تلنگانہ بھر کے1200مراکز میں کورونا ویکسن کی مشق کا آغاز

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔8؍جنوری
نمائندہ خصوصی
مرکزی حکومت نے کورونا ویکسین کے استفادہ کنندگان کے ناموں اندراج کے عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ ابتدا میں کوویڈ آئپ میں انفرادی طورپر اپنے ناموں کے اندراج کی اپیل کی تھی، لیکن اب اس کے علاوہ دو دیگر طریقہ کار کو دسترس میں لایا گیا ہے جس کے ذریعہ 50 سال سے زائد عمر کے حامل افراد اور 50 سال سے کم عمر دائمی مریضوں کو آسانی سے اپنے نام رجسٹر کرسکیں گے۔ تمام منڈلس میں موجود پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سی) اور ریاست بھر میں واقع مین سیوا مراکز میں استفادہ کنندے اپنے نام درج کرواسکتے ہیں۔ پی ایچ سی میں خصوصی کاؤنٹر س کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ اسی طرح می سیوا سنٹرس کا قیام عمل میں لایا جائے گا یہاں بھی کووڈ آئپ کے ذریعہ ناموں کے اندراج پر عمل کیا جائے گا۔ جیسا کہ قبل ازیں تذکرہ کے مطابق کوئی بھی شخص اپنے کوون آئپ کے ذریعہ اپنا نام درج کروا سکتا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دیہات اور قصبوں میں ذاتی آپلی کیشن کے ذریعہ ناموں کے اندراج  میں دقت محسوس کرنے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کردی گئی ہیں ۔ تاہم، 50 سال سے زیادہ عمر والوں کیلئے اپنے ساتھ صداقت نامہ پیدائش (برتھ سر ٹیفکیٹ ) لانا ضروری ہوگا جن کے پاس یہ نہیں ہے وہ ووٹر شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا حکومت کی طرف سے تعین کردہ  کارڈز میں سے کسی ایک شناختی کارڈ لانے کی صورت میں اس کو اپ لوڈ کر کے ان کے ناموں کو درج کیا جائے گا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ 50 سال سے کم عمر کے حامل دیرینہ مریضوں کا کس طرح رجسٹریشن کیا جائے گا۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ یہ بھی نہیں جانتے کوئی بی پی اور شوگرکے عارضہ میں مبتلا ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ پی ایچ سی میں ان کی طبی جانچ کے بعد اور ناموں کا اندراج عمل میں لایا جائے گا۔ تاہم، عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مریضوں کی جانب سے دیرینہ وکہنہ مشق بیماریوں سے متقلق طبی رپورٹیں بتانا کافی ہے ۔ اس پر بہت جلد وضاحت کردی جائے گی۔ اگر ان کی رجسٹریشن میں کہیں بھی تکنیکی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو 1075 نمبرپر شکایات کی جاسکتی ہے یہ نمبر 24 گھنٹے کارکرد رہے گا۔

ریاست میں اطلاع ہے کہ پہلے مرحلے میں 75 لاکھ افراد کو مذکورہ ویکسین دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان میں پنچایت راج‘ بلدی نظم نسق و شہری ترقی‘پولیس کے 3لاکھ اور دیگر محکمہ جات اور 2.88 لاکھ طبی ملازمین شامل ہیں۔ پہلے فرنٹ لائن کارکنوں کو ٹیکے لگا ئے جائینگے جس کے بعد یہ 50 سال سے زیادہ عمر کے حامل دیرینہ امراض کا شکا ر مریضوں میں ٹیکے لگا ئے جائینگے تاہم ان کے ناموں کے اندراج کے بارے میں ابھی بھی واضح رہنما یانہ اصول موجود نہیں ہیں ۔دوسرے مرحلہ میں عام لوگوں کو ٹیکے لگانے کا جہاں تک تعلق ہے اس پر بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا۔

مرکز نے حال ہی میں ریاستوں کو یہ اشارہ دیا ہے کہ ملک بھر میں ٹیکہ اندازی کی مہم 11؍جنوری سے شروع ہو نے جارہی ہے ۔ محکمہ صحت اور اس سے وابستہ ایک عہدیدار نے بتایا کہ ا اس عمل میں تاخیر دراصل ویکسین کی گنجائش اور اس کے اسٹور س کے تعلق سے بار بار جائزہ لینے سے ہوررہی ہے۔ اس لئے مرکز مجوزہ تاریخ پر بھی وضاحت نہیں دے پا رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ آکسفورڈ کورونا ویکسین کی 6.5 لاکھ خوراک کی حامل پہلی کھیپ پونے سے خصوصی کارگو فلائٹ سے حیدرآباد پہنچے گی۔ منصوبہ کے مطابق سرکاری وخانگی اسپتالوں میں تمام طبی عملے کو یہ ویکسین دی جائے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ فرنٹ لائن ورکرز کے لئے دی جانے والی یہ ویکسین دو سے تین ہفتوں میں ریاست میں پہنچ جائے گی۔ ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کس کمپنی کی ہوگی۔ مرکزی حکومت نے ملک بھر میں ٹیکہ کی تقسیم اور حمل ونقل کیلئے 480کروڑ روپیئے مختص کیے ہیں۔ دوسری جانب ریاست بھر کے 1200 مراکز میں آج ویکسین کی مشق شروع کردی گئی ہے۔

وزیر صحت ایٹالہ راجندر نے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود کے وزیر ہرشوردھن سے کہا ہے کہ چونکہ ویکسن ریاست تیار ہورہی ہے اس لئے تلنگانہ کوزیادہ خوراک فراہم کریں ۔ مرکزی وزیر ہرشوردھن اور وزیر مملکت اشونی کمار چوبے نے ڈرائی رن کے تناظر میں ریاستوں کے وزرائے صحت اور محکمہ طب وصحت کے عہدیداروں کے ساتھ انتظامات اور کوتاہیوں کے بارے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ جائزہ لیا۔