نئی دہلی:6جنوری
زین نیوز ڈسک
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ کوچی منگلورو قدرتی گیس پائپ لائن کو قوم کے نام وقف کیا۔یہ ‘ایک قوم ایک گیس گرڈ ’ کو وضع کرنے کی سمت ایک اہم کلیدی سنگ میل ہے ۔کرناٹک اور کیرالہ کے گورنروں اور وزرائے اعلی ٰ کے ساتھ ساتھ پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس دن کو کیرالہ اور کرناٹک ،دونوں کے عوام الناس کے لئے ایک اہم کلیدی سنگ میل قرار دیا کیونکہ دونوں ریاستیں قدرتی گیس کی ایک پائپ لائن کے ذریعہ منسلک کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس پائپ لائن سے ان دونوں ریاستوں کی اقتصادی نشوونما پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیزی کے ساتھ توسیع پاتی ہوئی گیس پر مبنی معیشت خودکفیل ہندو ستان کا مقصد حاصل کرنے کے لئے لازمی عنصر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ‘ ایک قوم ایک گیس گرڈ’ کے لئے سرکارکی توجہ کے پیچھے یہی مقصد ہے ۔پائپ لائن کے فوائد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پائپ لائن سے دونوںریاستوں میں روزمرہ کی زندگی میں بہتری آئے گی اوردونوں ریاستوں میں غریب ، درمیانے درجے اور صنعت کاروں کے اخراجات میں کمی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائن کے بہت سے شہروں میں گیس کی تقسیم کے نظام کی بنیاد بنے گی اور ان شہروںمیں سی این جی پر مبنی نقل وحمل کے نظا م کی بھی بنیاد بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پائپ لائن منگلور رفائنری کو صاف توانائی فراہم کرے گی اور ان دو ریاستوں میں آلودگی کو کم کرنے میں اہم رول ادا کرے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ آلودگی میں تخفیف کا براہ راست اثر ماحولیات پر پڑے گا ،جس سے لاکھوں درختوں کی شجر کاری کی راہ ہموار ہوگی اور جو عوام الناس کی صحت کو بہتر بنانے اور صحت سے متعلق ان کے اخراجات میں تخفیف کرنے میں مدد گار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کم آلودگی اور صاف ہوا کے باعث اس شہر میں زیادہ سیاح آنے میں دلچسپی لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پائپ لائن کی تعمیر سے روزگار کے بارہ لاکھ انفراد ی کام کرنے کے دن وضع ہوئے ہیں اور یہ اس پائپ لائن کے شروع ہونے کے بعد روز گار اور ذاتی روزگار کا ایک نیا ایکو نظا م بنائے گی،جس سے فرٹیلائزر ، پیٹروکیمیکل اور بجلی کے شعبے کو مدد ملے گی۔اس سے ہندوستان کو ملک کے لئے ہزارہا کروڑ روپے کا زر مبادلہ بچانے میں بھی مدد ملے گی۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ دنیا بھر کے ماہرین کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں جو بھی ملک رابطے اور صاف توانائی پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرے گا وہ زیادہ بلندیاں حاصل کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں کنکٹوٹی کے محاذ پر کام کی رفتار اس رفتار سے ہورہی ہے جس کی مثال ماضی کی دہائیوں میں نظر نہیں آتی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2014سے قبل 27 سال میں صرف 15000 کلومیٹر قدرتی گیس کی پائپ لائن بچھائی گئی تھی۔ لیکن اب اس وقت ملک گیر پیمانے پر 16000 کلومیٹر سے زیادہ طویل پائپ لائن پر کام جاری ہے اور اسے آئندہ 5-6 سالوں میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے سی این جی کے ایندھن کے اسٹیشنوں ، سی این جی کنکشنوں اور ایل پی جی کے ان کنکشنوں کی مثال بھی دی جو سرکار نے فراہم کرائے ہیں اور جو اس سے قبل نہیں ہوتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں بڑھتے ہوئے ان کنکشنوں کے باعث مٹی کے تیل کی قلت میں کمی ہوئی ہے ، جبکہ بہت سی ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں نے تو اپنے آپ کو مٹی کے تیل سے آزادہونے کا بھی اعلان کیا ہے ۔
