یکم جنوری پرجشن یاخرافات کیاہےاسلامی نقطہ نظر اورہماری ذمہ داریاں

تازہ خبر مذہبی

محمد امین الرشید سیتامڑھی

سال نو کے شروع ہونے میں چند ساعت رہ گئے ہیں ۔ لوگوں کو جنوری کی پہلی تاریخ کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے بھی غیروں کی نقالی میں اپنی اقدار و روایات کو کم تر اور حقیر سمجھ کر نئے سال کا جشن منانا شروع کر دیا ہے ، جب کہ یہ عیسائیوں کا ترتیب دیا ہوا نظامِ تاریخ ہے

دوسری بات یہ کہ خوشی کا بے محابا اظہار اور وہ بھی سال نو پر ایک لایعنی اور فضول بات ہے، دعا دینا تو بہت خوب ہے ، ضرور دیجئے

لیکن رات بارہ بجے کے بعد فائرنگ کرنا ، لائٹنگ پر فضول خرچی کرنا اور پٹاخے ، جس سے لوگوں کے آرام میں خلل آئے اور جان ومال کا نقصان ہو تو یہ بات اب کار حرام کے درجے میں چلی جائیگی۔

#ماضی_کا_احتساب

نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کر تا ہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہو گیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی اداۓ گی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کر کے دیکھنا چاہئے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؛ اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا؛ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا“۔ ترجمہ: تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے ۔
اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا مؤاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہئے اور ملی ہوئی مہلت کا فائدہ اٹھانا چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہو جائے ۔ اس کو اللہ جل شانہ نے اپنے پاک کلام میں ایک خاص انداز سے ارشاد فرمایا ہے: ”وانفقوا مما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت فيقول رب لولا أخرتني إلى أجل قريب فأصدق وأكن من الصالحين، ولن یؤخر الله نفسا إذا جاء أجلہا والله خبير بما تعملون“۔ ترجمہ: اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے ، اس میں سے (ہماری راہ میں ) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں ۔ اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالی ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالی اچھی طرح باخبر ہے۔

رہی بات گزشتہ زندگی کی غلطیوں پر نادم ہونے کی اور اس پر اللہ سے استغفار کرنے کی تو یہ فکر سال نو ہی پر نہیں بلکہ ہمیں ہر روز اور ہر رات اپنا احتساب کرتے ہوئے رہنا چاہیے ، اگر اسی اصول پر سال نو پر مبارک ، باد نہیں دی جاسکتی تو کسی موقع پر نہیں دیجا سکتی

*”سال تو ہر سال بدلتا ہے کیوں نا اس سال خود کو بدلیں۔”*

اور نفرتوں کی جگہ محبتوں کو پروان چڑھائیں عداوتوں کے بجائے اخوت و بھائی چارگی کو عام کریں ۔زندگی کو صرف دنیا داری و مادیت کے حصول میں غرق نہ کریں بلکہ دین داری میں بھی اپنی عمروں کو لگائیں ۔
اپنی زندگیوں پر اسلامی تعلیمات و اسلامی اصولوں کو نافذ کرتے ہوئے معاشرے کی تعمیر نو اور تشکیل نو میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

پھر یقینا ہر آنے والا نیا سال ہمارے لیے خوش آئند ثابت ہو گا ۔ ان شاءلله

اللہ ہم سب کو صحیح معنوں میں مسلمان بننے کی اور اسلام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔آمین

*محمد امین الرشید سیتامڑھی*