ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی ‘ مرکز ملک کی سا لمیت کو ٹھیس پہنچانے والے فیصلوں پر عمل پیرا
وزیربرقی کے ساتھ بائیں بازو پارٹیوں کے قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد:۔6؍اکٹوبر
(زین نیوز)
ریاستی وزیر برقی مسٹر جی جگدیش ریڈی نے تنقید کی ہے کہ ملک میں غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت میں بھی مرکزی حکومت حزب اختلاف کی آواز کو دبانے کیلئے آئینی اداروں کا استعمال کر رہی ہے۔ آجسہ پہر نلگنڈہ ضلع مرکز میں بائیں بازو کی جماعتوں کے رابطہ اجلاس میں شرکت کے بعد خطاب کررہے تھے ۔
یہ اجلاس دراصل منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے سلسلہ میں منعقد ہوا جس میں انتخابی حکمت عملی پر غور وخوص کیا گیا۔سی پی ایم کے سابق ایم ایل سی چیروپلی مسرس سیتاراملو، سابق ایم ایل اے جے رنگاریڈی، سی پی آئی کے سابق ایم ایل اے پی وینکٹ ریڈی، اے یادگیری را کے ساتھ سی پی ایم نلگنڈہ کے ضلع سکریٹری مدیریڈی سدھاکر ریڈی، یادادری بھونگیر ضلع سکریٹری جہانگیر، سی پی آئی نلگنڈہ، یادادری بھونگیر ضلع سکریٹری پارٹی کے ضلع الیکشن انچارج، ایم ایل سی ٹی رویندر را، ایم ایل اے نلگنڈہ کے بھوپال ریڈی اور دیگر نے شرکت کی۔
بعد ازاں مسٹر جگدیش ریڈی نے بائیں بازو کی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ میڈیانمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پر روک لگانے کی ضرورت ہے جو ملک کی سا لمیت کو ٹھیس پہنچانے والے فیصلے لے رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی پرامن ماحول کو خراب کرکے عوام کو ذات پات اور طبقات میں تقسیم کرنے کی سازش کررہی ہے۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت یہیں دم نہیں لے گی بلکہ وہ تلنگانہ سمیت غیر بی جے پی ریاستوں کی ترقی اور بہبود میں رکاوٹ بنے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو روکنے کی ضرورت اب منگوڑ کے ضمنی انتخابات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔اس کا سامنا کرنے کی یہ طاقت چیف منسٹر مسٹر کے چند شیکھرراؤکی قیادت والی ٹی آر ایس پارٹی کے پاس موجود ہے۔
کے سی آر ترقی پسند قوتوں کو اپنے قافلہ میںشامل کرنے کے لئے پرعزم ہیں جو اس کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کو پلیٹ فارم کے طور پر لینا چاہئے اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر بی جے پی کے خلاف لڑائی شروع کرنی ضرورت بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کانگریس کمزو پڑ گئی ہے اور اس نے بائیں بازو کی پارٹیوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے
تاکہ ان طاقتوں کو متحد کیا جا سکے جو بی جے پی کی سخت مخالف ہیں۔ اس کیلئے ضروری کوآرڈینیشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیرموصوف نے واضح کیا کہ یہ تال میل قصبوں سے لے کر دور دراز کے دیہاتوں بلکہ ریاستی سطح تک جاری رہے گا۔ سابق ایم ایل اے سی پی آئی مسٹر پیینکٹ ریڈی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے ملک کو بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے اس سے قبل ایک اوپن ہاؤس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ریمارکس کا حوالہ دیا۔ اورتشویش کا اظہار کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت معاشی پالیسیاں غریب عوام پر بوجھ بن گئی ہیں۔ایسے حالات میں بی جے پی کے خلاف لڑنے کی ضرورت کو قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی مکمل طور پر کمزور ہونے پر ٹی آر ایس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ حالات میں بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کی طاقت صرف ٹی آر ایس کے پاس ہے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ایک حصہ کے طور پر انہوں نے واضح کیا کہ منگوڑضمنی انتخابات میں کس طرح کی حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا اس کو قطعیت دیدا گئی ہے۔سی پی ایم لیڈروسابق ایم ایل سی مسٹرچیروپلی سیتاراملو نے کہا کہ منگوڑضمنی انتخاب نے پورے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر بی جے پی کو شکست دینے کی ترقی پسند طاقتوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بی جے پی کو شکست دینے کی طاقت صرف ٹی آر ایس کے پاس ہے۔ اس پس منظر میں انہوں نے اعلان کیا کہ سی پی ایم نے آئندہ ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ بی جے پی کے خلاف لڑائی میں حصہ لیں جو آر ایس ایس کے نظریہ کو پھیلا کر ملک کے ماحول کو خراب کر رہی ہے۔
