دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم سب موت کے مراحل کے بعد کی تیاری کریں۔مولانا نسیم اختر شاہ
دیوبند، 6؍ اپریل
(رضوان سلمانی)
اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ ایک مرتبہ پھر رحمتوں اور برکتوں والا رمضان المبارک کا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے اور ہمیں روزے رکھنے و اس ماہ کی مخصوص عبادات کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔رمضان صبر اور استقلال کا مہینہ ہے اور صبر واستقلال واستقامت کا ثواب اور ثمرہ جنت ہے ۔ان خیا لات کا اظہار دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور معروف عالم دین مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ماہ صیام کے طفیل اللہ رب العزت نے ہمیں ایک مرتبہ پھر برکتوں اور رحمتوں سے اپنے اپنے دامن بھر لینے کا موقع دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جو گذشتہ رمضان میں ہمارے ساتھ تھے لیکن اب وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔
مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ معلوم نہیں کہ ہم میں سے کس کس کا یہ آخری رمضان ثابت ہو،ہماری مختصر زندگیاں بڑی سرعت کے ساتھ گذر رہی ہیں اسلئے دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم سب موت کے مراحل کے بعد کی تیاری کریں۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ان تیایوں کے لئے سب سے بہتر مہینہ ہے اسلئے ہمیں اس ماہ کی عبادات میں مشغول ہوکر اپنی دنیاوی واخروی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی استطاعت کے مطابق روزہ دار کو کھانا کھلانا ،پانی پلانا نہایت اجر وثواب کا باعث ہے ۔یہ وہ مہینہ ہے جس کا آغاز رحمت سے ،درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات دلانے والا ہے ۔مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ رمضان المبارک کے اس مہینہ میں اپنے اہم مقصد روزہ کو پیش نظر رکھ کر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے قلوب میں اللہ رب العزت کا تقویٰ کس قدر موجود ہے ،ہم محتلف امور انجام دیتے وقت اللہ تعالیٰ کو کس قدر یاد رکھتے ہیں یا ہمارے دل ودماغ میں اللہ رب العالمین کے سامنے جواب دہی کا کس قدر احساس باقی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اس لئے ہمیں اس ماہ مبارک میں خصوصی طور پر یہ غور وفکر کرنا چاہئے کہ قرآن سے ہمارا کس قدر تعلق ہے اور ہم روزانہ تلاوت کلام پاک کے لئے کتنا وقت دے پاتے ہیں ۔مولانا موصوف نے کہا کہ یہ مہینہ احتساب کا بھی مہینہ ہے کیونکہ رمضان شروع ہوتے ہیں مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں ،اذان کی آوازیں سن کر بوڑھے ،جوا ن اور بچے مسجدوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
اس وقت مسجدیں بھی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں کیونکہ مساجد میں ایک وہ نمازی ہوتے ہیں جو ہمیشہ مساجد کو آباد رکھتے ہیں اور دوسرے وہ نمازی جو صرف رمضان کے نمازی ہوتے ہیں جو صفوں کو لانگھتے ہوئے پہلی یا دوسری صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو بڑی بڑی افطار پارٹیوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔
رمضان المبارک کا پہلا اور دوسرا عشرہ اسی کشما کش میں گذرجاتا ہے ان دونوں عشروں میں نوجوانوں کے گروپ چندا جمع کرکے افطار پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں کچھ مسلم علاقوں میں افطار پارٹیوں کا انتظام کرنا ایک طرح کا چلن بن چکا ہے ۔مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ ہم سب کو یہ طے کرنا چاہئے کہ اس بابرکت مہینہ کو اس طرح کی لغویات کا مہینہ نہ بنائیں بلکہ زیادہ سے زیادہ نیکیوں کے حصول اور عبادات پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور اپنی راتیں زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں گذاریں ۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمتوں کا عشرہ ہے اور دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اور تیسرا وآخری دوزخ سے نجات کا عشرہ ہے لہٰذا ہم سب کو اپنی تمام تر توجہ اسی پر مرکوز رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کی قدر دانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
