cough-syrup company Director

مدھیہ پردیش میں کھانسی کے زہریلے سیرپ سے24  بچوں کی ہلاکت

تازہ خبر قومی
مدھیہ پردیش میں کھانسی کے زہریلے سیرپ سے 24  بچوں کی ہلاکت
 دوا ساز کمپنی کا ڈائریکٹر گرفتار
  نئی دہلی :۔9؍اکتوبر
(انٹر نیٹ ڈیسک)
مدھیہ پردیش میں بچوں کی موت کا باعث بننے والی سردی اور کھانسی سے نجات دینے والی دوا بنانے والی کمپنی سری سن فارما کے ڈائریکٹر گووندن رنگناتھن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) نے بدھ کی رات چنئی میں چھاپہ مار کر رنگناتھن کو حراست میں لیا۔
 ٹیم نے کمپنی سے اہم دستاویزات، دواؤں کے نمونے اور پروڈکشن ریکارڈ بھی ضبط کیا۔رنگناتھن پر 20 ہزار روپے کا انعام مقرر تھا اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ مفرور تھا۔ چنئی-بنگلور ہائی وے پر واقع 2,000 مربع فٹ کے ان کے اپارٹمنٹ کو سیل کر دیا گیا جبکہ کوڈمبکم میں ان کا رجسٹرڈ دفتر بند پایا گیا۔کھانسی کا سیرپ پینے کے بعد گردے فیل ہونے سے مرنے والے بچوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔
چھندواڑہ کی عمرٹھ تحصیل کے پچدھر گاؤں سے تعلق رکھنے والا تین سالہ میانک سوریاونشی بدھ کی رات علاج کے دوران چل بسا۔ وہ 25 ستمبر سے ناگپور میڈیکل کالج میں زیر علاج تھا۔کولڈریف سیرپ کی بڑی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ شربت غیر فارماسیوٹیکل گریڈ کیمیکلز سے تیار کیا گیا تھا۔
 تمل ناڈو کے ڈرگس کنٹرول ڈائریکٹر کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے مالک نے اعتراف کیا کہ اس نے پروپیلین گلائکول کے 50-50 کلو گرام کے دو بیگ خریدے تھے، یعنی کل 100 کلو گرام زہریلا کیمیکل۔ نہ کوئی خریداری کا بل موجود تھا نہ ادائیگی کا باضابطہ ریکارڈ۔
لیبارٹری تجزیے میں انکشاف ہوا کہ شربت میں موجود ڈائی تھیلین گلائکول (DEG) اور ایتھیلین گلائکول (EG) کی مقدار 486 گنا زیادہ تھی جو انسانوں کے لیے زہر کے برابر ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مقدار نہ صرف بچوں بلکہ بڑے جانور کے گردے اور دماغ کو بھی تباہ کر سکتی ہے۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ کمپنی نے مارچ 2025 میں چنئی کی ایک فرم سے نان فارماسیوٹیکل گریڈ پروپیلین گلائکول خریدا، جو دواؤں کی تیاری کے لیے مناسب نہیں تھا۔ اس کے باوجود کمپنی نے نہ تو اس کی پاکیزگی کی جانچ کی اور نہ ہی زہریلے کیمیکل کی موجودگی کی تصدیق کی۔تفتیشی ٹیم نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کمپنی نے ثبوت چھپانے کے لیے کیمیکل ختم کر دیا اور ریکارڈ غائب کر دیا۔
تمل ناڈو ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق یہ معاملہ عوامی تحفظ سے جڑا ہے، کیونکہ غیر معیاری کیمیکل سے بنی دوائیں بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کو سری سن فارما کی فیکٹری سے کولڈریف سیرپ (بیچ نمبر SR-13) کی 589 بوتلیں ملی ہیں جو چھندواڑہ بھیجنے کے لیے تیار تھیں۔
 ان ہی بوتلوں کے استعمال سے بچوں کے گردے فیل ہوئے اور دماغ میں سوجن پیدا ہوئی جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ یہ سیرپ مئی 2025 میں تیار کیے گئے تھے اور ان کی میعاد اپریل 2027 تک تھی۔
مزید کارروائی کے دوران ٹیم کو کمپنی کی مینوفیکچرنگ سائٹ سے دیگر چارسرپ ( ٹانک) کی 5,870 بوتلیں بھی ملی ہیں، جن میں ریسپولائٹ ڈی، ریسپولائٹ جی ایل، ریسپولائٹ ایس ٹی اور ہیپسنڈن سیرپ شامل ہیں۔ ان میں سے صرف کولڈریف سیرپ کو غیر معیاری پایا گیا۔