نامور شاعر منور رانا اپنے متنازعہ سے پھر ایک بار سرخیوں میں
لکھنؤ:19؍اگسٹ
(اے این ایم ایس)
نامور شاعر منور رانا اپنے متنازعہ بیان کی وجہ سے پھر ایک بار سرخیوں میں ہیںجس کے بعد ملک میں اب سیاست تیز ہو گئی ہے اور ملک میںمختلف رہنما اس حوالے سے مختلف بیانات دے رہے ہیں۔طالبان نے 20 سال بعد افغانستان پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے ، مشہور شاعر منور رانا نے طالبان پر ایک ٹی وی چیانل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ظلم افغانستان میں کیا جا رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہندوستان میں کیا جاتا ہے
منور رانا نے کہا کہ بھارت کو طالبان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ افغانستان کی ہزاروں سال کی حمایت نے کبھی بھی بھارت کو نقصان نہیں پہنچایا۔ یہاں تک کہ جب ملا عمر نے حکومت کی اس نے کسی ہندوستانی کو نقصان نہیں پہنچایا ، کیونکہ یہیں سے اس کے والد اور دادا نے یہیں سے کمایا تھا۔ منور رانا نے کہا کہ بھارت میں مافیا کے پاس اتنے AK-47 ہیں جتنے طالبان کے پاس نہیں ہیں۔ طالبان اسلحہ چھین کر لے جاتے ہیں ، لیکن ہمارے مافیا اسلحہ خریدتے ہیں۔
۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان دہشت گرد نہیں ہیں ، انہیں ‘جارحانہ’ کہا جا سکتا ہے۔طالبان نے دراصل ان کے ملک کو آزاد کرایا ہے۔ منوررانا نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے اپنے ملک کے لیے اسی طرح آزادی حاصل کی جس طرح ہندوستان نے انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑی۔
منور رانا نے کہا کہ اتر پردیش میں بھی تھوڑے بہت طالبانی ہیں، یہاں نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ ہندو طالبان بھی موجود ہیں۔ دہشت گرد کیا صرف مسلمان ہیں، ہندو بھی ہوتے ہیں! مہاتما گاندھی سیدھے تھے اور ناتھورام گوڈسے طالبانی تھا۔ یوپی میں بھی طالبان جیسا کی کام کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی اور ایس پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق نے طالبان کے حمایت میں بیان دیا تھا انھوں نےسماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے بھی طالبان جنگجووں پر بیان دیتے ہوئے ان کا موازنہ موازنہ جنگ آزادی کے مجاہدین سے کیا تھا۔ اب مشہور شاعر منور رانا کا تازہ بیان منظر عام پر آیا ہے۔جس کے بعد سیاسی مباحثہ مزید تیز ہوگئے ہیں