ہندوستان کے مسلمان اپنے تمام معاملات میں دارالعلوم دیوبند کو مرکز سمجھیں

تازہ خبر قومی

آل انڈیا تحریک تحفظ سنت ومدح صحابہ کے سالانہ اجلاس سے مولانا محمد الیاس گھمن،مفتی اسعد قاسم سنبھلی اورمولانا یامین قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند کا خطاب
دیوبند 2 مارچ
(پریس نوٹ)
آل انڈیا تحریک تحفظ سنت ومدح صحابہ کے زیر اہتمام سالانہ سہ روزہ عظیم الشان اجلاس عام کی آخری نشست رات ۹ تا ۱۲ بجے زیر صدارت مولانا ابو حنظلہ عبد الاحد قاسمی صاحب منعقد ہوئی، حسب روایت مجلس کا آغاز قاری امیر عالم قاسمی مقیم دوحہ قطر کی تلاوت اور مولانا امجد صدیقی کلکتہ کی نعت پاک سے ہوا، اسکے بعد ناظم جلسہ نے تحریک کے سرپرست حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی لکھنوی صاحب کا پیغام پڑھ کر سنانے کےلیے انکے پوتے اور تحریک کے معزز رکن مولانا ابوالحسن علی فاروقی کو مدعو کیا انھوں نے تحریک کے تئیں حضرت کا محبت بھرا پیغام پڑھکر سنایا،
اسکے بعد ناظم جلسہ نے پروگرام کے پہلے مقرر اور ملک کے نامور عالم دین،فاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی محمد اسعد قاسم سنبھلی صاحب کو دعوت خطاب دی، آپ کا موضوع تھا” مہدویت وشکیلیت اوراسکی حقیقت "خطبہ مسنونہ کے بعد آپ نے مفصل اور حقائق پر مبنی گفتگو فرمائی،اپنے خطاب کے دوران انھوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے مہدی کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے کہ شخصیت مہدی کیا ہے ؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں نبی تو نہیں ہونگے البتہ خلفاء ہونگے فیکثرون زیادہ ہونگے , تاریخ کا سہارا لیکر دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال تک چلا ہے، خلافت راشدہ ٤۱ تک , خلافت بنو امیہ ۱۳۲۔خلافت بنو عباس دور اول ٦۵٦۔دور ثانی ۹۲۳۔پھر عثمانی ترکوں کی خلافت ۱۳٤۲ ھجری تک قائم رہی، امت میں یہ نظام قائم رہا اگر چہ معیار میں تبدیلی ہوتی ررہی،الغرض اللہ کے رسول ﷺ نے ۱۲ خلفاء کے متعلق خبر دی ہے کہ یہ خلفاء راشد ہونگے جنمیں آخری خلیفہ امام مہدی ہونگے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ میری امت میں مجددین پیدا ہونگے جو دین کی شکل و شبیہ کو بدعات و ضلالت سے پاک فرماتے رہینگے, جنمیں آخری مجدد امام مہدی ہونگے

۔اب آئیے دیکھتے اور پرکھتے ہیں آج کے مدعیان مہدویت کو ان کسوٹیوں پر، سب سے پہلے ہندوستان میں دعوائے مہدی کرنے والے شخص محمد جونپوری ہیں جنکی وفات ۹۱٠ میں ہوئی ہے،دوسرا دعوی مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا ہے اور اگر دیگر ممالک کی بات کی جائے خاص طور پر ایران جیسے ملک کی تو وہاں یہ تعداد بے شمار ہے ساڑھے تین ہزار مدعیان کذاب تو نظر بند ہیں ,کھلے مہار پھرنے والے ان گنت ہیں،اسوقت تمام مدعیان میں شکیل بن حنیف جو ہندوستان کا پروردہ ہے انتہائ سازشی اور خطرناک شخص ہے ,جسکے شاگردان اور معتقدین جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں ,نیز علامات مہدی جو واضح اور بین ہیں ان پر شکیل بن حنیف سے کئی بار گفتگو بھی ہوئی ہے جسمیں اسکو شکست کا سامانا کرناپڑا” اسکے بعد دوسرے مقرر اور مہمان خصوصی، وکیل احناف، رئیس المتکلمین، عالمی اتحاد اہل سنت والجماعت کے امیر حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب تھے انکو دعوت خطاب دی گئی،آپکا موضوع” علماء دیوبند کی حقانیت” تھا،اپنے خطاب کے دوران آپ نے فرمایا کہ مجھے پانچ باتیں عرض کرنی ہے، اوروہ یہ ہے ۱ ہمارا تعارف کیا ہے؟ فرمایا دیننا الاسلام ۔مسلکنا اہل السنہ والجماعہ ۔مذہبنا الحنفیہ، منہجنا الدیوبندیہ۔
