مولانا زاہد حسنؒ نے ملک کی عوام کی خدمت بلا تفریق مذہب وملت انجام دی: مولاناارشد مدنی
جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے زیر انتظام حیات زاہد سیمینارکا انعقاد
دیوبند، 21؍ فروری
(رضوان سلمانی)
مدرسہ کنزالعلوم ٹڈولی میں جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے زیر انتظام مجاہد آزادی مولانا زاہد حسن ابراہیمی سابق رکن اسمبلی کی حیات و خدمات پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔کانفرنس کی صدارت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند (الف )نے کی ،جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند (م) کی بھی تشریف آوری ہوئی ۔سیمینار میں مولانا زاہد حسن ابراہیمی سابق صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کی حیات وخدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علما ء ہند نے کہا کہ مولانا زاہد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے خاص تربیت یافتہ اور منظور نظر تھے ۔
حضرت مدنی کو آپ پر بہت اعتماد تھا،چنانچہ حضرت مدنی نے آپ کو آزادی سے قبل اسمبلی کا الیکشن بھی لڑایا،جس کے اندر آپ نے الحمد للہ کامیابی حاصل کی اور ملک کی عوام کی خدمت بلا تفریق مذہب وملت انجام دی ، مولانا مدنی نے مزید کہا کہ مولانا زاہدابراہیمیؒ ہمیشہ قوم و ملت کے لیے درد مند اور فکرمند رہتے تھے اور انہوںنے جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے قوم وملت کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔
مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا زاہدؒ ہم سب کے بڑے تھے، وہ ہمیشہ اپنی قوم کے لیے سرگرم اور متفکر رہتے تھے ،انہوں نے اپنا آرام و راحت چھوڑ کر قوم کے لیے اپنے آپ کو وقف کررکھا تھا ،مولانا محمود مدنی نے اپنے والد بزرگوار فدائے ملت مولانا اسعد مدنی ؒ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہم نے اپنے والد کو ایک مہمان کی طرح گھر میں پایا اسی طرح مولانا زاہد بھی اکثر اوقات قوم وملت کی فکر وکڑھن میں گھر سے باہر ہی رہتے تھے ۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ہمارے اکابر کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے جس پر چل کر ہم کامیابی وکامرانی کی تمام منزلیں پاسکتے ہیں ،جن لوگوں نے اپنے بزرگوں کی زندگی کو نظر انداز کیا وہ بھٹک گئے ، اس لیے ہمیں اپنے بزرگوں کی تاریخ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ہے ،ہمارے پاس اکابر کی شکل میں ایسی جماعت ہے کہ جن کے نقش قدم پر چل کر ہمیں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ، ورنہ دنیا کی بہت سی قوموں کو سوچنا پڑتا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ مولانا زاہد حسنؒ باحوصلہ ، باہمت اور جرأت مند انسان تھے، ان کی خدمات اور بلند کاموں کا احاطہ ضروری تھا تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے نشانِ راہ بنے وجماعت دیوبند کے ممتاز لوگوں میں سے تھے ۔
یہ جو ان کا مبسوط تذکرہ آیا ہے وہ آج اور کل کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ مولانا زاہد حسن کی خدمات پر بولتے ہوئے مولانا سید حبیب اللہ مدنی صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور نے کہا کہ حضرت رحمہ اللہ کے ملفوظات و کارنامے جو تقریبا تین دہائیوں سے بھی طویل عرصے سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے چلے آرہے تھے آج کتابی شکل میں یکجا ہوکر ہمارے سامنے آگئے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ اور نمونہ بنیں گے۔
اس موقع پر مرتب کتاب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مولانا زاہد حسن مرحوم کے جانشین مولانا محمد عارف قاسمی رکن مجلس شوریٰ مظاہر علوم سہارنپور نے خانوادہ زاہدی کی جانب سے گراں قدر انعامات سے بھی نواز۔مولانا عبد المالک مغیثی صدر آل انڈیا ملی کونسل ضلع سہارنپور نے کہاکہ مولانا زاہد حسنؒ ایک بلند پایہ کے عالم تھے ، انہو ںنے ملت کے لئے بہت سے کام کئے ہیں ۔

جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے بھی ان کے رفاہی ، فلاحی ، دینی اور معاشرتی کاموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پروگرام کے اندر مولانا زاہد حسن کی حیات وخدمات پر مرتب کردہ کتاب ’’حیات زاہد‘‘(مرتبہ: مفتی عبد الخالق قاسمی ماجری) کا اجراء بھی ملک کے نامور علماء ، مشہور علمی وقلمی شخصیات کے مبارک ہاتھوں سے عمل میں آیا ، واضح رہے کہ مولانا زاہد حسن کا انتقال تین دہائی قبل ہو ا تھا مگر اب تک حضرت کی حیات و خدمات پر کوئی کتاب ترتیب نہیں دی گئی تھی البتہ مولانا زاہد صاحب سے تعلق ومحبت رکھنے والے علماء کرام اس سلسلے میںہمیشہ سے محو تدبر و تفکر تھے ، اور اس کی تکمیل کے لیے مستقل تگ ودو کرتے رہتے تھے ۔
سیمینار میں مولانا سیدمحمد شاہد امین عام جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی ، پیر جی حافظ حسین ،مولانا ابو الکلام ،مولانا توقیر ،مولانا ممشاد ،مولانا ظہور ،مولانا محمد عاقل ،مولانا محمد ہاشم ، مولانا احسن زاہدی ومولانا محمد احمد زاہدی کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
سیمینار کو کامیاب بنانے کے لئے مولاناقاری محمد الیاس اور مولانا عامر مظاہری ،مولانا محمد احسان تحسین قاسمی آفس سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور،مفتی پرویز عالم ایوبی اور خانوادہ زاہدی کے ہرفرد کا تعاون رہا۔ قبل ازیں سیمینارکا آغاز جناب قاری ثاقب کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا ،جبکہ نظامت کے فرائض مولانا سید حبیب اللہ مدنی ناظم مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر و صدر جمعیۃ علما ضلع سہارنپور نے انجام دی ۔ مولانا سید شاہد امین عام مظاہر علوم کی رقت آمیز دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا،پروگرام کے آخیر میں مولانا محمد عامر صاحب ناظم مدرسہ کنز العلوم ٹڈولی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس سیمینار میں مفتی محمد اسجد ابراہیمی ،مولانا جمشید ،مولانا محمد طاہر ،مولانا عبد الرشید ناظم ، مفتی محمد ساجد کھجناوری ،مولانا انعام اللہ قاسمی ، مولانا وسیم قاسمی، مولانا فاروق ، مولانا شمشیر، قاری شوقین، مولانا ثوبان، صوفی معین الدین ،مولانا محمد ہارون ،مولانا محمد عمر ،مولانا صلاح الدین زاہدی، مفتی اسجد ہریدواری ،قاری بلال خانپوری ،قاری عطاء الرحمان کھجناوری اور مدرسہ کنز العلوم ٹڈولی کے تمام اساتذہ کے علاوہ سینکڑوں علما ء کرام اور قرب وجوار سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