انجمن انتظامات مسجد کمیٹی کے چیف منیجر اور اتر پردیش حکومت کے ذریعہ بابا وشواناتھ ٹرسٹ کا سکریٹری بنایا گیا تھا۔

دونوں فریقوں کے دلائل سننے اور فائلوں کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے گیانواپی کیمپس کے سروے کے لیے ایڈوکیٹ کمشنر کو مقرر کیا ہے اور 10 مئی کو رپورٹ طلب کی ہے۔ پہلی بار 6 مئی کو 18 افراد کی ٹیم سروے اور ویڈیو گرافی کے لیے گئی۔ پہلے ہی دن جواب دہندگان نے بیریکیڈنگ کے اندر آنے کی مخالفت کرتے ہوئے نعرے لگائے۔

مدعا علیہ نے ایڈووکیٹ کمشنر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے دوسرے ایڈووکیٹ کمشنر کو تبدیل کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دی۔ اس کے بعد سروے کا کام پہلے دن ہی رک گیا۔ دوسرے دن بھی سروے ٹیم کے مسلمان جواب دہندگان نے ایک بہت بڑا ہجوم اکٹھا کیا اور اندر جانے کی مخالفت کی۔

اس پر مدعیان نے الزام لگایا کہ مسجد میں 500 سے زائد مسلمان موجود تھے اور انہیں سروے کے لیے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے وہ سروے چھوڑ رہے ہیں اور اب 9 مئی کو عدالت میں اپنا فریق پیش کریں گے۔ دونوں فریق 9 مئی کو عدالتی سماعت کا انتظار کر رہے تھے جب جتیندر سنگھ بسن نے اتوار کو یہ اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا کہ وہ اپنا مقدمہ واپس لے لیں گے۔