فرمایا دین نام ہے قطعیات کا جسکا اقرار اسلام ہے اورانکار کفر ہے، مسلک نام ہے منصوصات و ظنیات کا، جسکا اقرار اہل سنت والجماعت ہے اور انکار بدعت ہے۔مذہب نام ہے اجتہادیات کا جیسے احناف شوافع مالکیہ حنابلہ ۔یہ اختلاف رحمت ہے اسمیں نہ ایمان و کفر کا اختلاف ہے اور نہ سنت و بدعت کا اختلاف ہے۔منہج نام ہے طریقہ کار کا ہمیں پوری دنیا میں عموما برصغیر میں خصوصا ۔کیسے کام کرنا ہے یہ ہمیں طریقہ کار دیا ہے علماء دیوبند نے ۔
۲ نسبتِ دارالعلوم, فرمایا کہ ہم شہر دیوبند کی جانب نسبت نہیں کرتے بلکہ اس شہر میں جو دارالعلوم ہے وہ ہماری نسبت کا مرکز ہے ۔جسکے پانچ بانیان ہیں ,حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ,حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ,حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری ,حضرت مولانا رفیع الدین دیوبندی ,حضرت حاجی سید محمد عابد حسین دیوبندی رحمہم اللہ ہیں۔ حضرت نے فرمایا میں ان اکابرین بانیان کے اسماء میں نیک فال لیتے ہوئے عرض کرتا ہوں ۔رشید احمد کو دیکھیں تو قرآن کہتا ہے ,الیس منکم رجل رشید ۔ محمد قاسم کو دیکھیں تو حدیث پیغمبر یاد آتی ہے ۔واللہ یعطی انما انا قاسم ۔احمد علی سہارنپوری کو دیکھیں تو یہ حدیث یاد آتی ہے ۔انا مدینۃ العلم وعلی باب۔رفیع الدین کو دیکھیں تو قرآن کہتا ہے ۔یرفع اللہ الذین امنو منکم ۔عابد حسین کو دیکھیں تو قرآن کہتا ہے فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی ۔دیوبند والے عباد الرحمن ہیں ۔حسین سے معلوم ہوتا ہے حسینی کردار ہے یزیدی نہیں استاذ و شاگرد بھی محمود ہیں تو جنت میں ہمارے نبی کا مقام بھی محمود ہے جھنڈا نبی بھی محمود ہے۔ وہ درسگاہ جہاں استاذ و شاگرد بیٹھیے ہیں وہ انار کا درخت ہے جسکے نیچے بیٹھ کر علم نبوت کو سیکھاہے,تو اسوقت یہ آیت یاد آتی ہے قرآن کہتا ہے فیہما فاکہۃ و نخل ورمان الغرض یہاں سے ہم نیک فال لیتے ہیں۔
۳۔ فرمایا اہل دیوبند کون ہیں جب کہا جائے کہ دیوبند کی رائے یہ ہے تو مراد کون ہونگے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ,حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہی,حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندی ,حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی ,حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ,حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ,حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی ,حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہم اللہ
