وارانسی:۔28؍ستمبر
(زین نیوزڈیسک)
اتر پردیش میں بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں یوگا کرتے ہوئے ایک طالبہ کی موت ہو گئی۔جو شعبہ نفسیات کی ریسرچ اسکالر تھیں۔ انوبا اپادھیائے نام کی ایک طالبہ ڈاکٹر سنگیتا گہلوت کے تحت پی ایچ ڈی کر رہی تھی، جو آیوروید کی فیکلٹی کے شعبہ ایکشن باڈی کی ٹیچر ہیں۔ متوفی انوبھا اپادھیائے بی ایچ یو کے ورکنگ ویمن ہاسٹل میں رہتی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ انوبھا کل روزے پر تھیں۔
ابتدائی طور پر، یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس کی موت پراسرار حالات میں ہوئی ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ یوگا کے دوران بیہوش ہو گئیں۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ صبح 7 بجے کے قریب یوگا کرتے ہوئے، اس کے نتھنوں سے خون بہنے لگا اور پھر وہ بے ہوش ہوگئیں۔ اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گئی۔بی ایچ یو آیوروید کے شعبہ کے سربراہ کے مطابق طالب علم دل کی بیماری میں مبتلا تھی۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ایک نایاب بیماری میں مبتلا تھی جسے ویسکولائٹس کہتے ہیںTakayasu arteritis)۔ اس بیماری میں خون کی نالیوں کی سوزش شامل ہے۔انوبھا کی لاش کو بی ایچ یو ہسپتال کے ہی مردہ خانہ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے والدین کو اطلاع کر دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انوبا نے گورکھپور یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انوبا کشی نگر کی رہنے والی ہے اور اس کے والد کا نام دین دیال اپادھیائے ہے۔
انوبا اپادھیائے کی اچانک موت سے بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسرس‘ ڈاکٹرس‘اور پی ایچ ڈی کے طالبات‘ شعبہ نفسیات کی ریسرچ اسکالرس میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ یوگا کے بعدانوبا کے موت نے یونیورسٹی کے تمام طالبات کو صدمہ سے دوچار کردیا۔یونیورسٹی میں غم کا ماحول چھا گیا۔
