یوم جمہوریہ 2022 کے موقع پر، صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کا قوم سے خطاب
نئی دہلی :26؍جنوری
(ایجنسیز)
عزیز ہم وطنو!
نمسکار!
73ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ہندستان میں اور بیرون ملک، آپ سب کو میری طرف سے دلی مبارک باد۔ یہ جشن منانے کا ایک موقع ہے جو ہم سب کے لئے مشترک ہے۔ یعنی ہماری ہندوستانیت۔ سنہ 1950 میں یہ آج ہی کا دن تھا جب ہم سب کے اس مقدس جوہر نے ایک باقاعدہ شکل اختیار کی تھی۔ اسی دن ہندوستان سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر قائم ہوا تھا اور ’ہم عوام‘ نے ایک ایسے آئین کو نافذ کیا جو ہمارے اجتماعی وژن کا ایک الہامی دستاویز ہے۔ ہماری جمہوریت کی یکجہتی اور تنوع کی دنیا بھر میں ستائش کی جاتی ہے۔ یہ اسی اتحاد اور ایک قوم ہونے کا جذبہ ہے جسے ہم ہر سال یوم جمہوریہ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس سال کی تقریبات جاری وبا کے باعث کچھ کم ہوسکتی ہیں لیکن ہمارا جذبہ ہمیشہ کی طرح انتہائی مستحکم ہے۔
آئیے ہم ان عظیم مجاہدین آزادی کو بھی یاد کریں جنہوں نے سوراج کے خواب کی تکمیل کی تعمیل میں بےمثال ہمت و شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا اور اس جدوجہد کے لئے لوگوں کو ترغیب دی تھی۔ دو دن پہلے ہی 23 جنوری کو ہم سب نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 125ویں یوم پیدائش منائی جنہوں نے ’جے ہند‘کے پرجوش سلام کو اپنا نعرہ بنایا تھا۔ ان کی آزادی کے لئے جستجو اور ہندستان کو قابل فخر بنانے کی ان کی خواہش، ہم سب کو ترغیب دیتی ہے۔
ہم بے انتہا خوش قسمت ہیں کہ اس قانون ساز اسمبلی میں جس نے دستاویز تیار کی تھی، اس میں اس دور کے نسل کے بہترین ذہن شامل تھے۔ وہ ہماری عظیم آزادی کی جدوجہد کے سرکردہ روشن چراغ تھے۔ طویل برسوں کے بعد ہندستان کی روح دوبارہ بیدار ہورہی تھی اور یہ غیر معمولی مرد و خواتین ایک نئی صبح کے محور تھے۔ انہوں نے عوام کی جانب سے ہر ایک مضمون، ہر ایک جملے اور یہاں تک کہ ہر ایک لفظ پر بحث کی۔ یہ سلسلہ تقریباً تین سال تک جاری رہا۔ اور آخر کار یہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ہی تھے ، جنہوں نے مسودہ سازی کمیٹی کے صدر نشیں کے طور پر، حتمی خاکہ تیار کیا, جو ہمارا بانی دستاویز بن گیا ہے۔
ایک جانب آئین کا متن، جو ریاست کے کام کی تفصیلات سے متعلق ہے ، کافی طویل ہے، البتہ اس کی تمہید اس کے رہنما اصولوں یعنی جمہوریت، انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کا خلاصہ کرتی ہے۔ وہ ایسی بنیاد وضع کرتے ہیں جن پر ہماری جمہوریت قائم ہے۔ یہ وہ اقدار ہیں جو ہماری اجتماعی وراثت کی تشکیل کرتی ہیں۔
ان اقدار کو، ہمارے آئین میں شہریوں کے بنیادی حقوق اور بنیادی فرائض کی شکل میں فوقیت دی گئی ہے۔ حقوق و فرائض، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ شہریوں کی جانب سے آئین میں بنیادی فرائض کی پابندی، بنیادی حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔ اسی لئے جب ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ، قومی خدمت انجام دینے کے بنیادی فرض کو پورا کرتے ہوئے، ملک کے کروڑوں لوگوں نے سوچھ بھارت ابھیان اور کووڈ سے بچاؤ کی ٹیکہ کاری کی مہم کو عوامی تحریکوں میں بدل دیا ہے۔ اس طرح کی مہمات کی کامیابی کا اصل سہرہ ہمارے فرض شناس شہریوں کو جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے عوام قومی مفاد کی مہمات کو اپنی فعال شراکت سے تقویت دیں گے اور اسی طرح کے جذبے کا اظہار کریں گے۔
