بائیو لوجی مضمون میں ال انڈیا سطح پر بورڈ کی ٹاپ ٹین کرنے والی طالبہ۔ ادیبہ ملک

تازہ خبر قومی

دیوبند کا نام روشن کیا۔ڈاکٹر نواز دیوبندی

دیوبند:21؍ اگست
(رضوان سلمانی)
سی بی ایس سی بورڈ اور نواز گرلز پبلک اسکول دیوبند کی انٹرمیڈیٹ کی ایک ہونہار طالبہ ادیبہ ملک نے بائیولوجی مضمون میں آل انڈیا سطح پر بورڈ کی ٹاپ ٹین میں شامل ہوکر خصوصی اعزاز حاصل کرکے اپنے والدین،اسکول اور دیوبند کا نام روشن کیا ہے۔
ادارہ کے پانی وسرپرست ڈاکٹر نواز دیوبندی نے بتایا کہ سی بی ایس ای بورڈ ہر سال تمام مضامین میں آل انڈیا سطح پر سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کو پوائنٹ ون پرسینٹ پروگرام کے تحت بطور حوصلہ افزائی خصوصی ایوارڈ سے سرفراز کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال اس خصوصی ایوارڈ پانے والوں میں نوازگرلز پبلک اسکول کی انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ادیبہ ملک اس خصوصی ایوارڈ کے لئے منتخب ہوئی ہیں جنہوں نے آل انڈیا سطح پر بائیولوجی مضمون میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں انہوں نے خصوصی ایوارڈ پانے والی انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ادیبہ ملک ،اس کے والدین اور ٹیچرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس خصوصی ایوارڈ کا ملنا ادیبہ ملک ،ان کے والدین دیوبند اور ادارہ کیلئے فخر کی بات ہے۔انہوں نے دیگر طالبات سے کہا کہ وہ بھی سخت محنت کرکے اس خصوصی ایوارڈ کی مستحق بن سکتی ہیں۔

جس کے لئے مسلسل محنت اور لگن کی ضرورت ہے۔نواز گرلز پبلک اسکول کے نگران اعلی عبد اللہ نواز خان نے خصوصی ایوارڈ پانے والی طالبہ ادیبہ ملک اور اس کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اعلی اور معیاری تعلیم سے ہی اقوام ترقی کرتی ہیں۔ادیبہ ملک نے خصوصی ایوارڈ حاصل کرکے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ دیگر طالبات کے لئے قابل تقلید ہے۔

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی ترقی کے لئے حکومت کی جانب سے متعدد اسکیمیں چلائی جارہی ہیں اس لئے پیداری پروگرام چلا کر لڑکیوں کو اعلی ومعیاری تعلیم کے لئے راغب کرنا چاہئے۔عبد اللہ نواز خان نے کہا کہ ادارہ روز اول سے ہی لڑکیوں کی اعلی ومعیاری تعلیم کے لئے کوشاں ہے جس کے نتیجہ میں خاطر خاہ کامیابی بھی مل رہی ہے۔

اور ادیبہ ملک کو آل انڈیا سطح کا تعلیمی خصوصی ایوارڈ ملنا اس کی تازہ مثال ہے۔ادارہ کی پرنسپل فوزیہ خان نے بھی ادیبہ ملک کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں اور خواتین کسی بھی شعبہ میں کم نہیں ہیں اور ہر خاندان کے لئے خواتین کی تعلیم وترقی اہم کردار ادا کرتی ہے

اسلئے ہمیں لڑکیوں کو اعلی ومعیاری تعلیم دینے کے ساتھ ان میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی بھی جد وجہد کرتے رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس اہم کامیابی کا پورا کریڈٹ ٹیچرز کو جاتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ادارہ کی طالبات آئندہ بھی اس طرح کے سنگ میل عبور کرتی رہینگی۔