۴۔ فرمایا نبوت کے تین کام ہیں ۱.اشاعت دین ۲. دفاع دین ۳.نفاذ دین ۔چار طریقہ کار ہیں ۔۱.تقریر ۲.تحریر ۳.مناظرہ ٤.جہاد ۔دین کو بیان کرنے کے تین منہج ہیں ۱.اخلاص ۲.دلیل ۳. اعتدال جنمیں یہ چیزیں ہوں وہ دیوبندی ہے ۔اگر دلیل ہے اخلاص نہیں اخلاص ہے اور بے دلیل ہے اگر دونوں بھی ہوں اور اعتدال نہ ہوں تو دیوبندی نہیں ہوسکتا۔
۵۔ ہندوستان میں خصوصا نسبت دیوبند رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ دیوبند کو اپنے تمام معاملات میں مرکز سمجھیں ۔چاہے عقائد ہوں مسائل ہوں یا پھر سیاسیات ہوں،ہر معاملے میں دارالعلوم دیوبند کو اپنا رہبر اور مرکز سمجھیں۔
تیسرے مقرر کی حیثیت سے مبلغ دار العلوم دیوبند حضرت مولانا محمد یامین قاسمی صاحب کودعوت دی گئی، آپ کا عنوان تھا "مشاجرات صحابہ "،اپنے خطاب کے دوران آپ نے فرمایا کہ تعلیمات نبوی جو امت تک پہنچانے والے ہیں وہ صحابہ کرام ہی ہیں اور قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب بھی صحابہ ہی ہیں، نبی کی اداؤں کو محفوظ کرنے والے صحابہ، فرمایا اس دنیا میں انبیاء کے بعد سب سے اعلی مرتبہ پر فائز صحابہ کرام ہی ہیں اللہ تعالی نے تمام برائیوں سے انکو بچایا ,جنکی مدح قرآن کرے اللہ تعالی نے فرمایا ۔ وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفر و الفسوق والعصیان ۔ایمان جن پر جچے وہ صحابہ ۔اللہ کے رسول نے فرمایا جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو صحابہ کو مطعون کریں تو ان پر لعنت بھیجو ,فرمایا کہ اللہ رب العزت نے انکو معاف فرمادیا قرآن کہتا ہے ولقد عفااللہ عنہ ,قرآن نے انکی آپسی محبت و الفت کی گواہی دی ہے فرمایا ۔فالف بین قلوبکم ۔کہیں فرمایا والف بین قلوبہم ۔اجتہادی خطائیں ہوتی ہیں لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انکو مطعون کیا جائے فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔اگر صحابہ کرام کی ذوات قدسیہ کو مجروح و مطعون کیا جائیگا تو قرآن کریم کی آیات اور احادیث سے اعتماد اٹھ جائیگا ,اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ رکھے آمین جزاہ اللہ۔
اس کے بعد تحریک کے سرپرست اور دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم و استاذ حدیث حضرت مفتی محمد راشد اعظمی صاحب بھی پروگرام میں مدعو تھے،لیکن کچھ اعذار کی بنا پر شریک نہ ہو سکے، انکا پیغام تحریک کے جنرل سکریٹری اورانتہائی فعال شخصیت،مولانا رضوان اللہ نعمانی نے پڑھ کر سنایا جسمیں تحریک کے تئیں اپنی محبت کا اظہار تھا۔اسکے بعد تحریک کے نائب صدراور انتہائی مخلص شخصیت مفتی شاہجہاں قاسمی صاحب کو مدعو کیا گیا آپ نے اپنے پرخلوص کلمات میں تحریک سے وابستگی اور عقیدت کا اظہار فرمایا جزاک اللہ۔ بعدہ تحریک کے صحافتی امور کے ذمہ دار اور ترجمان، مولانا سرفراز احمد قاسمی نے بھی اپنے خیالات اور اپنی عقیدت کا اظہار فرمایا۔اخیر میں صدر محترم نے مفتی شکیل احمد قاسمی کو بھی اظہار خیال کا حکم دیا انھوں نے اپنی بات رکھی،پھر اسکے بعدصدر محترم نے تمام مہمانان کرام و ناظرین و سامعین کا شکریہ ادا کیا،صدر محترم ہی کی پر سوز دعا پر اس مبارک اور عظیم الشان اجلاس اختتام کو پہونچا،نظامت کے فرائض مولانا عبدالاحد قاسمی نے انجام دیئے،عامة المسلمین کی بڑی تعداد نے استفادہ کیا۔
(یہ رپورٹ تحریک تحفظ سنت ومدح صحابہ کے مرکزی آفس دیوبند سے جاری گئی ہے)