جبل پور:6 مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
سپریم کورٹ کی طرح تمام ریاستوں کی ہائی کورٹ کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی ریاست کی سرکاری زبان میں میں عوامی زندگی کے اہم فریقوں سے جڑے فیصلوں کا باقاعدہ ترجمہ اور شائع کرائیں۔
یہہ بات صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہی وہ آج مانس بھون میں آل انڈیا اسٹیٹ جیوڈیشیل اکیڈمیز ڈائریکٹرس ریٹریٹ پروگرام کا افتتاح کے بعدمنعقدہ تقریب کو مخاطب کررہے تھےقبل ازیں انھوں نے شمع جلاکر آل انڈیا جوڈیشل اکیڈمیز ڈائریکٹرز ریٹریٹ پروگرام کا افتتاح انجام دیا
انھوں نے کہاکہ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ جب ان کی یہ عاجزانہ تجویز پرعدالت عظمینے اس سمت میں کام کرتے ہوئے اپنے اپنے فیصلوں کا ترجمعہ نو ہندوستانی زبانوں میں میں دستیاب کردیا
انھوں نے کہاکہ ہندوستان کے آئین کی پریئمبل کو ہمارے آئین کی روض سمجھا جاتا ہے۔اس میں چار اصول ‘ انصاف،آزادی، موقع اور برابری اور بھائی چارہ ‘کے حصول کرانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
ان میں بھی ’انصاف‘ کا ذکر سب سے پہلے ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے نے کہا کہ انصاف کےلئے انسانی برتاؤ، سماجی طریقے کار،سیاسی نظام کو سمجھنا ضروری ہے
ہمارے عدالتی نظام کا ایک بڑا مقصد تمام لوگوں کے لئے انصاف کے دروازے کھولنا ہے ‘نظام عدل کا مقصد نہ صرف تنازعات کو حل کرنا ہے ، بلکہ انصاف کا تحفظ اور انصاف میں تاخیر کو دور کرنا ہے
انھوں نے پروگرام پرکے متعلق کہاکہ آج کا پروگرام ایک نئے عمل کا آغاز ہے ۔ مکالمہ ،نئے بلندیاں قائم کرتا ہے اور آج ہم اسی طرح کے مکالمے کا آغاز کررہے ہیں۔اس موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرود اروند بوبڑے ،گورنر آنندی بین پٹیل ،وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد رفیق بھی موجود تھے
۔ مجھے بہت خوشی ہوئی جب میری عاجزانہ تجویز پر ، اس سمت میں کام کرنے والی عدالت عظمی نے اپنے فیصلوں کا ترجمہ نو ہندوستانی زبانوں میں دستیاب کردیا