ہندستان کاآئین 26 نومبر 1949 کو قانون ساز اسمبلی کے ذریعہ منظور اور نافذ کیا گیا تھا جسے اب ہم ’یوم آئین‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ البتہ اسے دو ماہ بعد نافذ کیا گیا تھا۔ یہ 1930 میں اس دن کے موقع پر کیا گیا تھا جب ہندوستان نے مکمل آزادی حاصل کرنے کا عزم کیا تھا۔ 1930 سے 1947 تک، ہر سال 26 جنوری کو ’پورن سوراج ڈے‘ کےطور پر منایا جاتا تھا اور یہ وہی دن تھا جس کا انتخاب آئین کا نفاذ کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔
1930 میں ایک تحریر میں مہاتما گاندھی نے عزیز ہم وطنوں کو مشورہ دیا تھا کہ ’پورن سوراج ڈے‘کو کیسے منایا جاناچاہئے۔ انہوں نے کہا تھا اور میں اسے یہاں نقل کرتا ہوں:
’’یاد رکھیئے کیونکہ ہم اپنی منزلعدم تشدد اور سچے طور طریقوں سے حاصل کرنا چاہتےہیں، تو ایسا ہم صرف تزکیہ نفس کے ذریعہ ہی کرسکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اس دن کو ایسے تعمیری کام کرنے کے لئے وقف کرنا چاہئےجو کہ ہمارے اختیار میں ہے‘‘۔
یہ کہنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ ، گاندھی جی کا مشورہ زندہ جاوید ہے۔ یقیناً وہ یہ چاہتے ہوں گے کہ ہم یوم جمہوریہ بھی اسی انداز میں منائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ہماپنے نفس میں جھانکیں، اپنی ذات کا جائزہ لیں اورایک بہتر ہندوستاناور ایک بہتر دنیا کی تشکیل میں اپنی حصہ رسدی کریں۔
عزیز ہم وطنو!
دنیا کومدد کی اتنی کبھی ضرورت نہیں پڑی جتنی کہ اس وقت ہے۔ دو برس سے زیادہ کی مدت گذر چکی ہےاور انسانیت ابھی تک کورونا وائرس سے نبردآزما ہے۔ لاکھوں جانیں تلف ہوچکی ہیں اور عالمی معیشت اس وبا کے اثرات سے دوچار ہے۔ دنیا کو بے مثال مصائب کا سامنا ہے اور نئے قسموں کے اضافوں کے بعد یہ نئےنئے بحرانوں کو جنم دے رہا ہے۔
پیارے ہم وطنو!
آج یہ ہمارے فوج اور سیکورٹی اہلکار ہی ہیں جو قومی فخر کی میراث کوآگے لےجارہے ہیں۔ ناقابل برداشت ٹھنڈ اور صحرا کی شدید ترین گرمی میں بھی، اپنے اہل و اعیال سے کوسوں دور، مادر وطن کی حفاظت کرتےہیں۔ یہ ہماری سرحدوں کی حفاظت کرنے والی مسلح افواج کی مسلسل چابک دستی او ر چوکسی ہی ملک کے اندر داخلی سلامتی کو برقرار رکھنے والے پولیس کے اہلکاروں کی بدولت ہے کہ ان کے ساتھی شہری پرامن زندگی سے پوری طرح سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ جب کوئی بہادر سپاہی فرائض کی ادائیگی کے دوان جاں بحق ہوتا ہے تو پورا ملک غم زدہ ہوجاتا ہے۔ پچھلے مہینے ہی ، ایک اندونہاک حادثہ میں، ہم نے ملک کے بہادر کمانڈروں میں سے ایک -جنرل بپن راوت- انکی اہلیہ اور بہت سے بہادر سپاہیوں کو کھودیا۔اس المناک اور اندوہناک نقصان پر پورا ملک غمزدہ ہے۔
خواتین و حضرات!
