کابل کی مسجد میں طاقتور دھماکہ، 20 سے زائد مصلی جاں بحق؛ 40 زخمی

تازہ خبر عالمی

کابل : 17/ اگست
(زیڈ این ایم ایس)
افغانستان کے دارالحکومت کابل کی ایک مسجد میں گذشتہ روز نماز مغرب کے دوران دھماکہ ہوا ہے۔ اس واقعے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 40 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
طلوع ٹی وی کے ٹیلی گرام چینل کے مطابق بدھ کی شام افغانستان کے دارالحکومت کابل کے خیرخانہ میں واقع ‘ابوبکر صدیق’ مسجد میں دھماکے کی آواز سنی گئی.طالبان کے سیکوریٹی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ کابل کے علاقے PD-17 میں ہوا۔

طالبان کے سیکوریٹی عہدیدار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ مسجد کے عالم امیر محمد کابلی بھی دھماکے میں جاں بحق ہوئے

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ زور دار دھماکے کی آواز شمالی کابل کے پڑوس میں سنی گئی، جس سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں

ابھی تک کسی نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق شہر کے علاقے کھیر کھنہ سے تعلق رکھنے والے ایک خودکش بمبار نے صدیقیہ مسجد کو نشانہ بنایا اور وہاں دھماکہ کیا۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ زور دار دھماکے کی آواز شمالی کابل کے پڑوس میں سنی گئی، جس سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

 

 

پی ٹی آئی نیوز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مقتول مولوی ملا امیر محمد کابلی تھا۔ انہوں نے کہا کہ 30 سے ​​زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کابل میں اطالوی ایمرجنسی ہسپتال نے کہا کہ جائے وقوعہ سے کم از کم 27 زخمی شہریوں کو لایا گیا ہے جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دھماکے کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ "اس طرح کے جرائم کے مرتکب افراد کو جلد ہی کیفرکردار تک پہنچا کر سزا دی جائے گی۔

کابل میں مسلسل دھماکے، ان کے پیچھے دولتِ اسلامیہ، گزشتہ ہفتے کابل میں فدائین حملے میں طالبان کے حامی مولانا شیخ رحیم اللہ حقان کی ہلاکت تھی۔ اسلامک اسٹیٹ نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس سے قبل 8 اگست کو کابل کے ایک بازار میں بم دھماکے میں 8 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکا شہر کے مغربی علاقے میں ہوا جہاں شیعہ مسلم کمیونٹی کے لوگ آتے تھے۔ دولت اسلامیہ نے دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی۔