2مئی کولاک ڈاؤن یا کرفیو سے متعلق مرکز کے فیصلہ کی قیاس آرائیاں

تازہ خبر قومی

حیدرآباد۔28 اپریل 
( محمد فہیم الدین)
کورونا کی عالمی وباءکا ستم نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں ہر گذرتے دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ ملک بھر میں تین لاکھ سے زائد کیسس درج رجسٹر ہورہے ہےں اور ہزاروں افراد فوت ہورہے ہےں۔

اس کے باوجودمرکزی حکومت سخت قدم اٹھانے سے قاصر دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعظم مسٹر نریندر مودی نے قوم سے خطاب کے دوران واضح کیا کہ ریاستوںاور وباءکی شدت اور مقامی حالات کی مناسبت سے متعلقہ ریاستوں کی حکومتیں اپنے طورپر فیصلے کا اختیار رکھتی ہےں۔ ملک میں کورنا کی تباہی کے باوجود مرکزی سخت گیری اقدامات سے گریز اں ہے۔

عام طورپر دانشور طبقہ کی یہ شکایت ہے کہ ہیلت ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے ماحول تیار ہونے کے باوجود مرکز خاموش تماشائی کا رول ادا کررہا ہے۔ اس کے پیچھے ریاستوں میں منعقد ہونے والے مرحلہ وار انتخابات اور اس کے نتائج کے ساتھ ساتھ پارٹیوں کے مفادات کا رفرما ہوںگے۔ کیونکہ چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں اسمبلی انتخابات کی وجہ سے خیال کیاجاتا ہے کہ فیصلہ لےنے میںیہی عوامل حائل ہورہے ہوں۔

اس لئے یہ قیاس لگایا جارہا ہے کہ  2مئی کی شب سے یا اس کے دوسرے دن کوئی ایک سخت گیر فیصلہ لیا جائے گا۔ درحقیقت کورونا کی دوسری لہر کی ابتداءمیں ہی مرکز اور ریاستی حکومتیں چوکس ہوا کرتی تھیں تاہم اسمبلی اور ادارہ جات مجالس مقامی کے انتخابات کی وجہ سے وہ اس پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہےں اےسا بھی گمان کیاجارہا ہے اس کی وجہ سے ہی ملک میں وباءنے اس قدر شدت اختیار کرلی۔

بیرون ممالک کی میڈیا میں صاف طورپر اس کا حوالہ دیاجارہا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لئے حال ہی میں منعقدہ انتخابات کو مدارس ہائی کورٹ نے ذمہ دار ٹہراتے ہوئے چند ایک سخت گیر ریمارکس بھی کئے اور الیکشن کمیشن کو اس کے لئے مورد الزام ٹہرانے یا حکومتوں کو اس وباءکے تئیں لاپرواہی برتنے پرسپریم کورٹ کے بشمول بےشتر ریاستوں کی ہائی کورٹس نے ہدف ملامت بنایاہے۔

عدالتوں کا یہ کہنا تھا کہ حکومتیں اور پارٹیاں عالمی اس وباءکی دوسری لہر کے پھیلاؤ کے لئے راست ذمہ دار ہےں جنہوں نے اپنے انتخابی جلسوں‘ جلوس اور ریالیوں کے دوران اس کے پروٹوکال پر عمل کرنے میں پہلو تہی کا نہ صرف مظاہرہ کیا بلکہ اس کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود مرکز اس معاملہ میں کوئی فیصلہ لےنے سے گریز اں ہے۔

تعلیم یافتہ طبقہ اور قومی میڈیا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ انتخابی نتائج کے اعلان بعد اس معاملہ پر کوئی ایک قطعی فیصلہ لیا جائے گا چاہے یہ فیصلہ مرکز یا پھر ریاستی حکومتیں ہی کیوں نہ لےں۔ کیونکہ مرکز نے اپنے کو اس سے بری ذمہ قراردےنے کے لئے ریاستوں کوبہ ظاہر چند ایک اختیارات دےئے ہےں۔اس سلسلہ میں مرکزی وزارت داخلہ نے باضابطہ ایک سرکیولر جاری کیا ہے۔
2مئی کو 4 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں منعقدہ عام انتخابی نتائج کا اعلان ہوگا۔ جس میں تلنگانہ کے اسمبلی حلقہ ناگرجنا ساگر اورآندھراپردیش کے لوک سبھا حلقہ تروپتی بھی شامل ہے جہاں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ مرکز اگر فیصلہ لےنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر 3 مئی کو تلنگانہ و آندھراپردیش کی حکومتیں اپنے طورپر 24 گھنٹوں سے متعلق کوئی سخت فیصلہ لیںگی جو پہلے ہی سے نائٹ کرفیو پرعمل پیرا ہےں۔

3مئی کو ادارہ جات شہری مجالس مقامی ( بلدیات) کے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی 24گھنٹوں سے متعلق کوئی سخت فیصلہ کا اعلان کرےںگی چاہے یہ کرفیو یا مکمل لاک ڈاؤن ہی کیوں نہ ہو ۔ ممکن ہے کہ اس سال بھی مسلمانوں کو عید الفطر کی خوشیوں سے محروم ہونا پڑے جیساکہ سال گذشتہ انہےں نماز عیدین کو عیدگاہوں اور مساجد میں ادا کرنے سے محروم ہونا پڑا تھا۔