حب الوطنی شہریوں میں فرض کے احساس کو مستحکم کرتی ہے۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہوں یا وکیل ،دکاندار ہو ں یا دفتری ملازم ،صفائی ستھرائی کے ملازم ہوں یا مزدور، اپنی ڈیوٹی کو بخوبی اور احسن طریقے سے انجام دینا ہی آپ کا قوم کے لئے سب سے اول اور اہم ترین حصہ رسدی ہے۔
مسلح افواج کے اعلی ترین کمانڈر کے طور پر، مجھ یہ کہتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کہ یہ سال مسلح افواج میں خواتین کو بااختیار بنانے کا سال رہا ہے۔ ہماری بیٹیوں نے کانچ کی اس حد کو توڑ دیا ہے اب نئے شعبوں میں خواتین افسران کو ، مستقل کمیشن حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سینک اسکولوں او ر باوقار قومی اکیڈمی کے ذریعہ آنے والی خواتین کے ساتھ ہی افواج کی ٹیلنٹ کی پائپ لائن کو تقویت حاصل ہوگی۔ اس کے نتیجے میں ہماری مسلح افواج بہترین صنفی توازن سے مستفید ہوں گی۔
مجھے اس بات کا یقین ہے کہ مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے، آج ہندوستان بہتر مقام پر ہے۔ 21ویں صدی آب و ہوا کی تبدیلی کا دور بن رہی ہے اور ہندوستان نے راہ دکھانے میں عالمی سطح پر قاعدانہ مقام حاصل کیا ہے؛ خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے لئے اپنی جرت مندانہ اور پرجوش کوشش کے ساتھ، انفرادی سطح پر ہم میں سے ہرایک گاندھی جی کے مشورے کو یاد کرسکتا ہے اور اپنی ارد گرد کی دنیا کو اور بہتر بنانے میں مدد کرسکتا ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس عالمی بھائی چارہ کے جذبے سے متاثر ہوکر، ہمارا ملک اور پوری عالمی برادری، مزید مساوی اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہوگی۔
عزیز ہم وطنو!
اس سال جب ملک کی آزادی کے 75 سال مکمل ہوں گے تو ہندوستان ایک سنگ میل عبور کرے گا ۔ ہم اس موقع کو ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے طور پر منارہے ہیں۔ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ہمارے لوگ، خاص طور پر نوجوان، اس تاریخی سال کی یاد میں منعقد کی جانے والی تقریبات اور پروگراموں میں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ یہ نہ صرف آنے والی نسلوں بلکہ ہم سب کے لئے اپنے ماضی کے ساتھ دوبارہ جوڑنے کا بہترین موقع ہے۔
ہماری جدوجہد آزادی، ہماری شاندار داستان کا ایک متاثر کن باب تھی۔آزادی کے اس 75ویں سال میں ، آیئے ہم ان اقدار کو دوبارہ دریافت کریں جنہوں نے ہماری اس شاندار قومی تحریک کو متحرک کیا تھا۔ ہماری آزادی کے لئے بہت سے مردوں اور خواتین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ ہمارے آزادی پسندوں نے ناقابل تصور اذیتیں جھیلیں اور ہمارے لئے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریبات سے لطف اندوز ہونے کے لئے بے شمار قربانیاں دیں۔ آیئے یوم جمہوریہ کے اس موقع پر ان بیش قیمت گرانقدر لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کریں۔
خواتین و حضرات،
ہندوستان ایک قدیم تہذیب ہے ، البتہ ایک نوجوان جمہوریہ ہے۔ قومی تعمیر ہمارے لئے ایک مستقل کوشش ہے۔ جیسا کہ ایک خاندان میں ، اسی طرح ایک قوم میں؛ ایک نسل ، اگلی نسل کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے سخت محنت کرتی ہے۔ جب ہم نے آزادی حاصل کی تھی تو نوآبادیاتی نظام کے استحصال نے ہمیں قطعی غربت سے دوچار کیا تھا، لیکن ہم نے ان 75 سالوں میں متاثر کن ترقی کی ہے۔ نئے نئے مواقع آنے والی نسل کے منتظر ہیں۔ ہمارے نوجوانوں نے ان مواقعوں سے فائدہ اٹھایا ہے اور کامیابی کے نئےمعیار قائم کئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس توانائی ، اعتماد اورکارورباری صلاحیت کے ساتھ ، ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا اور یقینی طور پر عالمی برادری میں، اپنی صلاحیت کے مطابق ، اپنا صحیح مقام حاصل کرلے گا۔
میں ایک بار پھرآپ سب کو یوم جمہوریہ کی مبارکباد یتا ہوں!
شکریہ
جے ہند!