کیرالہ میں مسلم اسوسیشن کی جانب سے فروغِ اردو کے لئے مسابقتی مقابلہ

تازہ خبر قومی

حیدرآباد کے علماء بطورِ حکم شریک رہے

کیرالہ 28 اکتوبر

(پریس نوٹ)

"دکنی مسلم اسوسیشن” کاسر گوڈ ضلع کمیٹی کی جانب سے بمقام اہل سنت حنفی جامع مسجد اُپلا کانفرنس ہال میں منجیشور ایم ایل اے جناب اے کے ایم اشرف صاحب کی موجودگی میں کیرلا ریاستی سطح پر انعامی تقریری مسابقہ کا آغاز ہوا

   جس کی صدارت بشیر احمد صاحب نے کی اس اجلاس میں تحریک اردو کیرلا کے جنرل سکریٹری کے ڈی ایم اے جناب محمد عظیم نے استقبالیہ کلمات کہے اور کیرلا میں رہنے والے اردو داں طبقہ کے حال پر ایم ایل اے کو توجہ دلائی اور ایم ایل اے جناب اشرف صاحب نے یقین دلایا کہ اُردو اکیڈمی کی دوبارہ تعمیر اور اس کی ترقی کے لئے وہ پوری کوشش کریں گے

ناصرچلتی کرا صاحب حاجی بشیر احمد صاحب شریف تلنگرا صاحب نے بھی بہترین انداز میں تقریر کی واضح رہے کہ شہر اُپلا سے ہی کیرلا اردو یاترا نکلی تھی اور یہ سفر کیرلا میں اردو زبان کے فروغ کیلئے بڑی کوشش میں شامل ہے ایک ہفتہ تک یہ یاترا چلتی رہی؛ ایم پی عبد الصمد سمدانی صاحب نے اس کا افتتاح کیا تھا کیرلا اردو ٹیچرس اسوسیشن کے جنرل سکریٹری پی کے سی محمد صاحب اسکے ڈائیرکٹر تھے اور جناب عظیم صاحب  منی منڈا نے اس کی قیادت کی تھی پروگرام میں چوالیس طلبہ نےحصہ لیا۔

اس مسابقتی اجلاس میں اُپلا کے محمد روحان عبد الرشید پہلے نمبر پر آئے جنہیں انعام کے طور پر سند اور نقد 4444 روپیے دیے گئے۔

اس موقع پر حافظ وقاری مولوی محمد ادریس صاحب مصباحی جنرل سکریٹری جمعیت الحفاظ فاؤنڈیشن حیدرآباد کے ہمراہ؛ کے. ڈی. ایم. اے. کی دعوت پراردو زبان کے فروغ کے سلسلہ میں شہر حیدرآباد تلنگانہ سے علماء کرام کا ایک وفد یہاں موجود رہا،

جس میں شہرِ حیدرآباد کے نوجوان عالم دین مفتی شیخ محسن احسان رحمانی صاحب مبلغ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم رحمانیہ حیدرآباد اور شہرِ بنگلور سے مولانا حفیظ الرحمن بستوی قاسمی شریک تھے

 بحمد اللہ مختلف مقامات سے طلباء کو اردو زبان سے قریب کرنے کے لیےسیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر تقریری مقابلہ رکھا گیا تھا جس میں حصہ لینے والوں نے امید سے زیادہ اردو زبان میں تقاریر پیش کی اور بہترین مظاہرہ کیا مذکورہ تینوں علماء بطورِ حکم شریک رہے

  جنہوں نے اردو زبان کی اشاعت کے لیے مقامی متحرک و فعال ذمداروں کی موجودگی میں  ایم۔ ایل۔ اے۔ اے کے ایم اشرف سے مانگ بھی کی کہ وہ اسمبلی میں اردو زبان کی اشاعت کے لیےآواز اٹھائے اور کے ڈی ایم کی تجاویز پر غور کرے ۔