بی جے پی رکن اسمبلی کی کیب کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ
ممبئی :9؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ہندوستان میں نفرت کی سیاست میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور مسلسل نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ایسا لگ رہا ہے بھگوا قائدین شاید ذہنی دیوالیہ پن کی وجہ سے روز متنازعہ بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہ رہے ہیں ۔اور روزانہ عوام کے دلوں میں ہندو مسلم نفرت کا بیج بو رہے ہیں
اب مہاراشٹر کے بی جے پی رکن اسمبلی نے کیب کمپنیوں کولیکر نیا تنازعہ کھڑا کیا ہے انھوں نے کیب کمپنیوں نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں۔ انہو ں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ایکشن لینے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
Why companies like Ola,Uber not hiring Hindus?
What is the idea behind it ?
Have Mumbaikars noticed this.. most of the drivers r not Hindus..
Isn’t this a security threat?
We need to act before it’s too late!— nitesh rane ( Modi ka Parivar ) (@NiteshNRane) April 8, 2022
ملک میں حجاب اور پھر لاؤڈ اسپیکر پر جاری بحث کے درمیان مہاراشٹر کے بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایپ پر مبنی کیب خدمات ہندوؤں کو ملازمت نہیں دے رہی ہیں انہوں نے ٹوئٹ کرکے کیب کمپنیوں پر الزام لگایا کہ اولا، اوبر جیسی کمپنیاں ہندوؤں کی خدمات کیوں نہیں لے رہی ہیں؟
اس کے پیچھے کیا مقصد ہے؟ کیا ممبئی والوں نے اس پر غور کیا ہے، زیادہ تر ڈرائیور ہندو نہیں ہیں؟ کیا یہ سیکوریٹی خطرہ ہے؟ بی جے پی ایم ایل اے نے کہا کہ ہمیں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے