ہندی بولنے والے دوسرے درجے کی نوکری کرتے ہیں یا پانی پوری بیچتے ہیں

تازہ خبر قومی

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تعلیم کا متنازعہ بیان۔ بی جے پی آگ بگولہ

نئی دہلی : 14؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تعلیم پونموڈی نے ہندی زبان بولنے والوں پر ایک متنازعہ بیان دیا۔ پونمودی کوئمبٹور میں بھرتھیار یونیورسٹی کے کانووکیشن میں طلباء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ہماری جگہ پانی پوری بیچنے کا کام ہندی بولنے والے کرتے ہیں۔ پونموڈی نے طلباء سے کہا کہ وہ انگریزی کو زیادہ اہمیت دیں۔ اس موقع پر تمل ناڈو کے گورنر آر این روی بھی موجود تھے۔

اپنے خطاب میں کے وزیر اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ ہندی بولنے والے یا تو دوسرے درجے کی نوکری کرتے ہیں۔ یا وہ سڑک پر پانی اور پوری ڈالتے ہوئے نظر آتا ہے۔ تاہم، انہوں نے تمل طلباء سے کہا کہ اگر طلباء ہندی زبان سیکھنا چاہتے ہیں تو ان کا اختیاری مضمون ہندی ہونا چاہئے نہ کہ لازمی مضمون۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی اچھی چیزوں کو تمل ناڈو میں بھی نافذ کیا جائے گا۔ تمل ناڈو کی حکومت دو زبانوں کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پونموڈی نے سوال کیا کہ چونکہ انگریزی بین الاقوامی زبان بن گئی ہے، اس لیے ہندی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج انگریزی ہندی سے زیادہ قیمتی زبان ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی تعلیمی نظام میں تمل ناڈو سب سے آگے ہے۔ یہاں کے طلباء کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے وزیر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڈی نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ تمل ناڈو کے ایک سینئر وزیر نے شمالی ہندوستانیوں اور خاص کر ہندی بولنے والوں کے بارے میں کچھ ریمارکس دیئے ہیں۔
تمل ناڈو ہمیں اتنا ہی عزیز ہے، اور یہ ایک ترقی پسند ریاست ہے۔ لیکن وہاں کے وزیر کا ایسا بیان کہ ہندی بولنے والے ہی زندگی میں گول گپے بیچ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک بیان ہے۔ یہ ان لوگوں کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو زبان کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے ہر گز قبول نہیں کرتے اور ایسی زبان کی شدید مذمت کرتے ہیں