حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان پرتشدد اورجھڑپیں ۔ایم پی کی موت
نئی دہلی : 9؍مئی
(زیڈ ایم این ایس)
سری لنکا کےدیوالیہ ہونے کے دہانے پرپہنچنے کے بعد اپوزیشن کے دباؤ پر وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے پیر کو استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد دارالحکومت کولمبو سمیت ملک کے کئی حصوں میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان پرتشدد اورجھڑپیں ہوئیں۔ اس میں حکمراں پارٹی کے ایم پی امرکرتی اتھکورلا کی موت ہوگئی۔
جس کے بعد سری لنکا میں محاذ آرائی کا خطرہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر گوتابایا راجا پاکسے بڑے شہروں میں فوج تعینات کر سکتے ہیں۔
پچھلے ہفتہ حزب اختلاف کے ممتاز رہنما سری سینا نے صدر سے ملاقات کی۔ یہ طے پایا کہ وزیر اعظم مہندا مستعفی ہو جائیں گے۔ اس کے بعد عبوری حکومت بنے گی۔ تاہم، عبوری حکومت کے قیام سے پہلے ملک میں امن بحال کرنا ہوگا۔راجا پاکسے خاندان اب بھی حکومت میں حاوی ہے لیکن وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر ناکامیوں کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے جلد ہی عبوری حکومت بن سکتی ہے۔ اپوزیشن بھی جانتی ہے کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو اس وقت حکومت اور بالخصوص صدر گوتابایا کا ساتھ دینا ہوگا۔
سری لنکا کے کئی حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ مہندا کے استعفیٰ سے اور بھی بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دراصل، ان کے بڑے بھائی اور صدر گوٹابایا راجا پاکسے نہیں چاہتے تھے کہ مہندا استعفیٰ دیں، لیکن انہیں اپوزیشن کے مطالبہ کے سامنے جھکنا پڑا۔
دوسری جانب وہ اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لے آئے۔ اب راجا پاکسے برادران کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان ملک کے کئی حصوں میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔
سری لنکا میڈیا کے مطابق ایم پی امرکرتھی اتھکورلا اپنی گاڑی میں گنر اور ڈرائیور کے ساتھ نیتمبوا کی ایک سڑک سے گزر رہے تھے۔ اس کی گاڑی پر سرخ بتی جل رہی تھی۔ اس سڑک پر سینکڑوں حکومت مخالف مظاہرین موجود تھے۔ ان لوگوں نے ایم پی کی گاڑی کا گھیراؤ کیا اور نعرے بازی کی۔ ایم پی غصہ میں باہر آئے اور ذاتی پستول سے بھیڑ پر گولی چلا دی۔
اس میں دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد رکن اسمبلی بھاگ کر قریبی عمارت میں چھپ گئے۔ کچھ دیر بعد اس کی لاش وہاں سے برآمد ہوئی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ رکن اسمبلی بھیڑ کے حملے میں مارے گئے یا موت کی وجہ کچھ اور ہے۔
مہندا راجا پاکسے کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں ۔ سری لنکا میں امریکی سفیر جولی چنگ نے جھڑپ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہندا کے حامیوں کے حملے میں 78 افراد زخمی ہوئے
، خراب معاشی حالت کے پیش نظر جمعہ کو قومی اسمبلی میں عام لوگوں نے پرتشدد مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد صدر گوتابایا راجا پاکسے نے دوبارہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ ایک ماہ بعد سری لنکا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل یکم اپریل کو بھی ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی جسے 6 اپریل کو ہٹا دیا گیا تھا۔