’’بھگوبریگیڈ‘‘ کی تاریخ کو مسخ کرنے کی ناپاک کوششیں
محمد مسعود حسن انصاری
سابق ڈپٹی ڈائرکٹر دوردرشن‘ ممبئی

15؍اگسٹ 1947 سے 15؍اگسٹ2021 تک ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے 74 سال ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں آزادی ڈائمنڈ جوبلی یعنی 75 سالہ جشن نے پورے تزک و احتشام سے منایا جارہا ہے ہے ایک ایسے وقت جبکہ ملک میں’’ بھگوا بریگیڈ‘‘نےمسلمانوں کے خلاف دیگر طبقات میں نفرت کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے ہے اور’’ حب الوطنی ‘‘کو اکثریتی طبقہ سے منسوب کرنے ’’ہندو قوم پرستی‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ جدوجہد آزادی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔آر ایس ایس کی سرکردگی میںآ ج بھگوا تنظیمیںملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروانےکا کریڈٹ لے رہی ہیں اورجدوجہد آزاد ی میں مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر کرنا تو دور انھیں مارنے کاٹنے اور بھگانے کی باتیں کر رہی ہیں ان میں سے کسی نے بھی آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا تھا
بلکہ انگریزوں کی چاپلوسی میں مصروف تھے یہاں تک کہ آزادی کے 65 سالوں تک آر ایس ایس کے’’ ہیڈکوارٹرس ‘‘سمیت سنگھ کے کسی بھی دفتر پر ’’ترنگا‘‘لہرایا نہیں گیا تھا تھا تا آج وہی عناصر سماج میں پھوٹ ڈالنے اور مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف منافرت پھیلانے کی کوشش میں لگے ہے
آج ملک کو ہندو ‘مسلم ‘ سیکھ ‘ عیسائی ‘ اتحاد کو توڑنے اور انھیں بانٹے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہے تاکہ کسی طرح سے تاریخ کے صفحات میں رقم ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کی ناقابل فراموش حقائق کو مٹانے کے مذموم کوشش بھی ہو رہی ہے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ کو بدلہ جا سکتا ہے؟

جدوجہد آزادی میں ہزاروں مسلم مجاہدین نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ انڈیا گیٹ پر آزادی کی جنگ میں شہید ہوئے تقریبا95,330 مجاہدین کے نام کندہ کیے گئے ہیں جن میں سے 61,945 مسلمان ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف سینہ سپر ہونے لڑنے اور قربانی پیش کرنے والوں میں 65 فیصد مسلم مجاہدین تھے تھے یہ حقیقت ہے کہ جدوجہد کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کو عوام سے اوجھل رکھا گیا
بھلے ہی حکومت وقت اور ’’بھگوبریگیڈ‘‘ تاریخ کو مسخ کرنے اور نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کو آزادی کے لیے مسلمانوں کی قربانیوںدی ہوئی قربانیوں سے بےبہرہ رکھنے کی کتنی کوشش کرے لیکن دنیا بھر کے ملک میں موجود تاریخی کتابوں میں موجود حقائق کو مٹا نہیں سکتے اور تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جدوجہد آزادی میںحیدر علی اورانکے فرزندٹیپو سلطان نے 1780میں شروع کیاور1790 میں پہلی بار فوجی استعمال کے حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے راکٹس کو سے بڑی کامیابی سے نصب کیا حال ہےاور برطانوی فوکے خلاف راکٹوں اور توپ کا استعمال کا موثر طور پر استعمال کیا کیا
سابق انجہانی وزیراعظم راجیو گاندھی نے رنگون (برما )میانمار میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے مزار پر حاضری کے بعد کتاب تاثرات میں تحریر کیا تھا اگرچہ بہادر شاہ ظفر کو ہندوستان میں زمین نہ مل سکی ہے لیکن آپ کا نام زندہ ہے جب ہندوستانی کی پہلی جنگ آزادی کی نشانی وعلامت بہادر شاہ ظفر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔وہی ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا آغاز تھا
ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ملک کی آزادی کی تحریک وجود میں آئی جس کے بانی شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تھے ان کی وفات کے بعد ان کے ساتھ صاحبزادہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ 1824 میں اپنے والد کی تحریک کو بڑھایا تھے انہوں نے1830میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا اس کے بعد کتنے ہی علماء نے یہ تحریک جاری رکھی۔

سب کے نا م گنوانا یہاں ممکن نہیں ہے لیکن ان میں سید احمد شہید رائے بریلوی‘ اور شاہ اسماعیل شہید‘ مولانا نصیر الدین دہلوی ‘مولانا ولایت علی عظیم آبادی اور ان کے بھائی مولانا عنایت علی عظیم آبادی ‘محمد علی جوہر‘ شوکت علی ‘ڈاکٹر مختار احمد انصاری ‘بیرسٹر جان محمد‘ جونیجو ‘حسرت موہانی‘ سید عطاءاللہ شاہ بخاری ‘مولانا ابوالکلام آزاد ‘ڈاکٹر عظیم اجمل خاں‘ وغیرہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں قائدانہ رول ادا کیا ہے
جو ملک کی آزادی میں مسلمانوں کو قربانیوں اور ان کے انتہائی رول کو نظر انداز سے یا فراموش کرنا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کا نعرہ ’’جئےہند‘‘ میجر عابدحسین حیدرآبادی کے دماغ کی اختراع تھا
کانگریس کوبھی اسی طرح جوشیلے نعرے کی ضرورت تھی تو’’ انگریزوں جو ہندوستان چھوڑو ‘‘کا نعرہ ممبئی سابق میئر یوسف علی مہر علی نے دیا تھا اس سے پہلے وہ’’ سائمن واپس جاؤ‘‘ کا نعرہ بھی دے چکے تھے۔علاوہ ازیں ہندوستان کی آزادی میں’’ انگریز چھوڑو‘‘ تحریک بڑا اہم کردار ادا کیا تھا 9 اگسٹ 1942 کونصب شب میں مولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں ہوئے کانگریس کے فوجی مجلس عاملہ کی تاریخی اجلاس میں انگریزہندوستان چھوڑ قرارداد منظور کی گئی جس نے انگریز حکمرانوں کے قدم لڑکھڑا دئیےہو گیا اور انھیں احساس ہوگیاکہ زیادہ عرصہ ہندوستان میں رہ نہ سکیں گے۔
ہماری نئی نسل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کریں تاکہ تاریخ کے حقائق سے بے بہرہ نہ رہے